چیرمین پاکستان ہلال احمر خیبر پختون خواہ حبیب ملک اورکزئی اور جرمن ریڈ کراس کے سربراہ برآے پاکستان آصف اماں خان کا دورہ ریشن اپرچترال ، سیلاب سےمتاثرہ گاوں ریشن کے نقصانات کا جائزہ اور حفاظتی پشتوں کا افتتاح کیا ۔

چترال(شہزاد آحمد شہزاد سے) چیرمین پاکستان ہلال احمرخیبر پختونخوا حبیب ملک اورکزئی اور جرمن ریڈ کراس کے سربراہ برآے پاکستان آصف اماں خان اور ادارے کے دوسرے افسران نے گذشتہ روز سیلاب سے متاثرہ گاوں ریشن کا دورہ کیا ۔دورے کا مقصد ہلال احمر کی جانب سے ریشن میں پائے تکمیل تک پہنچنے والے منصوبوں کا افتتاح اور علاقے کے انفراسٹرکچر کو مستقبل میں لاحق خطرات کا جائزہ لینا تھا ۔ انہوں نے
ہلال احمر پاکستان کے تعاون سے گرین لشٹ زئیت آور ریشن راغین کے مقام پر تعمیر شدہ حفاظتی پشتوں کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر علاقے کے عوام نے مہمانوں کا شاندار استقبال کیا، چترالی روایات کے مطابق مہمانوں کو ہار اور چترالی ٹوپی پہنائے گئے اور ہلال احمر پاکستان کے چیرمین اور دوسرے مہمانوں کا شاندار الفاظ میں شکریہ ادا کیاگیا ۔

بعد آزان گورنمنٹ ہائی سکول ریشن میں بھی منصوبے کا افتتاح کیا گیا۔ اور سکول کے بچوں نے جو ہلال احمر پاکستان کے والنٹیر تھے مہمانوں کے سامنے قدرتی افات سے نمٹنے کا عملی شاندار مظاہرہ کیا اور فراہم کردہ بیسک ٹریننگ کے لیے ہلال احمر پاکستان کی تعریف کی ۔

کمیونٹی کے ساتھ ایک اور نشست نوغور میں ہوئی ۔جس میں عمائدین ریشن نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ چیئرمین ویلج کونسل ریشن اشفاق احمد نے مہمانوں کو خوش امدید کہا اور علاقہ ریشن میں ہلال احمر پاکستان کی خدمات پر شاندار الفاظ میں انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ اور علاقے میں ہلال احمر پاکستان کو مزید فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور پروجیکٹ کے دورانیہ کو مزید بڑھانے
کے لیے چیرمین ہلال احمر سے درخواست کی، نائب چیئرمین وزیر محمد نے قرادا دپڑھ کر سنایا۔
چیرمین پاکستان ہلال احمر حبیب ملک اورکزئی اور جرمن ریڈ کراس سربراہ برآے پاکستان آصف اماں خان نے شاندار استقبال اور مہمان نوازی پر ریشن کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا منصوبوں کو کامیاب بنانے کےلئے علاقے کے عوام نےہمارے ساتھ بہترین تعاون کیا ۔عوام کے تعاون کے بغیر منصوبوں کی صحیح معنوں میں تکمیل ممکن نہیں تھی ۔ جس کے لیے ہم آپ کے مشکور ہیں تقریب کے آخر میں ریٹائر پرنسپل صاحب الرحمن نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔