شہدائے وطن کو سلام عقیدت…محمد شریف شکیب

نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکی خواہش پر جو جنگ شروع کی گئی تھی۔ اس میں خیبر پختونخوا میدان جنگ بنا رہا اور خیبر پختونخوا پولیس نے فرنٹ لائن فورس کا کردار ادا کیا۔ اس جنگ میں ہماری پولیس کے تقریبا دو ہزار افسران اور اہلکار اب تک ایندھن بن چکے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں دو ایڈیشنل آئی جی، دو ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی، چھ ایس پیز، ایک اے ایس پی، 23ڈی ایس پیز، 37انسپکٹرز، 153سب انسپکٹرز، 144اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، 224کانسٹیبلز اور 1392ایف سیز شامل ہیں۔وطن پر جانیں نچھاور کرنے والوں میں صفت غیور، ملک سعد اور عابد علی جیسے بہادر افسران شامل ہیں۔قوم ان شہداء کے خوان کے ایک ایک قطرے کی مقروض ہے۔سب سے زیادہ شہادتیں پشاور میں ہوئیں۔یہاں خود کش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 358پولیس افسران اور اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں 221، بنوں میں 211، سوات میں 136، مردان میں 126، کوہاٹ میں 106پولیس افسروں اور اہلکاروں نے اپنی جانیں وطن پر نچھاور کردیں۔چارسدہ میں 86، نوشہرہ50، صوابی55، ہنگو38، لکی مروت53، لوئراور اپر دیر 59، چترال گیارہ، خیبر 26ٹانک 32، شانگلہ29اور بونیرمیں 30پولیس افسران اور اہلکار شہید ہوئے۔2001کے بعد کوئی سال ایسا نہیں گذراجس میں پولیس کا جانی نقصان نہ ہوا ہو۔پولیس سویلین فورس ہے جس کا کام امن و امان کے قیام میں سول انتظامیہ کی مدد کرنا ہے۔ پولیس فورس کے اہلکار یخ بستہ سردی، شدید گرمی، آندھی، طوفان، بارش اور دیگر موسمی سختیوں کی پروا کئے بغیر ساری رات سڑکوں پر گشت کرتے رہتے ہیں جس کی بدولت شہری سکون سے اپنے گھروں میں سکھ کی نیند سوتے ہیں۔قدرتی آفات ہوں یا ٹریفک حادثات، سب سے پہلے پولیس اہلکار وہاں پہنچتے اور امدادی سرگرمیاں شروع کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کے علاوہ ڈاکووں، قاتلوں، رہزنوں، چوروں، نقب زنوں اور دیگر جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف یہی فورس سرگرم عمل رہتی ہے۔سڑکوں پرٹریفک کو کنٹرول کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ انسداد پولیو مہم سے لے کر سکولوں کی داخلہ مہم، مردم شماری اور انتخابات کے دوران بھی سیکورٹی کی ذمہ داری پولیس انجام دیتی ہے۔خیبر پختونخوا پولیس جس کسمپرسی کی حالت میں اپنے فرائض منصبی انجام دیتی ہے اور امن کی خاطر اپنی جانوں کانذرانہ دیتی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے کہ آج بھی صوبے کے بیشتر تھانے چاردیواری کی سہولت سے محروم ہیں۔بعض تھانوں اور چوکیوں میں پانی اور بجلی کی سہولت بھی میسر نہیں۔ اکثر تھانوں کاعملہ سپرداری کی گاڑیوں پر گشت کرتی ہے اور اکثر اپنی جیب سے ان گاڑیوں میں فیول بھرتی ہے۔ یونیفارم بھی اپنے پیسوں سے خریدتی ہے۔ان کی ڈیوٹی اگرچہ کاغذوں میں روزانہ آٹھ گھنٹے ہے تاہم اکثر اہلکاربارہ سے اٹھارہ گھنٹے بھی کام کرتے ہیں جس کا کوئی اوور ٹائم بھی نہیں ملتا۔ان کے پاس دوسری جنگ عظیم کے زمانے کی بندوقیں ہیں جن میں بسااوقات کارتوس پھنس جاتے ہیں۔اگر کسی دہشت گرد، ڈاکو، اجرتی قاتل سے آمنا سامنا ہو۔اور کارتوس بندوق میں پھنس جائے تو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔تنخواہ اتنی ملتی ہے کہ بمشکل گھر کا چولہا گرم رہتا ہے۔ پولیس پرکرپشن اور رشوت ستانی کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ پاکستان کا کونسا سرکاری ادارہ ہے جو کرپشن سے پاک ہے۔پولیس فورس میں بھی ایسے عناصر یقینا موجود ہیں مگر اس فورس میں ایسے افسران اور اہلکار بھی موجود ہیں جن کی دیانت داری، ایمانداری، فرض شناسی اور حب الوطنی کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ دنیا میں انسان کے لئے سب سے عزیز اور اہم چیز اس کی اپنی جان ہے۔ فرض کی خاطر جان دینے والوں اور شہادت کے اعلی منصب پر فائز ہونے والے بلاشبہ ملک کا اثاثہ اور قوم کے فخر ہیں۔یوم شہداء پر فرض کو جان سے عزیز رکھنے والوں کے پسماندگان کی خبر ضرور لینی چاہئے کہ خاندان کے واحد کفیل کے دنیا سے چلے جانے کے بعد وہ کس حال میں زندگی کے دن گذار رہے ہیں۔ پوری قوم وطن پر اپنی زندگیاں نچھاور کرنے والے جری سپوتوں کو سلام عقیدت پیش کرتی ہے۔ سچ ہے کہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔