آل گورنمنٹ ایمپلائزگرینڈالائنس چترال کا احتجاجی مظاہرہ

چترال (چترال ایکسپریس)آل گورنمنٹ ایمپلائزگرینڈالائنس (اگیگا) چترال کے صدرامیرالملک ،نثاراحمد،ضیاء الرحمن ،ڈاکٹرمحمدآصف،قاری یوسف، اوردوسروں نے پنشن اصلاحات اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر کٹ لگانے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملازم دشمن حکومتی پالیسی قرار دیکر کہا ہے کہ اگر موجود نگران حکومت کو صوبے کی مالی بحران کا اتنا ہی فکر اور تشویش ہے تو وہ اپنے دفاتر اور اپنی شاخرچیوں پر کٹ لگادے، پنشن اصلاحات سرکاری ملازمین اور ان کے بچوں کا معاشی قتل ہے،سرکاری ملازمین کا معاشی قتل عام کسی صورت برداشت نہیں،حکمران اور پالیسی میکرز ہوش کے ناخن لے،سرکاری ملازمین ملک کی ترقی، خوشحالی میں ریڑھ کی ہڈی کی سے حیثیت رکھتے ہیں۔چترال پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مختلف محکموں سے مہ دارں نے کہاکہ سرکاری ملازمین حکومت کے ساتھ آئین میں دئیے گئے ایک اسمجھوتے کے تحت داخل ہوئے ہیں پیشن اوردیگرمراعات 1973کے آئین کے تحت تمام سرکاری ملازمین کاآئینی اوردستوری حق ہے جس سے کوئی مائی کالال ملازمین سے نہیں چھین سکتاہے۔حکومت ہوش کے ناخن لے اورسرکاری ملازمین کوذہنی پریشانی اورکوفت میں مبتلانہ کرے۔انہوں نے کہاکہ پنشن میں کٹوتی ،لیوانکیشمنٹ میں کمی ،اقساط پرپیشن کی آدائیگی ہمیں بالکل منظورنہیں ۔پنشن کاسابقہ طریقہ کارجس سے آئین پاکستان اوردستورنے ہمیں دیاہے مکمل بحال رکھاجائے ۔ انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ جب بھی صوبے پر معالی بحران کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہیں، تو سرکاری ملازمین کو قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے۔حکومت کو اگر خیبر پختون خوا کی مالی بحران کی اتنی ہی فکر لاحق ہے تو وہ انہیں دفاتر میں اخراجات میں کمی لاکر اپنی شاخرچیاں بند کرے، پنشن اصلاحات نہ پہلے مانے تھے نہ اب مانتے ہیں، اور نہ آنے والے وقتوں میں مانے گے، پنشن اصلاحات آئی ایم ایف ملازم کش منصوبہ ہے جس کو موجودہ حکمران سرکاری ملازمین پر مسلط کرنے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ مظاہرین سینکڑوں کی تعداد میں احتجاجی ریلی کی شکل میں پرانے پی آئی اے چوک سے ہوکر چترال پریس کلب پہنچے، مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جس پر پنشن اصلاحات اور سرکاری کی ملازمین کی تنخواہوں پر کٹ لگانے کے خلاف نعرے درج تھے،مظاہرین نے نگران حکومت کی ملازم کش پالیسیوں کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔