چھبیس اکتوبر کو چترال پریس کلب کے سامنے ملازم کش پالیسیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا ۔ اگیگا چترال (لوئر)۔

چترال (چترال ایکسپریس)منگل 24 اکتوبر  کو اگیگا چترال (لوئر) کا ایک اہم اجلاس ضلعی صدر امیرالملک کے زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اگیگا کے پلیٹ فارم سے ملازمین کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تمام تنظیموں کے صدور، سیکرٹریز اور دیگر عہدہ داروں کی شرکت کی ۔ اجلاس میں حکومت کے ملازم کش پالیسیوں کے خلاف 26 اکتوبر کو چترال پریس کلب کے سامنے منعقد ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کیا گیا ۔
شرکاء ِ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی صدر امیر الملک نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو کسی بھی سیاسی پارٹی کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ ملازمین کا سیاسی جماعتوں کا حصہ بننا ملازمین کاز کو سخت نقصان پہنچا رہا ہے ۔ اس وقت سرکاری ملازمین کا باہم اتحاد و اتفاق ازبس ضروری ہے ۔ ورنہ حالات آگے نہایت گھمبیر ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا اصلاحات کے نام پر ملازمین کا پنشن ختم کرنے سے کوئی بہتری نہیں آئے گی ۔ یہاں کرپشن اپنی انتہا کو چھو رہی ہے کرپشن کو ختم کرکے ہی ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا سکتا ہے ۔ اصل مسائل کو حل کرنے کی بجائے حکومت کا پنشن کے پیچھے انتہائی افسوس ناک عمل ہے ۔ پنشن کے خاتمے سمیت دیگر اقدامات پر عملدرآمد کا آغاز اگر بالائی سطح سے کیا جائے تو ہمیں بھی منظور ہو گا ورنہ حکومت کے اس ظلم کو روکنے کی ہم ہرممکن کوشش کریں گے ۔۔ ضلعی صدر نے پنجاب کے سرکاری ملازمین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت نے ان پر ہر قسم کا ظلم روا رکھا ۔
اگیگا لوئر چترال کے جنرل سکریٹری (صدر اپٹا لوئر) ضیاء الرحمن نے کہا اگر حکومت ہمیں کچھ دے نہیں سکتی تو جو حقوق ہمیں پہلے سے میسر ہیں انہیں چھین بھی نہیں سکتی ۔ ملازمین نے جس معاہدے کے تحت حکومت کو اپنی خدمات کی فراہمی پر رضامندی ظاہر کی ہے پنشن کی سہولت اس معاہدے کا حصہ ہے۔ اب حکومت یک طرفہ طور پر اس معاہدے کو ختم نہیں کر سکتی ۔ تہتر کے آئین کے تحت احتجاج کا حق ہر ملازم کو حاصل ہے ہم اس حق کے لیے کسی سے اجازت لینے کے پابند نہیں۔
اگیگا کے رہنما سمیع الدین (صدر ایس ایس اے) نے ملازمین کے تئیں حکومت کی سردمہری پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف منفی بیس میں بھی یہی سرکاری ملازمین (خصوصاً ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے منسلک اساتذہ) الیکشن اور پولیو سمیت مختلف قسم کی خدمات سر انجام دیتے ہیں اور دوسری طرف حکومت بھی ان کے پیچھے پڑی ہوئی ہے ۔
اکسا چترال کے صدر شاہد جلال نے کمیونیکیشن گیپ کو ختم کرکے ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے آگے بڑھنے پر زور دیا ۔
کپلا چترال کے صدر نوید احمد نے چھبیس اکتوبر کے احتجاج کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ملازمین کی آواز کو ہر گلی کوچے تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا ٹیم بنانے کی تجویز رکھی۔
اے ٹی اے چترال کے صدر نثار بابا نے کہا کہ اب تحریک کا آغاز ہو چکا ہے۔ چھیس اکتوبر کا احتجاج اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت ہمارے حقوق سلب کرنے سے باز نہیں آتی ۔
جوڈیشری کے صدر ذوالفقار نے خطاب کرتے ہوئے کہا ملازمین کے مفادات مشترک ہیں ایلیٹ کلاس ملازمین کو غلام سمجھتے ہوئے انہیں بہت زیادہ متاثر کرنے کا پلان بنا چکی ہے ہمیں کسی ایک پولیٹیکل پارٹی کے لیے سیاسی کارکن کا کردار نبھانے کے بجائے متحد ہو کر ان ملازم کش پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
ایس ایس ٹی ویلفیئر ایسوسی سی ایشن کے صدر قاری محمد یوسف نے کہا حکومت اصلاحات کے نام ملازمین کو متاثر کرنے کا بل تیار کر چکی ہے ہم میں سے ہر ایک کو اپنی رسائی کے مطابق ہاتھ پاؤں ہلانے اور اس ظلم کو روکنے کی ضرورت ہے۔ وحدت اساتذہ چترال کے سینیئر نائب صدر نے چھبیس اکتوبر کے احتجاج میں بھرپور افرادی قوت جمع کرنے پر زور دیا ۔ نامور فنکار منصور علی شباب (چئیرمن پی ایم اے ) نے اصلاحات کے نام پر پنشن کی کٹوتی پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اگیگا کی صوبائی قیادت کی اپیل کے مطابق ہر قسم کے احتجاج سے دریغ نہیں کریں گے ۔
پی ایم اے کے فائنانس سیکرٹری محمد شاہد نے اپنے خطاب میں ڈاکٹرز حضرات کو بھی احتجاج کا حصہ بنانے کا مشورہ دیا ۔ اسی طرح یہ اجلاس چھبیس اکتوبر کے احتجاج کے حوالے سے تیاریوں کے ایک ایکشن کمیٹی کے قیام کے بعد اختتام پذیر ہوا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔