دادبیداد..حق اورحقدارکی بحث…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

چترال کے دور دراز دیہات میں واقع ڈاک خانوں میں سکیل ایک سے لیکر سکیل5 تک15آسامیوں پربٹ خیلہ اور دیگرمقامات سے لوگوں کوبھرتی کرکے مقامی نوجوانوں کی حق تلفی کا معاملہ ان دنوں قومی اسمبلی سے لیکر دیہات کے چوباروں اور بازاروں تک ہرجگہ موضوع بحث بناہوا ہے معاملہ انسانی حقوق اور شہری حقوق کے نقطہ نظر سے بھی اہم ہے مگر اس کی اہمیت عید کے دنوں میں اس لئے دوچند ہوئی کہ حق تلفی کرکے چترال کے بے روزگار نوجوانوں کو ان کے جائز حق سے محروم کرنے والے اپنی غلطی کا دفاع کرنے لگے اور دکھ کی بات یہ ہے کہ خاصے نیک،سنجیدہ اور بے داغ کردارکے حامل لوگوں نے بھی مختلف حیلے بہانے ڈھونڈ کر ظلم اور ناانصافی کا دفاع کیا۔
چترال کی مقامی آبادی میں اتنا غم اور غصہ پیدا ہواکہ ناجائز ذرائع استعمال کرکے سکیل ایک سے سکیل5تک کی نوکریاں حاصل کرنے والے ڈیوٹی کی جگہ نہ ٹھہر سکے اور حاضری لگانے کے دوسرے دن بھاگ گئے۔چنانچہ پہلے ایک حق تلفی ہوئی تھی چترال کے بے روزگار نوجوانوں کا روزگار دوسروں نے چھین لیاتھا اب دوسری حق تلفی اس طرح ہوئی کہ بھاگے ہوئے ڈاکیے اب60سال کی عمر تک بٹ خیلہ میں بیٹھ کرچترال کے نام پر تنخواہ اور دیگر مراعات لیتے رہینگے اور ہمارے ڈاک خانے ڈاکیہ اور چھٹی رسان کی شکل وصورت کو یونہی ترستے رہینگے سرکاری محکموں میں بسااوقات ناانصافی ہوتی ہے اگر محکمے کا وزیردیانت دار اور امانت دار ہو بے داغ شخصیت مالک ہوتو ناانصافی کا ازالہ کیاجاتا ہے چترال کے ڈاک خانوں کے ساتھ جس نے ناانصافی کی ہے اُس کاکردار بے داغ نہیں اس لئے وہ ناانصافی کا دفاع کررہا ہے اور ناانصافی پر بات کرنے والوں کا دھمکیاں دے رہا ہے گویا ”چوری اور سینہ زوری“والا معاملہ چل رہا ہے نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارک ہم نے علمائے حق سے سنی ہے کہ اپنے بھائی کی مدد کروچاہے وہ ظالم ہو یامظلوم؟صحابہ کرامؓ نے عرض کیا ہم مظلوم کی مدد کرینگے مگرظالم کی کیسی مدد کریں؟نبی کریمﷺ نے فرمایاظالم کوظلم سے روکنا اس کی مدد ہے وہ دنیا اور آخرت کی رسوائی سے بچ جائے گا۔ڈاک خانے کاوزیر ہمارا بھائی ہے ہم اس کو ظلم سے روکنے کے بجائے اس کا دفاع کرکے مظلوموں پر غصہ اُتاررہے ہیں۔چترال کے15بے روزگار نوجوانوں کا حق کس طرح مارا گیا؟اس پر انکوائری کی ضرورت ہے انکوائری کے لئے جو ٹرمز آف ریفرنس(TOR) بنینگے اس میں چار اہم سوالات کوشامل کرکے ان کاجواب حاصل کیا جائے تودودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔پہلا سوال یہ ہے کہ سینئر افیسروں کو سندھ بھیج کرجونئیر افیسروں کوان کی جگہ کیوں اور کس کے حکم سے بٹھایا گیا؟دوسرا سوال یہ ہے کہ چترال کے ڈاک خانوں میں خالی اسامیوں کوپُر کرتے وقت فیڈرل گورنمٹ سروسز رول کبینٹ سکرٹریٹ اسٹبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے جاری کردہ مراسلہ نمبرF-53/1/2008کوکس وجہ سے پس پشت ڈالا گیا،مراسلے میں صاف لکھا ہے کہ سکیل ایک سے لیکر سکیل 5تک تمام اسامیاں مقامی طورپر دستیاب امیدوارو ں سے پُرکی جائینگی۔اس رول اور قاعدے میں یہ ذکر نہیں ہے کہ کوئی وزیر اگرچاہے توبٹ خیلہ سے ڈاکیہ بھرتی کرکے یارخون،مستوج اور گرم چشمہ بھیج دیگا اس پرقواعد وضوابط کا اطلاق نہیں ہوگا اگر چترال کے15بے روزگار نوجوانوں نے عدالت میں جاکراپنا حق مانگا تو ان کا حق ضرور ملے گا۔انکوائری میں تیسرابڑا سوال یہ ہونا چاہئیے کہ خالی اسامیوں کیلئے چترال کے کتنے نوجوانوں نے درخواستیں جمع کی تھیں ان کو کن اصولوں کی بنیاد پر مسترد کیا گیا؟چوتھا سوال یہ ہوگا کہ مقامی پوسٹوں پر غیر مقامی افراد کی بھرتی میں بھتہ خوری کے جو الزامات سامنے آئے ہیں ان الزامات کی حقیقت کیا ہے؟اگربھتہ خوری کاعمل دخل نہیں تھا تو سینئر افیسر کو سندھ بھیج کرسب سے جونیر آدمی کوان کی جگہ کیوں لگایا گیا ڈاک خانے کے وزیرکا دامن اگر صاف ہے تو متنازعہ بھرتیوں کو ضرور منسوخ کرے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔