نظام اسلام ہی مسائل کا واحد حل۔۔۔محمد شریف شکیب

سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نےانکشاف کیا ہے کہ وفاق کے پاس پھوٹی کوڑی نہیں، وہ صوبوں کو کیا دے گا۔وہ خود کنگال ہے۔ جس ملک کے وسائل کا 55فیصد حصہ بیرونی قرضوں کی اقساط اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہوجائے وہ کیسے ترقی کرے گا۔ہم نے انگریزوں کے بنائے ہوئے نظام کو گلے لگارکھا ہے نظام تبدیل کئے بغیر ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ قومی اسمبلی کے ایک رکن کے پاس چھ لگڑری گاڑیاں ہوتی ہیں بڑے سرکاری افسروں کے پروٹوکول میں آگے پیچھے تیس سے چالیس گاڑیاں ہوتی ہیں ان سے کوئی پوچھنےوالا نہیں کہ ان گاڑیوں کا فیول کہاں سے آتا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے پاس کرپشن کے ہزاروں مقدمات ہیں نیب والے بتائیں کہ انہوں نےکتنے کرپٹ لوگوں کو سزائیں دلوائین اور ملک کا لوٹا ہوا پیشہ وصول کیا ہے۔شاہد خاقان عباسی کی باتوں میں وزن ہے۔وہ اس سیاسی نظام کا کئی عشروں سے حصہ رہے ہیں وہ وزارت عظمی کے اعلی ترین عہدے پر فائز رہے ہیں۔انہیں نظام میں موجود خرابیوں کا بخوبی علم ہے۔ موجودہ حکمران اتحاد میں رہتے ہوئے وہ حکومت کی بے بسی اور سسٹم کی خرابی کی بات کررہے ہیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیںکہ ہمارا ملک خرابی کی کس نہج پر پہنچ چکا ہے۔پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ٰغریب سے ٹیکس لے کر امراء عیاشیاں کرتے ہیں۔ بااثر لوگوں کے سامنے قانون بھی بے بس ہے۔مرغی چوری کرنے والا پوری زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتا ہے جبکہ اربوں روپے کی کرپشن کرنے والوں کو قانون کے رکھوالے ہاتھ بھی نہیں لگاتے۔جمہوریت میں پارلیمانی نظام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سب سے کامیاب نظام سمجھا جاتا ہے مگر ہمارے ملک میں یہ نظام بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔اس کے باوجود ہم اس نظام کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں کیونکہ اس نظام سے بااثر لوگ فائدہ اٹھارہے ہیں وہ نظام میں تبدیلی کی راہ کی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ قانون بھی ان کےگھر کی لونڈی ہے۔ وہ جسےچاہیں سزا دےسکتے ہیں اور جیسا چاہیئں قانون کی تشریح کرسکتے ہیں۔ برطانیہ، جاپان،فرانس،جرمنی،امریکہ ،ہالینڈ ، ناروے اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی جمہوری نظام رائج ہے۔ وہاں کے صدور اور وزرائے اعظم کو ایک بنگلہ اور ایک گاڑی سرکاری طور پر مہیا کی جاتی ہے۔ اپنی گاڑی وہ خود چلاتےہیں۔ٹریفک سگنل پر صدر اور وزیراعظم کو بھی قطار میں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے گھر کا سودا سلف خود خریدتے ہیں اپنے بچوں کو خود سکول لے جاتے ہیں۔ہمارے ہاں گریڈ اٹھارہ سےاوپر کے افسران اور سیاست دان خود کوخلائی مخلوق اورعام لوگوں سے برتر سمجھتے ہیں۔جب وہ گھر سے دفتر کےلئے نکلتے ہیں تو ان کےآگے پیچھےہوٹر بجاتی ہوئی پولیس کی درجنوں گاڑیاں ہوتی ہیں ان کی گذرگاہوں پر ٹریفک کو آدھا گھنٹہ پہلے بلاک کردیا جاتا ہے اور وی آئی پی موومنٹ کےوقت پرندے کوبھی اس گذرگاہ کے اوپر سے گذرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ انہی عیاشیوں کی وجہ سے وہ کرسیوں سےچمٹے رہتےہیں۔بدقسمتی سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ملکوں میں سیاست کو خدمت کا ذریعہ نہیں، بلکہ پیشے کے طور پر اختیار کیاجاتاہے۔اور پھر وہ موروثی بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سیاست دان آلو پانچ روپے کلو بتاتا ہے جبکہ دوسرا پچاس روپے درجن بتاتا ہے۔ جب انہیں آٹے دال کا بھاو ہی معلوم نہ ہو۔ تو وہ عام آدمی کو درپیش مسائل کا ادراک کیسے کرسکتے ہیں۔اگر موجودہ نظام مزید برقرار رہا تو عوام کا سیاست اور قومی اداروں پر سےاعتماد اٹھ جائے گا۔اور ملک انارکی کی طرف جاسکتا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ارباب اختیار و اقتدار نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے نظام میں عوامی امنگوں کے مطابق تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔زیادہ مغزماری کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس اسلام کے عادلانہ نظام کا تصور موجود ہے۔اسے نافذ کریں اور دنیا کے لئے مثال بن جائیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔