کالاش خاتون کر کٹر سائرہ جبین نے پراماٹا کرکٹ کلب سڈنی آسٹریلیا کے لیے کوالیفائی کر لیا ۔

چترال ( محکم الدین ) سائرہ جبین چترال اور کیلاش قبیلے کی تاریخ میں واحد کرکٹر ہے،جو پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم اور پاکستان ڈومیسٹک ویمن ٹورنامنٹ کیلئے سلیکٹ ہوئی ہیں اور ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے کیلاش کمیونٹی اور علاقے کانام روشن کیا ہے۔ ہزاروں سال قدیم تہزیب کی حامل کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنی والی سائرہ وادی کالاش رمبور کے معروف استاد انجینئر خان کی صاحبزادی ہیں ۔ جنہوں نے کالاش وادیوں کیلئے بالکل اجنبی سپورٹس کرکٹ کا انتخاب کیا ۔ اور اس میدان میں ایسی اٹھی ۔ کہ واپس مڑ کر بھی نہیں دیکھی ۔
کرکٹ بچپن سے ہی سائرہ کا خواب تھا ۔تعلیم کیلئے جب وادی کالاش کو خیر آباد کہا۔ تو لاھور پنچ کر اس کے دونوں ارمان پورے ہو گئے ۔کرکٹ کےشوق نے سائرہ جبین کو لاہور میں کرکٹ کلب میں داخلہ لینے پر مجبور کر دیا ۔ جس میں پہاڑوں کی پلی پری نے ٹیلنٹ کے ایسے جوہر دیکھائے ۔ کہ کرکٹ کلب میں ٹاپ کھلاڑی رہی ۔ آج سائرہ جبین کرکٹ میں آل راؤنڈر ہیں۔
سائرہ جبین صرف سورٹس ویمن ہی نہیں بلکہ ایک قابل سٹوڈنٹ بھی ہیں ۔ یونیورسٹی آف پنجاب میں بی ایس جرنلزم کی طالبہ ہیں یونیورسٹی کی خواتین کرکٹ ٹیم میں ایک اہم کھلاڑی ہیں ۔حال ہی میں انہوں نے ایک اور اعزاز حاصل کیا ہے ۔
سائرہ جبین کو آسٹریلیا کے مشہور زمانہ کرکٹ کلب پراماٹا،جو کے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہے(“PARAMATTA CRICKET CLUB SIDNEY AUSTRALIA “)، ان کو چھ مہینے کے لیے اسپانسر کر کے آسٹریلیا مدعوکیا ہے، سائرہ جبین اس وقت آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں کرکٹ میں اپنا جوہر دکھا رہی ہے۔
سائرہ جبین پہلی پاکستانی کرکٹر ہے جسے پراماٹاآسٹریلیا کے کلب نے مدعو کیا ہے، یہ کیلاش قبیلے ، چترال اور کے پی کے کیلئے بڑے اعزاز کی بات ہے، کیلاش قبیلے نے پاکستان کرکٹ ٹیم ، یونیورسٹی آف پنجاب اور پراماٹا کرکٹ کلب آسٹریلیا کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے میرٹ پر سائرہ جبین جیسے ہیرے میں مزید نکھار پیدا کرنے کیلئے آسٹریلیا میں مزید تربیت حاصل کرنے کا موقع دیا ۔ کیلاش کمیونٹی نے سائرہ جبین کی فیملی کو مبارکباد دی ہے ۔ اور مزید کامیابیاں سمیٹنےکیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔