اہالیان دنین لشٹ کا (وی سی سی) کے معاملے میں ڈی ایف او وائلڈ ڈویژن اور چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کا مطالبہ

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس )اہالیان دنین لشٹ لویر چترال نے وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلی حیات کی تحفظ کے لئے قائم دنین لشٹ ویلج کنزرویشن کمیٹی (وی سی سی) کے معاملے میں ڈی ایف او وائلڈ ڈویژن اور چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف خیبر پختونخوا کے خلاف سخت تادیبی کاروائیکی جائے جوکہ ایک بااثر شخص کی پشت پناہی اور سرپرستی کررہے ہیں جوکہ گزشتہ 24سالوں سے اس تنظیم پر قابض ہے اور اب بھی یہ افسران انہیں دوبارہ دھونس اور دھاندلی کے ذریعے دوبارہ منتخب کرکے عوام پر ٹھونسنے پر تلے ہوئے ہیں کیونکہ اس شخص کے کرپشن میں محکمہ وائلڈ لائف کے موجودہ اور سابق افسران سب ملوث ہیں۔ جمعہ کے روز چترال پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گاؤں کے معززین عبادالرحمن، شعیب احمد، عبداللہ، مستجاب خان، فیض احمد، بغداد خان، عبداللطیف، نور رحیم شاہ اور دوسروں نے کہاکہ 1999ء میں اس وی سی سی کا قیام عمل میں آنے کے بعد فضل الرحمن نامی شخص اپنی طاقت اور اثرورسوخ کے بل بوتے پر اور وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی ملی بھگت سے مسلسل صدر چلے آرہے ہیں اور اس دوران انہوں نے کروڑوں روپے خرچ کئے لیکن کمیونٹی کو ابھی تک ایک پائی کا بھی حساب نہیں دیا ہے جبکہ وی سی سی کے قوانین کے مطابق وی سی سی کے صدر کا ہر دوسرے سال دوبارہ انتخاب ہوتاہے جس میں گاؤں کے ہر 15گھرانے مشاورت سے ایک ایگزیکٹو ممبر بناتے ہیں جوکہ صدر کے لئے ووٹ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی کے مطالبے پر ڈی سی لویر چترال محمد علی خان نے ڈی ایف او وائلڈ لائف کو شفاف انداز میں الیکشن کرانے کا حکم دیا لیکن اس نے فضل الرحمن کو ہر صورت کامیاب کرانے کے لئے دھاندلی کا ریکارڈ توڑ دیا اور ہمارے حمایتی ایگزیکٹو ممبران کی ممبرشپ ہی ختم کرکے ہمیں اقلیت میں لے آئی اور وجہ پوچھنے پر یہی بتایاکہ وہ یہ سب کچھ چیف کنزرویٹر صاحب کے حکم پر کررہے ہیں۔ اہالیان دنین نے کہاکہ 2014ء میں مارخوروں کے لئے انکلوژر کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی اپنے بھائی کے نام پر لے کر ڈی ایف او کے ساتھ مل کر کرپشن کی۔ انہوں نے کہاکہ انکلوژر سمیت وی سی سی کے 24سالوں کی آمدن اور اخراجات کی اسپیشل اڈٹ کی جائے اور اس بڑے پیمانے پر کرپشن میں ان کے ساتھ شامل وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے حاضرسروس سمیت ریٹائرڈ افسران کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت دنین لشٹ کی حالات کو درست کرنا نہیں چاہتا تو اس وی سی سی کو تحلیل کیا جائے تاکہ ہم اپنی مرضی سے اپنی چراگاہ استعمال میں لے آنے میں آزاد ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر شدید مایوسی کا اظہار کیاکہ حکومت نے مارخوروں اور دوسرے جنگلی حیات کے اس مسکن چراگاہ میں پہاڑوں کو لیز پر دے دیا ہے اور یہاں سے جنگلی حیات بھی نقل مکانی کریں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔