چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط -11)…پروفیسر اسرارالدین

(موڑکھو جاری)

(نوٹ) اِس قسط میں خاص طور پر میرزہ ایوب کے مرشد شیخ شمس الدین کے بارے میں تحقیق ضرور ملاحظہ فرمائیے)

کوشٹ کی آب پاشی کا نظام:

کوشٹ کی آب پاشی کے نظام کے بارے میں یہ امر یاد ر ہے ۔ کہ بعض قبیلے مثلاً رضاخیل، طرقولے، محمد بیگے وغیرہ تاریخی اور روایتی طور پر مراعات یافتہ طبقہ ہیں۔ اس لئے پانی میں زیادہ حصّہ اُن کو حاصل ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ کوشٹ گول (ندی) قریئے کو دو حصّوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اُس کے دونوں طرف کُل چودہ نہریں بمع شاخیں نکالی گئی ہیں۔ جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
ندی کے دائیں طرف کی نہریں۔
1۔ اونار دیر نہر 3 کلومیٹر 2۔ گول بیار نہر ایک میل سے کم 3۔ رباط نمبر 1 ایک میل سے کم
4۔ رباط نمبر 2 ایک میل سے کم 5۔ شوتاک نہر ایک میل سے کم 6۔ پھار گرام 3 کلومیٹر
7 ۔ سندراغ نمبر 1 ڈھائی کلومیٹر 8۔ سندراغ نمبر ڈھیڑ کلومیٹر
بائیں طرف والی نہریں:
1۔ تورکوشٹ نہر (8 کلومیٹر) اِس کی تین شاخیں ہیں۔
الف۔ چار ویلی ژوئے (7 کلومیٹر) ب۔ موژو ژوئے (4 کلومیٹر) ج۔ پونگو ژوئے (2 کلومیٹر)
2۔ موچیاندور نہر 3۔ گول بیار نہر نمبر 1 (2 کلومیٹر) اِس کی دو شاخیں ہیں ۔
الف۔ نہانگال ژوئے (5 کلومیٹر)، ب۔ ہوشی ژوئے۔
4۔ لوٹ گمبور ژوئے (5 کلومیٹر) 5 ۔ موڑ کوشٹ نہریں ۔ اِس کی دو شاخیں ہیں۔
الف۔ ششدار شاخ (4 کلومیٹر)
ب۔ موڑ کوشٹ شاخ (3 کلومیٹر)
6۔ غیرنان ژوئے (ایک کلومیٹر)
ہُوردور (ہیڈ ورکس): اِن نہروں کے ہیڈ ورکس ایک دوسرے کے اوپر مختلف مقامات پر واقع ہیں۔ اپر کوشٹ یا (تور کوشٹ) نہر چونکہ اولین نہر تھی اُسکا ہیڈورکس سب سے اوپر ہے۔ اُسکے بعد زیرین(موڑ) کوشٹ نہر بنی تھی۔ جو زیرین کوشٹ کے ساتھ ہے۔ باقی ہیڈ ورکس درمیان میں جگہ جگہ پر واقع ہیں۔اُن ہیڈ ورکس کی سالانہ مرمت دیہات کے لوگ مل کر کرتے ہیں اُسی طرح جب سیلاب کی وجہ سے تباہی ہوتی تو ہنگامی طور پر سب مل کردرستگی کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ تمام نہروں میں ہیڈ ورکس سے تقریباً خاص فاصلے پر مدوک (نکاس) نصّب کیا جاتا ہے۔ تاکہ ہنگامی صورت میں نہر بند کرنے یا تہہ نشیں شدہ مواد مٹی وغیرہ کو خارج کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

نہری تنظیم:

نہروں کی نظامت کی ذمہ داری ’’ میرژویوں‘‘ کے ہاتھ میں ہے۔ دو بڑے ’’میرژوئے‘‘ اور باقی چھوٹے ’’میرژوئے‘‘ ہیں۔
’’میر ژوئے ‘‘ کے لئے ایک با اعتبار شخصیت ہونا ضروری ہے۔ نیز وہ نہروں میں پانی کی تقسیم کے حوالوں سے بھر پور معلومات کے مالک ہونے چاہیں۔
تقسیم آب: تقسیم آب کی خصوصی باتیں مندرجہ ذیل ہیں۔
1. پانی کی قلت کے باوجود تقسیمِ آب کا نظام اِس طرح مرتب کیا گیا ہے کہ ہر چھوٹے بڑے گاوں کو کچھ نہ کچھ پانی مل جاتا ہے۔
2. پانی کی تقسیم باقاعدہ ٹائم ٹیبل کے مطابق ترتیب دی گئی ہے۔ اور اُس ٹائم ٹیبل کی پوری طرح پابندی کیجاتی ہے۔
3. روایات کے مطابق جو اصول طے کئے گئے ہیں۔ اُن اصولوں کو اِس طرح لاگو کیا گیا ہے۔ کہ اُن کی خلاف ورزی ناممکن امر ہے۔

تقسیم آب کی قسمیں مندرجہ ذیل ہیں۔1. سوروغ (باری باری آبپاشی کی ترتیب) اصطلاحی طور پر ایک فرد یا کنبے کی باری کا جو پانی ہوتا ہے۔ اُسے سوروغ کہا جاتا ہے۔ عام طور پر کوشٹ میں ایک نہر کا کل پانی سوروغ کی ایک اکائی (Unit) ہوتی ہے۔ جسے ایک یا زیادہ کسان استعمال کرتے ہیں۔ ’’سوروغ‘‘ حالات کے مطابق 24 گھنٹوں کا یا 12 گھنٹوں کا ہوتا ہے۔
ابتدائی ایام میں جب اِن نہروں کا قیام عمل میں آیا تھا۔ تو یہ فیصلہ ہوا۔ کہ لوگوں کی جائداد کے رقبے کے مطابق اُن کو پانی میں حصّہ دیا جائے۔ چونکہ اِن نہروں کی تعمیر میں علاقے کے ریئس لوگ پیش پیش تھے نیز اُن کی جائدادیں بھی بڑی تھیں تو اُن کو پانی کا زیادہ حصّہ الاٹ ہو ا۔ بعد میں ایسے دوسرے لوگ بھی وارد ہوئے جن کو حکمران وقت نے اُن کی خدمات کے صلے میں اُن کو یہاں جائداد عطا کی تھی۔ اور پانی کا حصّہ بھی عطا کیا تھا۔ اِ س طرح یہ مراعات یافتہ طبقہ تھا۔ جنکو پانی کا (Lion Share ) مل گیا۔ لیکن یاد رہے ۔ جو سوروغ شروع کے زمانے میں ایک کنبے کو الاٹ ہوا تھا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کنبے کے افراد کی تعداد زیادہ ہونے کے باوجود اُن کا سوروغ کی اکائی وہی ہے۔ جس کے نتیجے میں اب یہ حالت ہوگئی ہے۔ کہ بعض کنبوں کو 15 دن میں 3 گھنٹے کا پانی فی کنبہ۔ اور بعض کو دس سے 12 گھنٹے کا پانی اسی عرصے میں۔
کوشٹ قریہ کے تمام مکینوں کو مختلف لوگوں کے سوروغ کی تفصیل کا پتہ ہے۔ اس لئے اُن میں بے قاعدگی کا شائبہ نہیں ہوتا۔
بالائی کوشٹ اور زیرین کوشٹ کے درمیان سوروغ کی تقسیم:
بالائی کوشٹ : 24 گھنٹے بغیر کسی وقفے کے
زیرین کوشٹ: (1) انوسوغ: فجر تا عصّر
(2) چھیوغ: عصر تا فجر
مختلف دیہات میں انوسوغ اور چھیوغ کی تقسیم:
دن کے وقت (انوسوغ)
(1) اوناردیر نہر (2) ھوشی نہر (3) رباط نہر (4) گول بیار نہر (5) موچیاندور نہر
رات کے وقت چھیوغ
(1) گمبار نہر (2) موڑ کوشٹ ژوئے (3) سندراغ
زیرین کوشٹ میں جن میں چشموں سے مستقل طور پر پانی رہتا ہے۔ اُن کے نام یہ ہیں۔
(1) رباط نہر (2) زیرین سندراغ نہر (3) شوتک نہر (4) غیرنان نہر (5) پھار گام نہر
فرائض: سوروغ والوں کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ ہر سوروغ دار ( یا سوروغ والا) مرمت کے وقت ایک پھی (Shovel) کا تعاوّن پیش کرے گا۔جو 4 افراد، ایک بیلچہ، ایک ہتھوڑا، اور دو رسی پرمشتمل ہوتاہے۔ جو مرمت کے کام میں استعمال ہونگے۔
تمام نہروں کے پانی کو 102 حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن کے حصّہ دار کنبے، خاندان یا گاوّں ہیں۔ اُن حصّوں میں سے 51 حصّے 24 گھنٹوں والے اور باقی 51 حصّے 12 گھنٹوں والے ہیں۔ یہ 12 گھنٹوں والے انوسوغ اور چھیوغ کہلاتے ہیں۔
روزانہ حساب سے ہر حصّے کے مزید 20حصّے بنائے گئے ہیں۔ یعنی 24 x دس اور 12ضرب دس۔ جن کی آب پاشی کرنے والوں کے حساب سے الگ تفصیل ہے۔
یاد رہے کہ کوشٹ میں پانی اور زمین لازم ملزوم ہیں۔ اگر کسی گاوّں کی زمیں کوئی خرید ے تو اُس کے پانی پر بھی اُسکا حق ہوگا۔
سوروغ تقسیم در تقسیم ہو کر بعض لوگوں کے حصّے میں 25 دن یا اُس سے بھی زیادہ عرصے میں باری آجاتی ہے۔
(2) گولوغ: یہ ندی کا پانی ہوتا ہے جو سوروغ کا 1/3 حصّہ ہوتا ہے۔ بعض موسم اُن میں پانی زیادہ ہوتا ہے۔اُس وقت اُس کا استعمال عام ہوتا ہے۔ البتہ پانی کی کمی کے زمانے میں سوروغ کے 1/3 حصّے کے برابراُس کےحصّے بناتے ہیں۔ جس کے لئے لکڑی میں مقررہ پیمانے کے مطابق سوراخ بنایا جاتا ہے۔ جسمیں مقررہ پانی چھوڑا جاتا ہے۔ گولوغ میں 24 گھنٹے کے حساب سے اور بعض 12 گھنٹوں کے رات دن کے حساب سے چلتے ہیں۔ کل 24 گلوغ ہیں۔ جن میں سے 7 گلوغ 24 گھنٹے والے ہیں۔ گلوغ بعض کنبوں کی ذاتی جائداد میں شامل ہیں۔ جو وہ اپس میں تقسیم کرتے ہیں۔
(3) غوسپانوغ: پانی کی تقسیم کا تیسری اکائی غوسپانوغ ہے۔ جو گولوغ کے 1/3 کے برابر ہے۔ غوسپانوغ بعض سوروغ کے ساتھ ملحق ہیں۔ جو بعض سوروغ والوں نے کسی کو دئیے ہوئے ہوتے ہیں۔ کل غوسپانوغ کی تعداد پانچ ہیں۔ جو خاص طور پر بڑی نہروں مثلاً چارویلو نہر اور پھارگرام نہر کے ساتھ ملحق ہیں۔
نتیجہ: (1) کوشٹ کی آب پاشی کی تنظیم اِ س امر کی ایک اعلیٰ مثال ہے کہ محدود پانی کے وسیلے کو کس طرح یہاں کے لوگوں نے ایک ایسے انداز میں استعمال کرنے کا طریقہ وضع کیا کہ ایک بڑے قریہ کی ایک بڑی آبادی اِس سے استفادہ کرنے کے قابل ہو گئی ہے۔ اگرچہ بعض طبقوں کا حصّہ مقدار میں زیادہ ہے لیکن اُس کے باوجودچھوٹے سے چھوٹے خاندان کا حصّہ بھی محفوظ ہے۔
(2)۔ یہ مختلف خاندانوں میں ہم اہنگی، ایک دوسرے سے تعاوّن اور بھائی چارے کی بہتریں مثال ہے۔ جو اُن لوگوں نے صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گذارنے کا ڈھنگ سیکھا۔ ایک دوسرے کے حقوق کی پاسبانی کا حق آدا کیا۔
(3)۔ یہ نظام کافی قدیمی ہے۔ اور یہاں کے باسی اس نظام سے متعلق تمام تفصیلات سے باخبر ہیں۔ اور اُن کو درست انداز میں چلانے کے بارے میں اور اُس کو کامیاب رکھنے کے لئے پوری طرح سنجیدہ ہیں۔
(4)۔ کوشٹ کے لوگوں کی یہ خصوصیت بھی قابل تحسین ہے۔ کہ اپنے اِس مسلے کو حل کرنے کے لئے وہ وقتاً فوقتاً مختلف منصوبے عمل میں لاتے رہتے ہیں۔ اور اس میں وہ بالااخر کامیابی حاصل کرتے رہیں گے۔
(بحوالہ راقم کی رپورٹ Irrigation and Society in Chitral District (PCRWR – Islamabad 1986))۔

کوشٹ کے قبائل:

کوشٹ کے قبائل رضاخیل، محمد بیگے (طرقولے، نعمت اللہ، بدالے)، شاہ نوے، زرگارے، جماڑے، کوراکے، راماسانے، گوشیکے، ژارے، سنگالے، ڈوقے وغیرہ مشتمل ہیں۔ شاہ نوے بابا ایوب کی اولاد ہیں۔ لون گہکیر سے یہاں آئے۔ اُن کا تذکرہ آگے کیا جائے گا۔
رضاخیل اور سنگالے کا ذکر پہلے بھی گذرا ہے۔ زرگارے بشگال سے کٹور اوّل کے زمانے میں فراری ہوکر آئے تھے اور یہاں آباد ہوئے تھے۔ ریئسے ریئس خاندان کی اولاد میں سے ہیں۔ یہاں چند کنّبے آباد ہیں۔ جماڑے کٹور اوّل کے دور میں غذر سے آکر آباد ہوئے تھے۔ راما سا نے بھی غذر (چھاش)سے چماڑے سے کچھ بعد یہاں آکر سکونت اختیار کی۔ گوشیکے، ژارے، اوکیلے اور مگاسارے یہاں کے قدیمی باشندے ہیں۔
ڈوقے ورشگوم سے کسی زمانے میں آئے تھے۔
محمد بیگے۔ شہزادہ تنویر الملک محمد بیگے کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں۔ (موڑکھو صفحات 67-166)۔
محمد بیگ سنگین علی اوّل کا بیٹا اور رئیس حکمران شاہ ناصر کا نواسہ تھا۔ چونکہ سنگین علی اوّل رئیس حکمران شاہ ناصر کے وزیر اور سالار بھی تھے۔ اس وجہ سے کم عمری ہی میں محمد بیگ کو جہانیانی اور فوجی تربیت حاصل کرنے کا موقع ہاتھ ائے۔ 1570 ء میں سنگین علی اوّل کی وفات پر رئیس حکمرانوں نے اُن کے بڑے بیٹے محمد رضا کو عہدہ وزرات پر مامور کیا۔ اور محمد بیگ کو اپنی فوج میں سپہ سالار مقرر کیا۔ رئیس شاہ ناصر کے حکم پر محمد بیگ کی سرکردگی میں چترال کی فوج نے باشگال ( موجودہ نورستان) پر لشکر کشی کرکے اُس کے کچھ حصّوں پر فتح حاصل کیا۔
رئیس حکمران شاہ ناصر کی وفات کے بعد جب اُن کا بیٹا شاہ محمود تخت نشین ہوا تو اُنہوں نے نا اہل مشیروں کے کہنے پر محمد رضا اور محمد بیگ کو اُن کے عہدوں سے ہٹا دیا۔ جس پر محمد رضا اور محمد بیگ کاروبار مملکت سے دورموڑ کھو کے سنگلان دور، وریجون اور زاینی نوغور میں مقیم ہو گئے۔ تاہم خاموش بیٹھنے کی بجائے تخت چترال پر قبضّہ کرنے کیلئے خفیہ طور پر عوامی تائید و حمایت حاصل کرنے کیلئے سرگرم ہوگئے۔ اُس دوران اندرونی اختلافات پر وہ اپس میں الجھ پڑے اور اس فسادمیں محمد بیگ اور اُس کے بیٹوں کے ہاتھوں محمد رضا اور اُن کے بیٹے قتل ہو گئے۔ اُس کشمکش میں خود محمد بیگ بھی راہی ملک عدم ہوگئے۔
محمد بیگ کے چھ بیٹے محترم شاہ، خوش وقت، خوش احمد، نعمت اللہ، طارق اللہ، عبید اللہ (پودلہ) تھے۔ جن میں سے محترم شاہ کٹور کی نسل سے قبیلہ کٹور اور قبیلہ سنگالے کی بُنیاد پڑی ، جو چترال کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہے۔ محمد رضا کی اولاد سے رضاخیل قبیلے کی بُنیاد پڑگئی۔ جو مختلف جگہوں میں آباد ہیں۔ خوش وقت کی نسل سے قبیلہ خوش وقتے اور خوش احمد کی نسل سے قبیلہ خوش آحمدے کی بنیاد پڑی۔ جبکہ محمد بیگ کے دیگر تیں بیٹوں کی نسل کے لوگوں کو خود محمد بیگ کی نسبت سے محمد بیگے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جو کوشٹ، گوہکیر، شوگرام، موردیر اور موڑ گول میں آباد ہیں۔ خوش وقت کی نسل کے زیادہ تر لوگ شمالی عاقہ جات میں بستے ہیں۔ البتہ اُن کی ایک ذیلی شاخ بروشے کے چند گھرانے ریشن میں بھی آباد ہیں۔ محمد بیگ کے لڑکے خوش احمد سے قبیلہ خوش احمدے کی بُنیاد پڑی۔ یہ قبیلہ مستوج کے چرُن، چرُن اویر، جُنالی کوچ اور پرواک میں آباد ہیں۔
محمد بیگے قبیلے سے تعلق رکھنے والے کئی اہم مشاہیر گذرے ۔ جن میں سے یہاں طوالت سے بچنے کے لئے صرف محمد سیر کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بُنیادی طور پر اُن کے خاندان والے کوشٹ میں سکونت رکھتے تھے۔ لیکن یہ شو گرام میں اقامت پذیر ہوئے تھے۔
میرزا محمد سیر: آپ چترال کے ایک عظیم شاعر گذرے ہیں۔ اُن کا زمانہ انیسویں صدی کے ابتدائی عشروں کے درمیاں بتایا جاتا ہے۔ آپ کا تعلق شاہی خاندان سے تھا۔ اُن کے والد دوست محمد لال اپنے علاقے (کوشٹ) کے اہم شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ اور خود بھی علم و فضل کی دولت سے مالامال تھے۔ اور صوفی منش بزرگ تھے۔
سیؔر نے ابتدائی تعلیم اُن سے حاصل کی ۔ بعد میں چترال کے دوسرے علمائے کرام کی شاگردی کا شرف حاصل کرنے کے بعد ملک سے باہر وسطی ایشاء کے سمر قند بخارا سے بغداد تک ممالک کا سفر کیا۔ اور وہاں جگہ جگہ کئی سال تک قیام کرکے اُس زمانے کے اہم علمائے کرام کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرکے علم کی پیاس بُجھانے کی کوشش کرتے رہے۔ اُسی زمانے میں ہندوستاں میں مشہور بزرگ شاعر ناصر علی سرہندی کی خدمت میں بھی حاضری دیتے رہے۔ اس طرح اپنے وقت کے اہم مذہبی اور روحانی شخصیات سے مستفیذ ہونے کے نتیجے میں اُن کی زندگی میں صوفیانہ اوصاف نمایان ہونے شروع ہوئےجن کا اثر اُن کی شاعری پر ہونا لازمی امر تھا۔
میرزہ سیؔر کی شاعری کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا اُن کی زندگی کا ابتدائی زمانہ تھا۔ یہ اُن کی ’’جوانی دیوانی‘‘ کا زمانہ تھا۔ دوسرے دل پھینک جوانوں کی طرح سیؔر بھی ایک حسینہ کے عشق میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جسکی یاد میں کھوار زبان میں گیتیں ترکیب دیتے رہتے ہیں۔ اور ستار پر مخصوص دھن میں گاکر اپنے دل کو تسکین پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جس طرح مشک چھپانے سے نہیں چھپتی ۔ اُسی طرح سیؔر جو اپنے خاندانی پس منظر کی وجہ سے جانی پہچانی شخصیت تھیں۔ کا عشق کیسے چھپ سکتا تھا۔ چُنانچہ سیؔر کا پیار بھی اُن کی گیتوں کی طرح جگہ جگہ مشہور ہوا۔ سیؔر کے یہ گیت ’’یورمن ہمیں‘‘ کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔
اُن کی وفات کے بعد بھی دو سو سالوں سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجود اب تک کھوار بولنے والے علاقوں میں دور دور تک مقبول ہیں۔ اور اُن علاقوں میں بہت کم لو گ ایسے ہونگےجو سیاؔر کے نام سے واقف نہ ہوں۔
سیؔر کا یہ رومان جسکی ابتدا عشق مجازی سے ہوئی۔ بعد میں عشق حقیقی میں تبدیل ہوا۔ سیؔرجس نے اپنے عشق میں ناکامی کے غم کو بھولنے کی خاطر دور داراز علاقوں میں صحرا نوردی کو اپنا شعار بنایا تھا۔ جب کئی سالوں کے بعد واپس اپنے وطن آجاتے ہیں تو اُن کی زندگی میں انقلاب آچکا تھا۔ مختلف مشائخ، صوفیاء اور اولیاء کی صحبت میں گذارے ہوئے ایام نے اُن کی زندگی کی کایہ پلٹ دی تھی۔ وہ اب عشق مجازی کے سحر سے چھٹکارا حاصل کر چکےتھے اور عشق ِ حقیقی کی لذت اور حلاوت کی سرشاری میں مست ہو چکے تھے۔ اب اُس کی زبان پر اپنی محبوبہ کی خوبصورت لبوں اور چمکتے دانتوں کی تعریف کی جگہ اِس قسم کے الفاظ صادر ہونے لگے تھے۔ “ارزوٗں کی تسکین کی جگہ ارمانوں اور تمناوٗں کی تُشنگی میں ہی زندگی کا اصل مزہ ہے”۔ اب سیؔر ایک عارف ، فلسفی، عالم فاضل شخصیت اور ایک پائے کے صوفی شاعر کے طور پر ہمارے سامنے آجاتے ہیں ۔ اُن کے عشقِ مجازی کے عشقی حقیقی میں تبدیل ہونے کی توجیہ یہی ہے کہ صوفیاء کے اصطلاح میں جب تک غیرسے قلبی انقطاع محبت نہ ہو جائے، وصالَ الہی ممکن نہیں۔”
میرزا محمد سیؔر کی چترال کے عوام و خواص میں شہرت یار من ہمیں کی وجہ سے رہی ہے۔ لیکن اُن کا زیادہ تر کام فارسی شاعری میں ہے۔ اُن کا دیوان سیؔر225 غزل، پانچ مخمس، گیارہ رباعیات اور ایک فرد پر مشتمل ہے۔ اُن کی تکمیل کی تاریخ 1227 ہجری ہے جو عیسوی حساب سے 1813 ء بنتی ہے۔ کچھ سال ہوئے چترال کے مشہور ادیب اور کھوار شاعر مولانگاہ مرحوم نے اُس دیوان کا اُردو میں ترجمہ کیا ہے۔ جسےمقتدرہ قومی زبان کا ادارہ (اسلام آباد) نے شائع کیا ہے۔ اسکے علاوہ اُنہوں نے چترال کی تاریخ کی واقعات کو منظوم کیا ہے۔ جسے شاہ نامہ چترال کا نام دیا ہے۔
المختصر فارسی شاعری میں میرزا محمد سیؔر کا نہایت اونچا مقام ہے۔ لیکن یہ دُرنایاب ہندوکش پہاڑوں کی تنگ وادیوں میں بند دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رہا۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ اُن کا نام بھی اہم فارسی شعراء کی فہرست میں جگمگا رہا ہوتا۔
(حوالہ جات
1. مولانگاہ نگاؔہ، دیوان سیؔر (2006) مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد)
2. ڈاکٹر عنایت اللہ فیؔضی ۔ یار من ہمیں (2005) تحقیقی مجلہ ای س شاہ عبد الطیف یونیورسٹی، خیرپور سندھ)
3. اسرارالدین: میرزا محمد سیؔر کی شاعری (2008) دیوان سیؔر کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا مقالہ
4. ایضاً ۔ چترال کے صوفی شعراء (2009ء) سرحد صوفی شعراء پر کانفرنس۔ ادارہ ثقافت و آدب پشاور
5. ایضاً۔ محمد سیؔر (کھوار ڈرامہ )جمہور اسلام جنوری تا مارچ 1971 ء
6. ایضاً ۔ محمد سیؔر (مشمولہ) کھوار زبان و ادب أ تاریخ ادبیات مسلمانان پاک وہ ہند۔ پنچاب یونیورسٹی لاہور 1971 ء)

8۔ لون گُہکیر:

یہ متصل دو دیہات ہیں جن کو ایک درہ ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ گہکیر گاوں بندوگول ندی کے ساتھ آباد ہے۔ جو بندوگول کی چوٹی سے ایک گلیشر سے نکلتی ہے۔ اس میں وافر مقدار میں پانی سار ا سال بہتا رہتا ہے۔ اور مشرق کی طرف دریائے مستوج میں گرتا ہے۔ گہکیر کی بلندی سطح سمندر سے 8250 فٹ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گہکیر قدیم زمانے سے آباد تھا۔ کالاش دور کے کچھ نشانات کی موجودگی کا بھی لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً مینار، نل (چیبی) وغیر۔
یہاں پانی کی بہتات ہے زمیں زرخیز ہے اس لئے مختلف فصّل اور میووٗں کی بھی بہتات ہے۔ یہاں کے قبائل سنگالے، محمد بیگے، شاہ نوے، مگاسارے، کشاڑھے، ڑوقے (زوندرے)، رضاخیل اور جوار بیگے پر مشتمل ہیں۔ شاہ نوے بابا ایوب کے بیٹے کی اولاد ہیں۔ جو لون سے یہاں ائے اُن کی تفصیل لون کے تذکرے میں کیا جائے گا۔
مشاڑے بھی قدیم سے یہاں آباد ہیں۔ یہ اپنے کو خوشحال بیگے کی شاخ بتاتے ہیں۔ رضاخیل، مگاسارے، ڑوقے (زوندرے) اور جوار بیگے مختلف زمانوں میں یہاں آکر آباد ہوئے ہیں۔
لون گاوں گہکیر کے جنوب کی طرف پہاڑی سے پرے اور سطح سمندر سے 8600 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں زمینات زیادہ ہیں لیکن پانی کی کمی ہے۔ پھر بھی غالباً چشموں کی وجہ سے یا بارانی آبپاشی کی وجہ سے یہاں غلہ گہکیر کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ اسلئے یہ کہاوت مشہور ہے کہ ’’ژو لونی خورا گہکیری‘‘ (یعنی غلہ لون کے علاقے میں وافر مقدار میں اور پن چکیاں گہکیر میں)۔
لون بھی موڑ کھو کے قدیمی دیہات میں سے ایک ہے۔ قدیم زمانے میں اویر لون، گہکیر اور موڑ کھو کے ساتھ شمال کی طرف اور اوژورو علاقہ لٹکوہ اور لوئر چترال کی طرف جنوب میں راستہ یہاں سے گذرتا تھا۔ اس لئے چترال کے وادی کلان کے طعلاوہ اُن دورافتادہ مقامات پر بھی ابادیاں وجود میں ائی تھیں۔
قبائل: یہاں شاہ نوئے اور مشارے قبیلے قیام پذیر ہیں مشارے اپنے کو خوشال بیگے کی ایک شاخ بتاتے ہیں۔ جو اویر کا اہم قبیلہ ہے اور رئیس کے دور میں سور وہت سے یہاں آئے تھے۔ مشاڑھے اویر سے یہاں آکے آباد ہوئے۔ اُن کے علاوہ محمد بیگے اور بزرے بھی یہاں قیام رکھتے ہیں۔ بزرےبھی رئیس کے دور سے یہاں آباد ہیں۔ بعض روایات میں اُن کو شاہ نوئے کی شاخ بتائی جاتی ہے اور محمد بیگے غالباً کٹور دور میں یہاں ائے ہونگے۔
شاہ نوئے: یہاں کا اہم اور اکثریت والا قبیلہ شاہ نوئے ہے۔ جو بابا ایوب کی اولاد میں سے ہے۔ بابا ایوب اپنے ابتدائی ایام میں یہاں قیام پزیر ہوئے تھے۔ اور اُن کی قبر لون سے ملحق گاوں گہکیر میں موجود ہے۔ اس لئے اُن کے بارے میں ذرا تفصیل یہاں بحث کی جاتی ہے۔
نئی تاریخ چترال (غلام مرتضیٰ صفحہ 47 )کے مطابق شاہ اکبر رئیس کے زمانے میں ہرات (افغانستان) میں سلطاں حسین کی حکومت ترکمانوں کے ہاتھوں ختم ہو گئی تو اُس کی اولاد ادھر اُدھر منتشر ہوگئی اور سلطان حسین کا پوتا میرزا یوب بن شہزادہ فرید الدین حسین ایک درویش کی حیثیت سے 1520 ء میں بمطابق 920 ہجری میں چترال ایا ۔ مشہور ہے کہ وہ اُن کے کچھ ہمراہی ایک ولی کامل شاہ شمس الدین کی معیت میں واردِ چترال ہوئے۔ ولی موصوف اُن کو ایک مقام پر چھوڑ کر کہیں چلے گئے اور اُن کو ہدایت دی کہ اُن کے پاس آنے تک وہان پر مقیم رہیں۔ اور اُن کا انتظار کریں۔ جب کافی مدت کے بعد ولی مذکورہ واپس آئے۔ میرزا ایوب کے علاوہ باقی سب وہاں سے چلے گئے تھے۔ آپ اُن کے استقلال دیکھ کر خوش ہوئے اور دعا دی کہ اُس ملک کی بادشاہت اسکی اولاد کو مل جائے۔
بابا ایوب کے دو بیٹے تھے۔ ماہ طاق اور شاہ نو۔ شاہ نو کی اولاد شاہ نوے کہلاتی ہے۔ اخونزادہ کے مطابق شاہ نوے کے چار بیٹے ہوئے۔ تومیک، بوشیک، بوژ اور شریف۔ اُن چاروں بیٹوں کو شاہ نوے کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ اُن میں سے تومیکے، بشیکے، اور شریفے (المعروف سیٹھے) لون میں آباد ہیں۔ اور بوژ گہکیر اور کوشٹ میں قیام پذیر ہیں۔
(بحوالہ اقوام چترال صفحہ 138 تا 144 )
شاہ نوے قبیلے سے تعلق رکھنے والے کئی شخصیات اہم رہے ہیں اُن میں سے مولانا حضرت الدین اور مولانا محمد وزیر کا تذکرہ پہلے کیا جا چکا ہے۔ اب آگے میرزا غفران اور مولانا عبدالحنان (آف کاری) کا ذکر کیا جائے گا۔
لیکن اِس سے پہلے ولی شمس الدین کے بارے میں لوک روایات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ کہ اُن کے بارے میں لوگوں کے کیا تصورات تھے۔ اسکے بعد تاریخی حوالوں سے اصل حقیقت کی نشاندہی کی کوشش کرونگا۔
بعض لوگوں نے ولی شمس الدین کو شمس الدین تبریزی سے منسوب کیا ہے۔ جیساکہ مندرجہ ذیل روایت سے پتہ چلتا ہے۔ (یہ روایت اکرم علی خان ولد نادر علی خان، بروم اویر نے مجھے کسی کے حوالے سے بھیجا ہے) وہ کہتے ہیں۔
’’ویسے تو کئی شمس تبریز نکلے ہیں مگر اں میں سے یہی شمس تبریز اصلی صوفی بزرگ تھے۔ جو چترال اویر آئے تھے یہ شمس الدین محمد ایک کشف والا بزرگ تھا۔ یہاں سے آپ ملتان، پھر قونیہ ترکی ہوتے ہوئے دمشق اور آخر کار طوئے ایران میں دفن ہوئے۔ اویر سے کریم آباد اور برشگرام بھی ہو جایا کرتا تھا۔ یہاں یہ بات مشہور ہے کہ شمس الدین کے ساتھ دو اُن کے مرید بھی تھے۔ ایک میرزہ محمد ایوب دوسرا شیخ ایوب۔ جو کہ میرزہ ایوب کا چھوٹا بھائی تھا۔ روایات کے مطابق اُن کے ساتھ تھا۔ اویر کے عاشقے قبیلے کا جد امجد شیخ ایوب کے اولاد شمس تبریز کے درگاہ زیارت کے متولی ہیں۔ (نوٹ : یہ اس نے واضح نہیں کی آیا شمس الدین کی زیارت اویر میں ہے یا خانقاہ ؟ جبکہ اُن کی وفات ایران میں ہوئی تھی)
اخونزادہ نے اقوام چترال (صفحہ 138 ) میں اس بزرگ کا نام شمس الدین سبزواری بتاتے ہیں۔
اب اتے ہیں تاریخی حقائق کی طرف۔۔ یاد رہے۔۔ بابا ایوب کے اپنے ولی کے ہمراہ یہاں انے کا زمانہ 1520 بتایا جاتا ہے (اگرچہ یہ تاریخ بھی مصدقہ نہیں لگتا۔ بحرحال زمانہ یہی تھا ) لیکن شمس الدین تبریز اور شمس الدین سبزواری کا زمانہ مندرجہ ذیل تھا۔
(1)۔ شمس الدیں تبریزی جو مولانا رومی کے روحانی استادتھے۔ اُن کا زمانہ 1185 ء تا 1248ء ہے اُن کی قبر کونیہ (ترکی) میں ہے۔ یہی اصلی شمس الدین تبریزی ہیں۔ اور حال ہی میں یونیسکو نے اُن کے مقبرے کو عالمی ثقافتی ورثہ کے لئے نامزد کیا ہے نہ صرف اُن کا زمانہ بہت پہلے کا ہے بلکہ وہ بدخشان وغیرہ کے گردو نواح کے علاقوں کی طرف کبھی ائے ہی نہیں۔
(2) شمس الدین سبزواری: آپ کا تعلق غزنی (افغانستان ) سے تھا اور غزنی کے نواح میں ایک قصبہ سبزوار سے تھے۔ اُسی حوالے سے سبزواری کہلاتے تھے۔ اُس کا زمانہ 1165 ء تا 1276 ء تھے۔ آپ اسماعیلی مذہب کے مبلغوں میں سے تھے۔ اُن کی عمر 19 سال کی تھی۔ جبکہ اُن کے والد سید صلاح الدیں اُن کو لے کر 1183ء میں تبلیغ کے لئے بدخشان، بلتستان (تبت کوچک) اور کشمیر لے گئے۔ اور 1190ء میں واپس سبزوار چلے گئے کچھ عرصہ سبزوار میں ہی گزارا۔ اُس کے بعد اُن کے والد کو قتل کیا گیا۔ اور وہ خود بغداد وہاں سے عرصہ بعد ملتان آئے۔ اور وہیں پر 111 سال کی عمر میں 1276 ء میں وفات پائی۔ اور ملتان میں اُن کا مقبرہ موجود ہے۔
شمس الدین سبزواری کا ایک بیٹا اُنہی کے نام سے تھا جن کا مزار الہ آباد (انڈیا) میں ہے۔ اُن کو بھی بعض لوگ شمس الدین تبریزی ہی کہ کر پُکارتے ہیں۔
یاد رہے مستند تاریخی حوالے دستیاب ہوں تو وہاں لوک روایات کی حد ختم ہوجاتی ہے، اُن تاریخی حوالوں سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ یہ دونوں بزرگ تقریباً تین سو سال پہلے گذر چکے تھے۔ اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اصل شمس تبریزی بھی کوئی اورتھا۔ تاریخ میں وقت کے اُس دھارے میں ایک تیسرے شمس الدین عراقی کا ذکرآتا ہےاُن کو بھی لوگ شمس الدین تبریزی تصور کرتے تھے۔ اُن کا زمانہ 1484 تا 1520 ہے۔ چونکہ اُن کا زمانہ میرزہ ایوب کے زمانے سے مطابقت رکھتا ہے۔ اِس لئے اُس کے بارے میں تاریخی معلومات کی تحقیق کی تو ذیل حقائق سامنے ائے۔
شمس الدین عراقی کا اصلی نام میر سید محمد اصفہانی تھا۔ آپ موسیٰ کاظم رحمتہ اللہ علیہ کی نسل سے تھا۔ اور ساتویں پُشت میں اُن کا سلسلہ اُن تک پہنچتاہے۔ اُن کو کشمیر میں شیعیت کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ آپ کے والد کا نام سید ابراہیم تھا۔ آپ نے ایک روایت کے مطابق میرزا حسین والی خراسان کی ملازمت اختیار کی۔ جس نے 888ھ(بمطابق 1483 ء) میں آپ کو بطور سفیر کشمیر بھجا۔ اور آپ کے ہاتھ کچھ تحائف اور ایک مراسلہ والی کشمیر کو بھیجا۔ آپ کےساتھ کچھ درویش بھی تھے بارہ سال کے بعد آپ دوبارہ تشریف لے گئے اور شاہ قاسم کے اصرار پر دوبارہ 902 ھ (1497 ء) میں کشمیر ائے۔ امرا میں ملک موسی ارینہ نے آپ کی بیعت کی اور آ پ کو ایک علاقے جڑیبل میں جاگیر عطا کی۔ اور میر نے یہاں خانقاہ قائم کی اس ک نام خانقاہ نوربخشیہ رکھا۔ اسکی تعمیر 910 ھ (1504ء) میں مکمل ہوئی۔
ایک دوسری روایت کے مطابق پیر شمس الدین خراسان کے تیموری نسل کے حاکم /سلطان حسین بایقرا (875-911ھ) کے سفیر کے طور پر کشمیر گئے۔ وہاں8 سال کے قیام کے بعد واپس خراسان گئے۔
922 ھ (1584ء) میں شاہ قاسم نوربخشی کی درخواست پر دوبارہ کشمیر گئے۔ اور تبلیغ شروع کی۔ اُن کی کوششوں سےاور کشمیر کے وزیر موسیٰ ارینہ کے تعاون سے 24 ہزار ہندو گھرانوں کو ہدایت نصیب ہوئی۔ لداخ کے بعض بدھ مت مذہب کے پیروکاروں نے شیعہ مذہب اختیار کی۔ آپ 932 ھ(1526ء) کو وفات پا گئے۔ اور چاڈرہ بڈگام میں دفن ہوئے۔ اُن کا مزار مرجع خاص وعام بتایا جاتا ہے۔
حوالہ جات ۔ سری رام بخشی۔ Kasmir Valley and its Culture (1997), P. 231, مزید
Wikipedia of Wikishia
مندرجہ بالا بیانیہ سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔
1۔ موصوف ولی کا نام شمس الدین تھا۔ اس لئے لوگوں نے اُن کو شمس تبریز تصور کیا۔ نہ صرف چترال میں بلکہ اور علاقوں میں یہ اُن ناموں میں سے ہے۔ جن کولوگوں نے شمس تبریز تصور کیا تھا۔ گو کہ یہ اصل شمس تبریز نہیں تھے۔
2۔ اُن کا اپنا مقام بھی کافی اونچا تھا۔ کیونکہ اُن کو تبلیغ کے لئے کشمیر بھیجا گیا تھا اور وھاں انہوں نے دین کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
3۔ اُن کا راستہ چترال کا راستہ ہی لگتا ہے وہ یہاں سے ہو کر کشمیر گئے ہونگے۔
4۔ وہ خراسان سے تقریباً اُسی زمانے میں آئے تھے۔ جب بابا ایوب اور اُن کے ساتھیوں کے بارے میں روایت کی جاتی ہے۔
5۔ میرشمس الدین کے ساتھ معلوم ہوا کچھ درویش بھی تھے۔ جو بابا ایوب اور اُس کے ساتھی ہی ہوسکتے ہیں ۔
6۔ جسطرح ہمارے مقامی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ بابا ایوب کا پیر کافی عرصہ کیلئے کہیں چلا گیا تھا۔ اور پھر واپس اگیا تھا۔ اسی دوران یہ کشمیر چلا گیا ہوگا۔ اور بارہ سال کے بعد واپس آئے تھے۔
7۔ اس بیانیے سے پتہ چلتا ہے کہ اُن کی قبر کشمیر میں ہے نہ کہ ملتان میں ۔ جیسا کہ زبانی روایت میں آیا ہے۔
8۔ چونکہ اُن کے حوالے سے دی گئی تاریخیں مستند ہیں اِس لئے میرزا ایوب کے حوالے سے تاریخوں کو اس کے متعلق ایدجسٹ کرنا ہوگا۔ اس لئے اِس پر تھوڑی سی عرق ریزی کی ضرورت پڑے گی۔
مسئلہ یہ ہے کہ روایات میں بابا ایوب کی چترال آمد کی تاریخ 1520 ء بتائی جاتی ہے۔ جسکا کوی تاریخ سند موجود نہیں۔ لگتا ہے کہ یہ شائداندازہ ہی ہوگا سلطان بایقرا کی حکومت خراسان میں 1506 ء تک ختم ہو چکی تھی۔ اور شیخ شمس الدین کی کشمیر کی طرف بطور سفیر مراجعت 1483 ء یا 1485 ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ بایقراء نے میرزا ایوب کو شیخ کے ہمراہ کشمیر کے بادشاہ کے پاس بطور گڈ ول (good will)بھیجا ہوگا۔ لیکن چترال کے کسی مقام پر پہنچ کر شیخ کو اندازہ ہو ہوگا کہ یہ شہزادہ اُن دشوار گذار علاقوں کے مشکل سفر کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔ تو اُنہوں نے اُن کو دوسرے ساتھی (یا ساتھیوں) کے ساتھ یہاں چھوڑ کر جانے میں عافیت تصور کیا ہوگا۔ شیخ موصوف کئی سال کشمیر میں گذار کے جب واپس ائے۔ اور میزا ایوب کے استقلال دیکھ کر خوشی سے اُن کی اولاد کے لئے ایک روشن مستقبل کے لئے دعا دے کر واپس خراسان روانہ ہو جاتے ہیں۔ تو اُن کی دوربین نگاہوں میں خراسان کے مستقبل کے سیاسی حالات کا اندازہ بھی ہوگا۔ اس لیئے میرزہ ایوب کو یہیں چھوڑ کر واپس ہوئے ہیں۔ ( اللہ اعلم)

(باقی ائیندہ)
نوٹ: ضروری نہیں آپ مجھ سے اتفاق کریں۔ بہر حال کوئی بہتر حل آپ اس مسلے کا پیش کریں تو فبہا۔ لیکن شیخ شمس الدین کے حوالے سے جو تاریخیں ہیں۔ وہ تاریخی طور پر تصدیق شدہ ہیں۔ اس لئے اُن میں کوئی ردوبدل کی گنجائش نہیں ۔۔۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔