تازہ ترینمضامین

ثاقب سرور کو اُن کے کار ہائے نمایاں پر حکومت پاکستان کی طرف سے نقد انعام سے نوازا جائے..تحریر: شمس الحق قمر بونی

پولو چترال اور گلگت بلتستان کا قومی کھیل ہے ۔ یہاں کے باسی اسی کھیل کو دیکھنے کےلیے نہ صرف گھرہستی کی تمام سرگرمیاں چھوڑ کے بلکہ لاکھوں کا خرچہ کرکے شندور میں ڈیرا ڈالتے ہیں ۔ بلکہ پچھلے دنوں میڈیا میں یہ بھی دکھایا گیا کہ علاقہ کوشٹ سے پولو کا ایک رسیا اپنی بوری بستر اور زادِ راہ اٹھا کر میلوں کی مسافت طے کر کے پیدل چل کے شندور پہنچ گیا تھا ۔ شندور میں کھیلوں کےآغاز کے ساتھ چترال کے عبادت خانوں میں خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں ۔ یہ دعائیں صرف اس لیے نہیں کہ ہمارے کھلاڑی کھیل اپنے نام کر دیں بلکہ اسلیے کہ ۲۵۰۰ فٹ کی بلندی پر بغیر تلوار کے دو بھائیوں کے مابین پولو کی صورت میں لڑی جانے والی جنگ امن پر منتج ہو۔ شندور پر اس کھیل کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے ۔ اس کھیل کو دیکھنے کےلیے دنیا کے مختلف کونوں سے شائقین سال کی شروعات میں اپنی چھٹیوں کو شیڈول کرکے جولائی میں پاکستان پہنچا شروع ہوتے ہیں ۔ مجھے یاد ہے ۲۰۰۶ میں ، میں کسی پیشہ وارنہ ٹریننگ کے سلسلےمیں بنگلہ دیش میں تھا ۔تو ہوٹل کے ھال میں بڑا شورشرابا ہوا ۔ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ کسی مشتعل ہجوم نے ہوٹل پر دھاوا بولا ہے لیکن باہر نکل کے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ہوٹل کے کچھ اسٹاف اور مہمان ایک بڑے اسکرین پر شندور میں کھیلا جانے ولا پولو دیکھ دہے رہے تھے ۔ ہمارے پاس اسی ہوٹل کا عزیز نام کا ایک پاکستان ڈارئیور مخصوص تھا ۔ میں نے عزیز سے پوچھا تو اُس نے مجھے بتا یا کہ یہ لوگ ہر سال یہ میچ بڑے شوق سے دیکھتے ہیں ۔ اُن کو یہ معلوم نہیں کہ گلگت اور چترال ایک ہی ملک کے دو پڑوسی علاقے ہیں بلکہ اُن کے خیال میں گلگت الگ ملک ہے جو چترال کے ساتھ پولو کھیلتا ہے ۔
ظاہر ہے کھیل کو تقویت دینے اور پھر سیاحوں کو یہ کھیل دیکھنے کےلیے پاکستان آنے کی رغبت دلانے میں میڈیا کا بڑا ہاتھ ہے ۔آپ کو یاد ہوگا کہ شندور سے ہر سال اس میلے کو براہ راست دکھایا جاتا تھا ۔ لیکن اس سال ملک کی مفلوک الحالی کا یہ عالم کہ دنیا بھر میں مشہور کھیل پولو جوکہ دشمن ملک کے دروازے میں بیٹھ کر دنیا کے سر پر کھیلا جاتا ہے ،کو پاکستان اور پاکستان سے باہر لوگوں کو براہ راست دکھانے میں ہمارے ملک کی راہ میں معاشی کم دستی آڑے آئی جو کہ کسی اچھے ملک کےلیے بے حد افسوس ناک بات ہے ۔ ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ ہمارے ٹیلی وژن چینل خاص کر پاکستان ٹیلی وژن نے کروڑوں روپے براہ راست نشریات کے لیے مانگے ۔ لیکن ہم نے یہ سنا ہے کہ شندور کی مد میں یہاں بہت پیسہ آتا اور اُڑیا جاتا ہے ۔اس سے بھی شرم ناک بات حکومت وقت اور ہمارے نام نہاد ٹلی وژن چینلوں کےلیے یہ ہے کہ چترال سے ایک نوجواں نے اپنی محنت آپ کے تحت شندور میں ہونے والے پولو میج کو پوری دنیا میں نہ صرف براہ راست دکھانے بلکہ غیر جانبدارانہ تبصرے کے ساتھ دکھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شندور کے نام پر کروڑوں روپے کا فنڈ جاتا کدھر ہے ؟
حکومت پاکستان کو اس معاملے پر سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے نوجوان ثاقب سرور نے کتنا بڑا کار نامہ انجام دیا ہے ۔ میں چونکہ گلگت میں مقیم ہوں یہاں بہت ساری جگہوں سے اطلاعات ملیں کہ لوگوں نے اپنے مبائل ٹیلی وژن کے ساتھ پیوست کرکے ثاقت سررو کی براہ راستہ نشریات دیکھیں ۔ ہم حکومت وقت سے اس ضمن میں چند ایک ضروری مطالبات کرتے ہیں کہ :
1. یہ کہ ثاقب سرور کو اس کار ہائے نمایاں پر کروڑوں میں نہیں تو لاکھوں میں نقد انعام دیا جائے
2. ثاقب سرور کو جدید ٹکنالوجی سے لیس کر کے اگلے سال شندور سے برارہ راست کیا جائے اور اُنہیں سیکنڈوں کے حساب سے ادئگی کی جائے ۔
3. کسی تیلی وژن کو یہ کام نہ سونپا جائے کیوں کہ ٹیلی وژن کے صحافی سیاست پر بہترین تبصرے کرتے ہیں اور پولو پر تبصرہ اُن کا کام نہیں ہے
مجھے اُمید ہے کہ ان مطالبات کی تائید کرنے اور عملی جامہ پہنانے کے لیے چترال کی پولو کمیونٹی اور شائقین پولو پیش پیش ہوں گے

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔