بونی بوزوند روڈ پر قانونی تقاضے پوری کرتے ہوئے تجاوزات ہٹانے پر ڈی سی اپر چترال کے مشکور ہیں۔عبدالقیوم بیگ / سفیراللہ

اپر چترال (ذاکر محمد زخمی)تورکھو روڈ ہے کہ تکمیل کے مرحلے تک پہنچنے کا نام نہیں لیتا۔2011 سے تا حال 28 کلو میٹر پر محیط بونی بوزوند روڈ مختلف مسائل سے دوچار ہوکر اور مختلف مراحل سے گزر کر اس وقت بھی حالت ناگفتہ بہ ہے۔اوپر سے علاقے کے اپنے لوگ بھی راہ میں رکاوٹ بننے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔زمین کے معاوضہ جات لیتے ہوئے بھی تجاوزات ہٹانے کو تیار نہیں۔اس سلسلے میں تورکھو کے عوام اور روڈ تعمیر کمیٹی ہمیشہ اپنی تحفظات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔کئی بار روڈ تعمیر کمیٹی اور دوسرے حضرات نے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کرکے تجاوزات کی نشاندہی کرکے ہٹانے کی درخواست کی۔جس پر سابق ڈپٹی کمشنر نےقانونی تقاضے پورےکرتے ہوئے متعدد نوٹس بھیجدیےلیکن کوئی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی۔ آخر کار موجودہ ڈپٹی کمشنر محمد عرفان الدین نے مصمم ارادے کے ساتھ جملہ قانونی کاروائی مکمل کرنے کے بعد تجاوزات ہٹانے کے لیے اداروں کو متحرک کیا تو شکوے شکایت شروع ہو گئے تورکھو روڈ تعمیر کمیٹی بوساطت عبدالقیوم بیگ سابق ناظم اور سیاسی و سماجی شخصیت سفیر الله ٹیلی فونک رابطے کرکے بتایا کہ ہم ڈپٹی کمشنر اپر چترال اور متعلقہ تمام اداروں کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے  عوامی اہمیت کے اس اہم منصوبے پرعملی طورپر دلچسپی لی جہاں مسائل تھے حل کرلیے۔ معاوضہ کی ادائیگی میں نہ کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہے نہ زیادتی کرنے دینگے۔روکاوٹ ڈالنے والے عوام کے مخلص نہیں انہیں برداشت نہیں کیا جائیگا۔ اپنے ذاتی مفاد کے خاطر اداروں کو موردِ الزام ٹھرانا کہاں کا انصاف ہے۔قانونی تقاضے ایک بار نہیں کئی بار پورے ہوچکے ہیں جو ہم سب کو معلوم ہیں اگر پھر بھی کہیں کوتاہی رہتی ہے انہیں حل کرنے کے لیے انتظامیہ مخلص ہے بشرطیکہ مسلہ جائز ہو۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔