دھڑکنوں کی زبان ۔۔۔۔”آغا خان ایجوکیشن سروس کا والدین آگاہی پروگرام “۔۔محمد جاوید حیات

آغا خان ایجوکيشن سروس کٸ سالوں سے تعلیم کے میدان میں قابل قدر کام کر رہی ہے ۔۔یہ اساتذہ کی تربیت ، جدید طریقہ تدریس سے آگاہی کی کورسس اور سکولوں کے اندر تعلیمی ماحول میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے مفید کوششیں کر رہی ہے ۔جدید دور کا تقاضا ہے کہ تعلیم کے میدان میں ” معیار “ کو مد نظر رکھا جاۓ لیکن تعلیم کے میدان میں بعض ایسی پالیسیاں ہیں جو ”مقدار“ کو سامنے رکھ کر بناٸی جاتی ہیں یہ پالیسیاں کم از کم ”معیار “کو کوٸی فاٸدہ نہیں پہنچا سکتی ہیں ۔معیار اس وقت بڑے گا کہ جب اداروں میں فیل پاس، جزا سزا ، اساتذہ کی مناسب تربیت ، ان کی علمی استعداد میں اضافہ اور میرٹ کا اجرا ہو جاۓ ۔۔معیار بنانے کی طرف اغاخان ایجوکیشن سروس کی بعض مخلصانہ کوششیں بلکہ جد و جہد قابل تعریف ہیں ان میں سے ”Sip“ سکول امپرومنٹ پروگرام بہت مفید ہے یہ پچھلے چند سالوں سے PDC کی نگرانی میں جاری ہے ۔اس پروگرام کے تحت اساتذہ کو PDC میں مختلف قسم کی تربیت مہیا ہو رہی ہے اورسرکاری سکولوں کے اندر اساتذہ کی علمی، تخلیقی اور فنی مہارتوں اور استعداد کار کو بڑھانی کی کوشش ہو رہی ہے ۔اس تربیتی عمل میں سب سے اہم کام قومی زبان یعنی اردو میں مہارت کے لیے اساتذہ کو تربیت دی جاتی ہے چونکہ گورنمنٹ سکولوں میں اکثر کورسس اردو میں ہوتی ہے اور ملک خداداد میں انگریزی کو مسلط کیا گیا ہے اس وجہ سے اردو کی طرف کوٸی توجہ نہیں دی جاتی اور اساتذہ کے ساتھ بچے اردو میں بہت کمزور ہوتے ہیں ۔پروگراموں کے اس سلسلے میں بہت کار آمد پروگرام والدین کے لیے آگاہی پروگرام ہے۔ادارے کے نماٸندے جو اپنے میدان کے مرد میدان ہوتے ہیں سکولوں میں آکر والدیں کو سکولوں میں بلاتے ہیں ان کے ساتھ نشست رکھتے ہیں ان کو بچوں کی تربیت کے گر سیکھاتے ہیں گھروں میں بچوں کی تعلیمی لحاظ سے مناسب دیکھ بال، نگرانی اور ان سے کام کرانے کے طریقے سیکھاتے ہیں ۔بچوں کی تعلیمی ضروریات سے ان کو آگاہ کرتے ہیں بچوں کی نفسیات اور ان کی ذہنی اور جسمانی نشونما کے لیے ضروری ہدایات دیتے ہیں یہ بہت مفید سرگرمیاں ہیں ۔31 جولاٸی کو اسی طرح کا ایک بہت ہی اہم پروگرام گورنمنٹ ہاٸی سکول واشچ میں محترمہ فرح دیبا جو آغا خان ایجوکیش سروس میں فیلڈ آفسر ہیں کی نگرانی میں منعقد ہوا ۔فرح دیبا چترال کی ایک اعلی تعلیم یافتہ بیٹی ہیں ان کے پاس ایم اے ، ای پی ایم ، ای سی ڈی میں ڈبلومہ اور بی ایڈ کی اعلی ڈگریاں ہیں اور سب سے بڑی ڈگری ان کی خوش اخلاقی ، محنت ، خلوص اور اپنے کام سے محبت ہے جو بڑی جان فشانی سے اپنے فراٸض انجام دیتی ہیں ۔مذکورہ پروگرام میں کل 44 افراد نے شرکت کی اور خوش آیند بات یوں کہ شرکاء میں سے 27 خواتین تھیں ماہریں کا خیال ہے کہ ماں ہی قوم بناتی ہے ۔تعلیم یافتہ ماں تعلیم یافتہ قوم ترتیب دیتی ہے یہ آگاہی پروگرام اس لیے بہت مفید تھا کہ بچوں کی ماٸیں اس پروگرام میں شریک تھیں تین گھنٹے کے سشن میں سکول میں داخلے سے پہلے گھروں میں بچوں کی تربیت، سکول میں داخلے کے بعد گھروں میں پڑھاٸی میں بچوں کی مدد اور ان کی ذہنی تربیت میں والدیں کا کردار کے موضوعات پر لکچر ہوۓ شرکاء سے گروپ میں عملی کام بھی کراۓ گۓ ان سے پریزنٹیشن دلواۓ گۓ ۔یہ پروگرام نہایت کامیاب رہا۔ ایسے مفید پروگراموں کی ہمیشہ ضرورت محسوس کی جاتی ہے ۔بچوں کی تعلیم و تربیت میں گھر اور والدیں کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے اور خاص کر اس دور میں خاندان کا تصور مٹتا جارہا ہے وہ اداب، وہ اقدار وہ اعلی تربیت جوخاندان میں سیکھا جاتا تھا مفقود ہے اور افراتفری کے دور میں والدیں کی بے توجہی کی وجہ سے بچوں کی تربیت پر بہت برا اثر پڑتا ہے ۔اس پروگرام کے انعقاد کے لیے علاقے کے لوگ، بچوں کے والدین اور سکول انتظامیہ اے کے ای ایس کا شکرگزار ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔