بین الاقوامی یوم اساتذہ ۔۔تحریر:میجر(ریٹائرڈ) احمد سعیدقاضی

5 اکتوپر یوم اساتذہ منایا گیا۔ اساتذہ کو خراج عقیدت/ تحسین پیش کرنے کے مختلف انداز فیس بک میں پڑھنے کو ملے۔( شکریہ فیس بک). زیادہ تر دوستوں نے اپنے ایک عزیز ترین استاد کا نام لے کر اپنے جذبات کا اظہار کیا کچھ نے اجتماعی انداز اپنایا اور جناب نقیب اللہ رازی صاحب کا انداز اپنے ایک استاد کو خراج پیش کرنے کا ادیبانہ انداز اپناتے ہوۓ اپنے پسندیدہ استاد پر پوری کہانی لکھ ڈالی۔ ویسے نثر کی جگہ شعری medium کو اپناتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔ ان کا پسندیدہ استاد میرا ہم جماعت نکلا بڑی خوشی ہوئی۔اس کے لۓ بار دگر شکریہ رازی صاحب ۔ یہ ارذالعمر”بھی کیا شے ہے۔کیا لکھنے کا سوچا تھا اور کہاں بھٹک گیا۔
ہاں۔ مختلف پوسٹس پڑھتے پڑھتے دل کیا کہ میں بھی اپنے عزیز ترین استاد کا ذکر کر ہی لوں۔ یہ سوچا کہ دریچے زمانہ طالب العلمی کے کھل گئے۔جھانک کر دیکھا تو اساتذہ کی ایک لمبی قطار نظر آئی۔ اس قطار میں گاؤں کے سٹیٹ پرائمری سکول ، سٹیٹ ہائی اسکول دروش، اسلامیہ کالج پشاور اور ملٹیری اکیڈمی کے اساتذہ سب سامنے تھے۔ میں سمجھا تھا آسان سی بات ہے اپنے پسند کے کسی ایک کا نام لیکر دو سطور عقیدت کے لکھ دونگا مگر مشکل یہ آں پڑی کہ اس لمبی قطار میں کس کو منتخب کر لوں۔ وہ تو سب برابر کا استحقاق رکھتے تھے۔ تب میری سمجھ میں آیا کہ استاد تو استاد ہوتا ہے۔ مرتبے میں نہ کوئی کسی سے کم نہ کوئی کسی سے زیادہ۔ معلم کا مرتبہ و مقام قرآن حکیم سے زیادہ بہتر انداز میں کون بیان کر سکتا ہے۔
میرے سامنے پرائمری سکول کے اساتذہ محترم حضرت علی آف دروش، مرزا غلام حاصل عشریت، سید رحیم مرزا عشریت، رحمت خان دروش قطار میں تھے جنہوں نے بچپن کے کورے ذہن میں علم کے ابجد سے روشناس کرانے کے ساتھ تربیت کے مشکل ترین مراحل سے گزارنے کا بار گراں اٹھایا تھا۔ اور آدمی سے انسان بننے کی دشوار گزار راہوں پر انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا۔ سب نے مل کر یہ زمہ داری انتہائی پیار و شفقت اور جانفشانی سے نبھائی تھی۔ پھر ہائی سکول دروش کے اساتذہ پر نظر دوڑائی تو قطار میں محترم اساتذہ آزو دام کے قاضی سیف احمد ، قاضی غلام حضرت ، جغور کے حضرت اللّٰہ ، چترال ہی کے جناب محمد اللّٰہ ، اژنو کے محترم امیر شاہ ( والد جاوید حیات) دروش کے سید اکبر، جنجریت کے خیرالاعظم، دروش کے ذالفقار، خیر آباد کے زین العابدین ، ڈیرہ اسماعیل خان کے محترم عبداللہ ، مہاجر استاد، اور قابل احترام جناب وقار احمد۔ اور آزو دم ہی کے اسلامیات کے قاضی صاحب ۔ پھر قطار میں اسلامیہ کالج پشاور کے اساتذہ نظر آۓ۔ جناب محمد احمد شمسی، جناب ہاشم بابر ، جناب احد فراز، محسن احسان، نثار لالا۔ غفران اللّٰہ ، حبیب الرحمن ، ستار صاحب ، قابل خان، ایچ ایم کلوز وغیرہ۔ پھر ملٹیری اکیڈمی کاکول کے اساتذہ پر نظر دوڑائی تو کیپٹن محمد افضل بعد میں میڈیکل گراؤنڈ پر کرنل ریٹائر ہوۓ اور کچھ عرصہ چئیر مین سٹیل ملز رہے، کیپٹن بعد میں میجر شبیر شریف نشان حیدر، کیپٹن بعد میں بریگیڈیئر عبد القادر ، کیپٹن راجہ نادر پرویز جن کے ساتھ بنگال میں ایک ہی بریگیڈ میں رہے جو میجر رینک میں ریٹائر ہوۓ اور سیاست میں آۓ اور 1985 میں ایم این اے اور وفاقی وزیر رہے۔ کیپٹن افتخار جنجوعہ۔ اللّٰہ گواہ ہے اس قطار میں کھڑے تمام اساتذہ میرے لۓ ایک ہی جیسے تھے۔ اپنی جگہ ہر ایک نے مجھے ظلمات سے نکالا اور نور میں میں لا کھڑا کیا۔ آدمی سے انسان بنایا ۔جہالت سے نکال کر علم کے زیور سے آراستہ کیا۔ تعلیم و تربیت کی ہر سطح پر ہر ایک نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔

مجھے سکھایا کہ:
تو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جا

گزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آۓ تو جوۓ نغمہ خواں ہو جا۔
میں کسی استاد کو کسی دوسرے استاد پر فوقیت نہ دے سکا۔ سب کے سب نور کے مشعل بہ دست میری رہنمائی کرتے رہے تھے۔ سب برابر۔کیونکہ ؛
استاد تو استاد ہوتا ہے۔چاہے وہ عشریت کے میرے استاد چار جماعت پاس میرزا غلام حاصل ہو کہ ھائی سکول کے وقار احمد ہوں۔ کالج کے شمسی اور احمد فراز ہو کہ آرمی کے بریگیڈیئر عبداقادر یا شبیر شریف نشان حیدر ہوں۔ اللّٰہ نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو معلم بنا کر مبعوث کیا اور استاد کی نسبت حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے ٹھہرے تو پھر ان میں فرق کا کیا سوال۔ میری تعلیم و تربیت میں ہر ایک نے اپنے حصے کی شمع ہر قدم جلاۓ رکھی۔
اللّٰہ ان سب کو عظیم درجات پر فائز کرے ۔ آمین۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔