سانحہ یونان، مجرم کون؟۔۔۔محمد شریف شکیب

جنوبی یونان کے ساحل پر ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی کشتی ڈوبنے سے ساڑھے تین سو پاکستانیوں سمیت ساڑھے سات سو افراد ڈوب گئے جن میں سے ایک سو چار افراد کو زندہ بچا لیا گیا جبکہ چھ سو افراد سمندر میں ڈوب گئے۔وزارت خارجہ نے حادثے میں 12 پاکستانی شہریوں کے زندہ بچ جانے کی تصدیق کی ہے ڈوبنے والوں کا تعلق گجرانوالہ، گجرات، شیخوپورہ، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، گجرات اور ضلع کوٹلی آزاد کشمیر سے تھا جو سہانے مستقبل کی تلاش میں ساری کشتیاں جلا کر غیر قانونی طریقے سے یورپ جانےکی کوشش کر رہے تھے۔بچنے والے تارکین وطن نے کوسٹ گارڈز کو دیے بیان میں کہا ہے کہ پاکستانیوں کو کشتی کے نچلے حصے میں سوار کروایاگیا تھادوسرے ممالک کے تارکین وطن کشی کے اوپر والے حصے میں سوار تھے کسی حادثے کی صورت میں پاکستانیوں کے بچنے کے امکانات بہت کم تھے۔انسانی سمگلنگ میں ملوث مرکزی ایجنٹ کی معاونت کرنے والے نو مقامی افراد کو گرفتار کر لیاگیا ہے جبکہ مرکزی ملزم کو ایف آئی اے نے کراچی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا تھا۔حکومت پاکستان کی طرف سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے تمام انسانی اسمگلروں کی نشاندہی کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جو لوگوں کو اچھے مستقبل کا جھانسہ دے کر خطرناک اقدامات پر مجبور کرتے ہیں۔یونان کی کوسٹ گارڈ فورس پر کشتی الٹنے سے قبل مدد فراہم نہ کرنے کاالزام عائد کیا جارہا ہے۔یونان کے نگران وزیرِ اعظم ایونس سارمس نے اصل حقائق اور تکنیکی امور کی جامع تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ کشتی ڈوبنے کی وجوہات کا تعین ہوسکے۔ اقوامِ متحدہ کے ایک اعلامیے میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق سمندر میں مشکلات میں گھرے افراد کو ریسکیوکرنا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ بین الاقوامی میری ٹائم قانون کا بنیادی اصول ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یونان کے سیکورٹی اداروں کی طرف سے تارکین وطن کی کشتیوں کو واپس بھیجنے کے 540 واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں۔لاپتہ ہونے والے پاکستانیوں کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ کوئی دو ماہ پہلے یورپ جانے کے لیے گھروں سے نکلے تھے۔کوٹلی آزاد کشمیر کے چوہدری ناصر بھی لاپتہ ہونے والوں میں شامل ہیں۔ان کے گھر سے نکلنے کے چند ہفتوں بعد اس کے پانچ سالہ بیٹے کی وفات ہو گئی۔ دونوں باپ بیٹا ایک دوسرے کے ساتھ بہت محبت کرتے تھے لوگوں کا کہنا ہے کہ بیٹا باپ کی جدائی برداشت نہیں کر سکا۔اور دم توڑ گیا۔ جب بیٹے کی وفات ہوئی تو چوہدری ناصر لیبیا میں تھے اور چاہتے تھے کہ وطن واپس آ جائیں مگر ان کا پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات ایجنٹ کے پاس تھے۔ ناصر کو اس کے بیٹے کی نماز جنازہ لائیو کال کے ذریعے دکھائی گئی۔ اس موقع پر وہ رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ جس بیٹے کے لیے اتنی مشکلات سہہ رہا ہوں اب وہ ہی نہیں رہا تو میں یورپ جا کر کیا کروں گا۔بتایا جاتا ہے کہ انسانی سمگلر لوگوں سے پانچ سے دس لاکھ روپے تک لیتے ہیں انہیں یورپ پہنچنے والوں کی وڈیوز دکھا کر پھانس لیا جاتا ہے پھر انہیں رات کے اندھیرے میں کشتیوں کے ذریعے بھیجا جاتا ہے وہ ایران، لیبیا، ترکی اور یونان کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں صرف دس فیصد تارکین وطن اٹلی، فرانس، جرمنی،یونان اور دیگر ملکوں میں پناہ لینے میں کامیاب ہوتے ہیں پچاس فیصد کو واپس بھیجا جاتا ہے بیس فیصد تارکین وطن اپنی نامعلوم منزل پر پہنچنے سے پہلے ایسے المناک حادثات سے دوچار ہوتے ہیں۔اپنے بال بچوں، گھر بار، دوست احباب اور اپنی مٹی کو چھوڑ کر خاندان کے اچھے مستقبل کی تلاش میں خطرناک مہم جوئی کرنے والے اکثر نوجوان تعلیم یافتہ بے روزگار ہوتے ہیں۔یہ لوگ کئی مہینوں تک سفر میں رہتے ہیں۔کئی ہفتے جنگلوں اور غاروں میں رہتے ہیں۔کئی دنوں تک بھوکے پیاسے رہتے ہیں اور تصور کی منزل تک پہنچنے سے پہلے موت کی وادی میں اترجاتے ہیں۔جو نہ صرف ٹیلنٹ کا ضیاع بلکہ ملک کے لئے بدنامی کا باعث ہے۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قیمتی جانوں سے کھیلنے والے انسانی سمگلروں کا قلع قمع کرے۔تاکہ پھر کسی ماں کی گود، بچوں کا دست شفقت اور سہاگنوں کا سہاگ نہ اجڑے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔