اگر ملک میں جماعت اسلامی کی حکومت ہوتی ۔ تو آج کشمیر اور فلسطین آزاد ہو چکے ہوتےامیر سراج الحق کا چترال میں کنوینشن سے خطاب

چترال ( محکم الدین ) امیر جماعت پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ اگر ملک میں جماعت اسلامی کی حکومت ہوتی ۔ تو آج کشمیر اور فلسطین آزاد ہو چکے ہوتے۔ فلسطین کے مردو خواتین بچے صیہونی ظلم و بربریت کا شکار نہ ہوتے ۔ اس وقت میری سوچ و فکر پاکستان میں نہیں بلکہ غزہ اور فلسطین میں خون میں لت پت ان بچوں و بھائی بہنوں کے ساتھ ہے ۔ جو پوری دنیا سے مدد کی بھیک مانگ رہےہیں ۔ لیکن ایک اسلامی ملک کو بھی یہ توفیق نہیں ہورہی کہ ان کیلئے زوردار آواز اٹھائے۔ کیا پاکستان کا جوہری ہتھیار صرف شو روم میں رکھنے کیلئے ہیں ؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چترال میں جماعت اسلامی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا اس وقت فلسطین کے مسلمان انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہیں ۔ اسرائیل نے پچیس لاکھ مسلمانوں کی زندگی تنگ کر دی ہے  لوگ بارود میں جل رہے ہیں ۔ چارہزار ٹن بارود برسائے گئے ہیں اور ہلاکتوں و تباہیو بربادی کا سلسلہ جاری ہے ۔ ماوں کی گودیں اجڑ گئی ہیں ۔ اور بچے ماں باپ کے سایے سے محروم ہو گئے ہیں ۔ مرنے والوں کیلئے کفن مل رہا ہے  اور نہ دفنانے کیلئے زمین موجود ہے ۔ پوری اسلامی دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔جو کہ بہت ہی افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ اسرائیل پہنچ کر یہ کہہ رہاہے ۔ کہ میں ایک یہودی کی حیثیت سے یہاں آیا ہوں ۔ لیکن مسلمان ہیں کہ یہودی برابر غیرت ان کے پاس نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کو انسانی حقوق ، جانوروں کے حقوق کا درس دین والے اہل مغرب اور امریکہ کو آج فلسطینیوں پر اسرائیلی ظلم اور بہتے خون کی ندیاں نظر ہی نہیں آرہی ہیں ۔ انہوں نے کہا یہود و ہنود کی نظر میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام کھٹک رہا ہے ۔ اور یہ کوشش کی جارہی ہے۔ کہ فلسطین ،ایران عراق ،سعودی عرب اور پاکستان کو تباہ کیا جائے ۔ سراج الحق نے کہا ۔ کہ پاکستان کے سیاسی قائدین نے پانچ سا ل ایک دوسرے کو گالیاں دیں ۔ اور ملک سیاسی پولورائزیشن کا شکار رہا ۔ لوگ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کیلئے بھی تیار نہیں ہیں ۔ ایسے میں چترال میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا کلچر یقینا قابل تعریف ہے ۔ اور مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی ۔ کہ چترال کے مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے افراداس کنونشن میں موجود ہیں ۔ انہوں نےکہا ۔ کہ میں چترال کے بہنوں کی دعوت پر آیا ہوں ۔ جنہوں نے چترال میں جامعہ المحسنات کے نام سے ادارہ کھولا ہے ۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا  کہ ہم تعداد میں یقینا کم ہیں ۔ لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہئیے ، کہ بیرونی دنیا کی نظر میں جماعت اسلامی کھٹکتا ہے ۔iķ یہ دوسری پارٹیوں کی طرح سودی نظام نہیں چاہتا ۔ اس کا اپنا سیاسی ، معاشی اور عدالتی نظام موجود ہے ۔ اور اسلام و پاکستان ہمارا ایجنڈا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بیرون ملک کی یونیورسٹیوں سے پڑھے ہوئے ممبران اسمبلی کے مقابلے میں وادی چترال سے تعلق رکھنے والے آپ کے نمایندے مولانا عبدالاکبر چترالی نے سب سے زیادہ مسائل پر اسمبلی میں آواز اٹھائی ۔ اور سب سے زیادہ بولنے کا اعزاز انہیں حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں سابق ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی اور سابق ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ کو احتساب کیلئے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ۔

سراج الحق نے کہا کہ یہ وقت اپنے ملک کو بچانے کیلئے اٹھ کھڑے ہونے کا ہے اور جو لوگ وقت پر صحیح فیصلہ نہیں کرتے ۔ بعد میں پچھتاوا کے سوا ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔