اسماعیلی سوک پاکستان اورڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

 کراچی(چترال ایکسپریس)اسماعیلی سوک پاکستان(Ismaili CIVIC Pakistan) نے کونسل برائے پاکستان، اور World Wide Fund for Nature-Pakistan (WWF-Pakistan) نے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے کوششوں اور وسائل کو ہم آہنگ کرنے کی خاطر مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس یادداشت  کا بنیادی مقصد موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانا اور موافقت، حیاتیات  کا تحفظ، اور کمیونٹی  کو  ماحول سے متعلق مختلف قسم کے حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھانے سے متعلق مشترکہ  کوششوں اور وسائل سے متعلق لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ یہ سٹریٹیجک  شراکت شجرکاری،  تعلیم اور سماجی و ماحولیاتی  آگاہی  پر مبنی  اقدامات،منظم کوششوں  کے ذریعے مثبت تبدیلی کو فروغ دینے کے عزم کی نشاندہی کرتی ہے۔

مفاہمت کی  اس یاد داشت پر  دستخط کی تقریب کراچی میں منعقد ہوئی جس میں نزار میوہ والا ،صدر، اسماعیلی کونسل برائے پاکستان، عارف ساجوانی ، ایگزیکٹو آفیسر، اسماعیلی کونسل برائے پاکستان ، ندیم خالد، صدر،WWF  ، جنرل حماد نقی خان ، سی ای او/ڈائریکٹرجنرل ،WWF-Pakistan، نائب صدور اور، بورڈ ممبرز،کے علاوہWWF-Pakistan اور اسماعیلی کونسل برائے پاکستان کے سینئر نمائندے  اور دیگر اہم شخصیات موجود تھے۔ اس موقع پر آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کی قیادت بھی  موجود تھی۔

اس مشترکہ کوشش کے نتیجے کے طور پرWWF-Pakistan، Ismaili CIVIC Pakistan کے مختلف مقامات پر  بڑی تعداد میں درخت لگانے اور جنگلات کے تحفظ کے لیے منصوبے تیار کرنے سے متعلق تکنیکی مہارت فراہم کرے گا۔ دریں اثنا، Ismaili CIVIC Pakistan، کمیونٹی رضاکاروں کی مدد سے، مختلف پروگراموں اور سرگرمیوں کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ میں اپنی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیےWWF-Pakistanکے ساتھ ماحول دوست سرگرمیوں میں حصہ لے گا۔ WWF-Pakistanاور Ismaili CIVIC Pakistan کے درمیان یہ مشترکہ کوشش ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے  اور پاکستان کے ماحولیاتی منظر نامے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے اجتماعی اقدام کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

حماد نقی خان، WWF-Pakistanکے  ڈائریکٹر جنرل ، نے موسمیاتی تبدیلیوں میں کمی لانے میںWWFکی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے  اپنے خیال  کا اظہار کرتے ہوئے کہا،  ’’WWFکی کاوشوں کے اثرات پورے پاکستان میں نظر آتے ہیں۔  شمال میں ہمالیہ کے پہاڑوں سے لے کر پنجاب کے میدانی علاقوں اور جنوب میں ڈیلٹا تک، ہم  مسائل کو حل کرنے کے مسلسل عمل میں  شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس میں مختلف سطحوں پر کاربن سیکویسٹریشن(sequestration) کی سرگرمیاں  ،شجر کاریاں  اور مختلف برادریوں کے ساتھ مل کر ماحولیات سے متعلق فطری اور قدرت سے قریب تر حل کو ڈھونڈنا اور اس کا  نفاذ شامل ہے تاکہ موسمیات میں آنے والی تبدیلیوں سے منسلک خطرات سے نمٹا جا سکے، اور لوگوں کو اس قابل بنایا جا سکے کہ وہ  ان مسائل کا کامیابی کے ساتھ سامنا کر سکیں، اور ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ان کے پاس صلاحتیں موجود ہوں۔  لیکن یہ تمام  ترکام  اکیلے نہیں کیے جا سکتے، اس لیے  آج مفاہمت کی یاد داشت پر کیے جانے والے  دستخط اہم ہیں، کیونکہ یہ تحفظ کے عمل کو بہتر بنانے  کی ہماری کوششوں میں  استحکام لائیںگے۔ Ismaili CIVIC Pakistanکے ساتھ مل کر ہم ، ماحولیاتی آلودگی، سیاحت کے ماحول پر اثرات اور ناقص منصوبہ بند ی  جیسے مسائل کے حل کی خاطر  موثر تخلیقی صلاحیتوں پر مبنی مشترکہ حل  اور ان پر عمل درآمد کرنے کے لیے اِن کے نیٹ ورک کی طاقت اور ان کے بے مثال فعال رضاکاروں سے فائدہ اٹھانے کے منتظر ہیں۔ ‘‘

شجرکاری کی کوششوں کے علاوہ، یہ شراکت داری گلگت بلتستان اور چترال کے نوجوانوں کے لیے مشترکہ طور پر روزگار کی تلاش کے منصوبوں کا انتظام، اُن کی پائلٹنگ)(piloting اور مزید مواقع پیدا کرنے پر  بھی توجہ مرکوز کر ے گی۔  دونوں تنظیمیں ماحولیاتی مسائل  بشمول  آلودگی، سیاحتی  طور طریقوں میں بہتری اور ترقیاتی منصوبوں پر  فوری عمل درآمد کے لیے باہمی طور پر تعاون کریں گی ۔

نزار میوہ والا  ، صدر ،اسماعیلی کونسل برائے پاکستان نے اس موقع پر WWF کی جانب سے پاکستان میں صحت اور  قدرتی ماحول کی حالت کو بہتر بنا کر فطرت اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر توجہ دینے کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ: ’’ آج کے زمانے میں  ماحول کی دیکھ بھال   سب سے  اہم  ضرورت ہے۔ یہ اسماعیلی امامت اور اے کے ڈی این  (AKDN)کے لیے بھی توجہ کا ایک اہم شعبہ ہے۔ ‘‘

Ismaili CIVIC Pakistan نے اپنے قیام کےبعد   سے اب تک ملک بھر میں 30 لاکھ سے زائد درخت لگائے ہیں۔ اس کے علاوہ، 120,000 سے زیادہ رضاکاروں نے 200,000 گھنٹے سے زیادہ رضاکارانہ خدمات میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور ملک بھر میں 250 سے زائد  عوامی مقامات اور کمیونٹی مراکز سے تقریباً 80,000 کلو گرام فضلہ، بشمول کاغذ، پلاسٹک اور دیگر ملبہ اکٹھا کیا ہے۔‘‘

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔