ایشیاء کی کثیرالمقاصد ایجاد..محمد شریف شکیب

دنیا میں چند ہی ایسی ناقابل یقین ایجادات ہیں جنہیں کسی مخصوص مقصد کے لئے بنایاگیا تھا لیکن لوگوں نے اس کے استعمال کے سینکڑوں دیگر طریقے بھی ڈھونڈ نکالے۔ان کثیر المقاصد ایجادات میں چترالی شوقہ اورپشوری چارپائی شامل ہیں۔ شوقہ “چغہ”کو بیک وقت سردی سے بچنے کے لئے بالائی لباس، چادر، تکیہ، گدا، بیگ، بیت الخلاء، گھوڑے کی زین اور بروازی رقص میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح چارپائی بھی ایک ایسی خودکفیل تہذیب کی آخری نشانی ہےجو نئے تقاضوں اور ضرورتوں سے ہم آہنگ ہے ۔عہدرفتہ و موجودہ کی رنگارنگ مجلسی زندگی کا تصور چارپائی کےبغیر ممکن نہیں۔ اس کا خیال آتے ہی ذہن کےافق پر پہت سے سہانے منظر ابھر آتے ہیں۔ اجلی اجلی ٹھنڈی چادریں، خس کے پنکھے ، کچی مٹی کی صراحیاں، چھڑکاؤ سے بھیگی زمین کی سوندھی خوشبو اور آم کے لدے پھندے درخت جن میں اکثر آموں کے بجائے لڑکے لٹکے رہتےہیں۔یہ وہی چارپائی ہےجس کی سیڑھی بناکر سگھڑ بیویاں مکڑی کے جالے اور شرارتی لڑکے چڑیوں کے گھونسلے اتارتے ہیں۔ اسی چارپائی کو وقت ضرورت پٹیوں سے بانس باندھ کر اسٹیریچر بنا لیتے ہیں اسی پر بیٹھ کر مولوی اخلاقیات کے بنیادی اصول ذہن نشین کراتے ہیں۔ اسی پر نومولود بچے دودھ کی طلب میں روتے ہوئے ماوں کو بلاتے ہیں اور اسی پر دیکھتے ہی دیکھتے اپنے پیاروں کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔ نام کی مناسبت سے پائے اگر چار ہوں تو مناسب ہے ورنہ اس سےکم ہوں، تب بھی خلق خدا کے کام بند نہیں ہوتے۔ایک یا دو پائے ٹوٹ بھی جائین تو ان کی جگہ اینٹیں رکھ کر بھی کام چلایاجاتا ہے۔ ہماری نظر سے خراد کے بنے ایسے سڈول پائے بھی گزرے ہیں جنھیں چوڑی دار پاجامہ پہنانے کو جی چاہتا ہی۔ مباحثے اور مناظرے کے لیے چارپائی سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اس کی بناوٹ ہی ایسی ہےکہ فریقین آمنے سامنے نہیں بلکہ عموماً اپنے حریف کی پیٹھ کا سہارا لےکر آرام سے بیٹھتے ہیں اور بحث وتکرار کے لیے اس سے بہتر طرزنشست ممکن نہیں، کیونکہ دیکھا گیا ہےکہ فریقین کو ایک دوسرے کی صورت نظر نہ آئے تو کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے۔ اسی بنا پر میرا دعوی ہے کہ اگر بین الاقوامی مذاکرات گول میز کے بجائے چارپائی پر بیٹھ کر کئے جاتے تو لاکھوں جانیں تلف ہونے سےبچ جاتیں۔ چارپائیوں پر لوگ پیٹ بھرکے اپنوں کے غیبت کرتے ہیں مگر دل برے نہیں ہوتے۔ اس لیےکہ سبھی جانتےہیں کہ غیبت اسی کی ہوتی ہے جسے اپنا سمجھتے ہیں ۔لوگ گھنٹوں چارپائی پر پہلو بدل بدل کر بیٹھے رہتے ہیں مگر کوئی اٹھنے کا نام نہیں لیتا۔ کیونکہ ہر شخص بخوبی جانتا ہے کہ اگر وہ چلا گیا تو فوراً اس کی غیبت شروع ہو جائےگی۔ چنانچہ پچھلے پہر تک مرد ایک دوسرے کی گردن میں ہاتھ ڈالے بحث کرتے ہیں اور عورتیں لڑتی رہتی ہیں۔ فرق اتنا ہےکہ مرد پہلےبحث کرتے ہیں، پھر لڑتے ہیں۔ عورتیں پہلےلڑتی ہیں اور بعدمیں بحث کرتی ہیں۔ مردوں کی نسبت خواتین کا طریقہ زیادہ معقول نظر آتا ہے، اس لیے کہ اس میں آئندہ سمجھوتے اور میل ملاپ کی گنجائش باقی رہتی ہے۔تنگ سےتنگ چارپائی پر بھی لوگ ایک دوسرے کی طرف پاؤں کرکے سوتے رہتے ہیں۔جو لوگ چارپائی پر بیٹھنے یا لیٹنے کے عادی ہوتے ہیں انہیں قیمتی یورپین فرنیچر پر بیٹھ کر کبھی مزا نہیں آتا۔کیونکہ صوفے پر آپ اکڑوں نہیں بیٹھ سکتے۔ وہاں دسترخوان نہیں بچھا سکتے۔لیکن یہ سارے کام چارپائی پر بیٹھ کر کئے جاسکتے ہیں۔نامور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کا کہنا ہے کہ ایشیا نے دنیا کو دو نعمتوں سے روشناس کرایا۔ان میں چائے اور چارپائی شامل ہیں ان دونوں میں یہ خاصیت مشترک ہےکہ دونوں سردیوں میں گرمی اور گرمیوں میں ٹھنڈک پہنچاتی ہیں۔ اگر گرمی میں لوگ کھری چارپائی پر سوار رہتے ہیں تو برسات میں یہ لوگوں پر سوار رہتی ہے اور کھلی ہوامیں سونے کے رسیا اسے اندھیری راتوں میں برآمدے سےصحن اور صحن سے برآمدے میں سر پر اٹھائے پھرتے ہیں۔عربی زبان میں میں اونٹ کے اتنے نام ہیں کہ دوراندیش مولوی اپنے ہونہار شاگردوں کو پاس ہونے کا یہ گر بتاتے ہیں کہ اگر کسی مشکل لفظ کے معنی معلوم نہ ہوں تو سمجھ لو کہ اس سے اونٹ مراد ہے۔ اسی طرح اردو میں چارپائی کی جتنی قسمیں ہیں اس کی مثال اور کسی ترقی یافتہ زبان میں شاید ہی مل سکے۔ چارپائی کو برصغیر کے مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہے جن میں کھاٹ، کھٹا، کھٹیا، کھٹولہ، اڑن کھٹولہ، کھٹولی، کھٹ، چھپرکھٹ، کھرا، کھری، جِھلگا، پلنگ، پلنگڑی، ماچ، ماچی، ماچا، چارپائی، نواری، مسہری، منجی شامل ہیں۔یہ نامکمل سی فہرست چارپائی کی ہمہ گیری پردلالت کرتی ہے اور ہمارے تمّدن میں اس کا مقام ومرتبہ متعین کرتی ہے۔تہذیب کے جس نازک دور میں غیور مرد چارپائی پر دم توڑنے کی بجائےجنگ میں دشمن کے ہاتھوں بےگوروکفن مرنا پسند کرتےتھے، اسی قسم کی مردم آزار چارپائیوں کا رواج ہوگا۔ لیکن اب جب دشمن سیانے اور چارپائیاں زیادہ آرام دہ ہو گئے ہیں، مرنے کے اور بھی معقول اور باعزت طریقےدریافت ہو گئے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ہاں ایک اوسط درجہ کے آدمی کی دو تہائی زندگی چارپائی پر اور بقیہ اس کی آرزو میں گذرتی ہے۔جس زمانے میں وزن کرنےکی مشین ایجاد نہیں ہوئی تھی تو شائستہ عورتیں چوڑیوں کےتنگ ہونے اور مرد چارپائی کے بان کے دباؤ سےدوسرے کے وزن کا تخمینہ کرتےتھے۔اس زمانےمیں چارپائی صرف میزان جسم ہی نہیں بلکہ معیار اعمال بھی تھی۔ نتیجہ یہ کہ جنازے کو کندھا دینے والے چارپائی کے وزن کی بنا پر مرحوم کے جنتی یا اس کے برعکس ہونےکا اعلان کرتے تھے۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ہمارےہاں دبلے آدمی کی دنیا اور موٹےکی عقبی عام طور خراب تصور کی جاتی ہے۔ برصغیر میں چند علاقے ایسے بھی ہیں جہاں اگر چارپائی کو آسمان کی طرف پائینتی کرکےکھڑاکر دیا جائے تو ہمسائے تعزیت کو آنے لگتے ہیں۔ سوگ کی یہ علامت بہت پرانی ہے قدرت نے اپنی رحمت سےصفائی کا کچھ ایسا انتظام رکھا ہےکہ ہر ایک چارپائی کو سال میں کم ازکم دومرتبہ کھول کر اس میں چھپے ہوئے کٹملوں کے خلاف آپریشن کیا جاتا ہے۔جونفاست پسند حضرات جان پر بننے والے ان کیٹروں کی جان لینےکا یہ طریقہ جائز نہیں سمجھتے وہ چارپائی کو الٹا کرکے چلچلاتی دھوپ میں ڈال دیتے ہیں۔ پھر دن بھر گھر والے کھٹمل اور محلے والے عبرت پکڑتےہیں۔الٹی چارپائی کو قرنطینہ کی علامت جان کر راہ گیر راستہ بدل دیں تو تعجب نہیں۔ یہاں تک کہ فقیربھی ایسے گھروں کے سامنے صدا لگانا بند کر دیتے ہیں۔چارپائی سے پراسرار آوازیں نکلتی ہیں، ان کا مرکز دریافت کرنا اتنا ہی دشوار ہے جتنا کہ برسات کی اندھیری رات میں کھوج لگانا کہ مینڈک کے ٹرانے کی آواز کدھر سے آئی۔ ایک خودکار الام کے طور پر یہ شب بیداری اور سحرخیزی میں مدد دیتی ہے۔ بعض چارپائیاں اس قدرچغل خور ہوتی ہیں کہ ذرا کروٹ بدلیں تو دوسری چارپائی والا کلمہ پڑھتا ہوا ہڑبڑاکر اٹھ بیٹھتا ہے۔ اگر پاؤں بھی ہلائین تو کتے اتنے زور سے بھونکتے ہیں کہ چوکیدار تک جاگ اٹھتے ہیں۔ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہےکہ لوگ رات بھر نہ صرف ایک دوسرے کی جان ومال بلکہ چال چلن کی بھی چوکیداری کرتے رہتےہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر آپ ہی بتائیے کہ رات کو آنکھ کھلتے ہی نظر سب سے پہلے پاس والی چارپائی پر کیوں جاتی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔