حکومت کی مونٹائزیشن پالیسی….محمد شریف شکیب

خیبرپختونخوا کی نگران حکومت نے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کی مونٹائزیشن کا فیصلہ کیا ہے۔ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق محکمہ خزانہ نےکار مونٹائزیشن پالیسی کے تحت نگران صوبائی حکومت کو تجاویز ارسال کردی ہیں۔پالیسی کے تحت سرکاری افسر اپنے تصرف میں موجود ایک گاڑی تین اقساط میں خریدسکےگا۔گاڑی کی قیمت اس کی تنخواہ سے دو یا تین قسطوں مین کاٹی جائے گی۔یا پھر متعلقہ افسر کو گاڑی کی رقم یک مشت یا قسطوں میں ادا کرنی ہوگی۔نگراں حکومت کا موقف ہے کہ مختلف سرکاری محکموں میں ماضی میں کی گئی اضافی بھرتیوں کے باعث خزانے میں تنخواہ کے پیسے نہیں۔پالیسی کے تحت ایک افسر کو ایک ہی گاڑی خریدنے کی اجازت ہوگی۔ سرکاری افسران کو خریدی گئی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹ لگانے کی اجازت ہوگی۔مونٹائیزیشن پالیسی میں ریسکیو 1122، پولیس موبائل اور میونسپلٹی کی گاڑیاں شامل نہیں ہوں گی، ان کی سرکاری حیثیت برقرار رکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔پالیسی کے تحت صوبے کے مختلف سرکاری محکموں کے پاس موجود 40 ہزار سے زائد سرکاری گاڑیاں افسران کو فروخت کی جائیں گی جس سےصوبے کو 10 ارب روپے آمدن کی متوقع ہے۔نگراں صوبائی حکومت نے سرکاری محکموں کے لئے نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔گاڑیاں خریدنے والے سرکاری افسران کو ڈرائیور کی سہولت نہیں دی جائے گی اور ان گاڑیوں کے پٹرول اور مرمت کے اخراجات بھی وہ خود برداشت کرین گے۔مونٹائزیشن پالیسی میں کچھ امور ہنوز حل طلب ہیں۔ جن کی نگراں حکومت نےوضاحت نہیں کی۔ ہمارے ہاں ہر سرکاری محکمے کے پاس چالیس پچاس گاڑیاں ہوتی ہیں لیکن ان محکموں میں گریڈ سترہ سے بائیس تک کے افسروں کی تعدادسینکڑوں میں ہے۔ یہ واضح نہیں کہ کس گریڈ کا افسر سرکاری گاڑی خریدنے کا مجاز ہوگا۔ اگر تمام سرکاری افسروں کے پاس موجود گاڑیاں ان پر مارکیٹ ریٹ کے مطابق فروخت کی جائیں تو قومی خزانے کو کم از کم پچاس ارب روپے مل سکتے ہیں۔صوبے کےمختلف تھانوں میں ہزاروں کی تعداد میں پکڑی گئی گاڑیاں کھڑی ہیں اکثر تھانوں میں یہ گاڑیاں بے ترتیبی سے ایک دوسرے کے اوپر پھینکی گئی ہیں۔ ڈبگری گارڈن میں بی آر ٹی سٹیشن کے قریب کھلی جگہ سینکڑوں ایسی گاڑیاں موجود ہیں جو کئی سالوں سے دھوپ اور بارش کی وجہ سے خراب ہوچکی ہیں اور قوم کا اربوں کا نقصان ہورہا ہے۔ ان میں مختلف ماڈل اور معیار کی چھوٹی بڑی گاڑیاں شامل ہیں۔یا تو یہ گاڑیاں جرمانہ وصول کرکے مالکان کو واپس کی جائیں پاپھر انہیں مرمت کرکے نیلام کیا جائے اس سے قومی خزانے کو اربوں کی آمدنی ہوسکتی ہے۔ہمارا صوبہ اکثر مالی بحران سےدوچاررہتاہے۔صوبے کے پاس خالی سرکاری زمین، گاڑیاں اور دیگر اثاثے موجود ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں سرکاری عمارتیں موجود ہیں جن کا کرایہ موجودہ دور میں بھی دو چار سو روپے مقرر ہے۔ اور جن کے نام پر یہ عمارتیں اور دکانیں ہیں انہوں نے یہ عمارتیں اور دکانیں ہزاروں روپے کرائے پر چڑھا رکھے ہیں۔ اگر یہ عمارتیں اور جائیدادیں مالکانہ حقوق کے ساتھ کھلی بولی کے ذریعے نیلام کی جائیں تو صوبے کو اربوں روپے مل سکتے ہیں۔ دستیاب وسائل سےبھرپور استفادہ کرکے صوبے کو معاشی بحران سےنکالا جاسکتا ہے۔ نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پا پانچ دس سال کے لئے مکمل پابندی اور دستیاب گاڑیاں سرکاری افسروں اور اہلکاروں کو مارکیٹ ریٹ پر فروخت کرنے کی پالیسی خود انحصاری کی طرف اہم قدم ہے توقع ہے کہ یہ عمل شفاف طریقے سے اور جلد از جلد مکمل کیاجائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔