سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوئم..پُر بصیرت رہنما، جنہوں نے امن و آشتی اور انسانیت کی علمبرداری کی…سجاول احمد

تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے پیدا ہوتے ہیں جو  زمان و مکان  کی حدود سے بالاتر رہتے ہوئے  عالمی سطح پر اپنے نقوش چھوڑجاتے ہیں۔ سر سلطان محمد شاہ، آغا خان سوم بلاشبہ ایک ایسے ہی رہنما تھے  جن کی وراثت اسماعیلی مسلم کمیونٹی کے رہنما کی حیثیت سے ان کے کردار سے کہیں زیادہ  وسعت کی حامل  ہے۔ 2 نومبر 1877ء   کو کراچی، پاکستان میں پیدا ہونے والے سر سلطان محمد شاہ کو قیادت اور کمیونٹی کی ترقی کی ایک شاندار روایت  وراثت میں ملی تھی۔
آغا خان سوم کی زندگی گوں ناگوں  کرداروں پر مشتمل تھی، لیکن جس چیز نے انہیں حقیقی معنوں میں  ممتاز کیا وہ ان کی انسانیت کے حق میں  فکر مندی اور  دلچسپی تھی جو ان کے اثر و رسوخ کے ہر پہلو میں جھلکتی تھی۔ یہی وہ گہرا جذبہ تھا جو  سماجی اصلاحات کے لیے ان کی لگن، تشدد اور جنگ کی مخالفت، نسل پرستی کو مسترد کرنا، جمہوریت کے لیے ان کی وکالت، عالمی امن کے لیے ان کی غیر متزلزل وابستگی، تعلیم پر ان کی انتھک توجہ، سماجی ترقی کے لیے ان کی بے پناہ  کوششوں اور  خواتین کو بااختیار بنانے کی  جدوجہد  میں کارفرما تھا۔  
آغا خان سوم نے 3 اگست 1946 کو دارالسلام کلچرل سوسائٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے  کہا تھا کہ  ’اسلام کا مطلب امن ہے‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زندگی گزارنے کے اصول واضع کیے،  انسان اور انسان کے درمیان امن، فکر اور عمل میں امن، اور ہمیشہ تمام جانوروں اور تمام انسانوں کے ساتھ شفقت اور نرمی پر زور دیا۔یہ انسانیت کی فکر تھی جس نے آغا خان سوم کو بین الاقوامیت اور عالمگیریت کو اپنانے پر مجبور کیا اور انہی  تصورات کو  آنے والے وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے ذرائع کے طور پر  دیکھا  ۔  
پہلی جنگ عظیم کے بعد عالمی تاریخ میں ایک اہم  تبدیلی کے دور کا آغاز ہوا۔ 1919 کی پیرس امن کانفرنس نے لیگ آف نیشنز کو جنم دیا، جسے آج یونائٹڈ نیشنز کے نام سے جانا جاتا ہے،  ایک ایسا ادارہ جس کا مقصد بین الاقوامی ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ اس نازک لمحے میں
آغا خان سوم جنیوا میں برصغیر کے مندوبین کی قیادت کرتے ہوئے ایک ممتاز سیاستدان کے طور پر ابھرے۔ ان کی انسانی ہمدردی کی کوششوں نے انہیں جنوری 1924 میں نوبل انعام کے لئے نامزد کیا ۔ انہوں نے  ایک امن معاہدے کے بعد ترکی اور مغربی دنیا کے مابین ہم آہنگی برقرار رکھنے میں انتھک محنت کی ۔
ان کی سیاسی ثابت قدمی کے نتیجے میں  انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر   ذمہ داری کے کئی اہم عہدوں پر فرائض منصبی کی انجام دہی   کے لئے تیار کیا ،  جن میں  لیگ آف نیشنز کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دینا ، جو اقوام متحدہ کا پیشرو ادارہ تھا،  آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی اور صدر، لندن مسلم لیگ کے سرپرست، وائسرائے ہند میں 1906 کے مسلم ڈیپوٹیشن کے سربراہ،  آل انڈیا محمدن ایجوکیشنل کانفرنس کے صدر، گول میز کانفرنس میں برٹش انڈین وفد کے سربراہ، تخفیف اسلحہ کانفرنس کے نمائندے اور شملہ وفد کے سربراہ جیسے عہدے شامل ہیں ۔   انہوں نے نہ صرف تحریک پاکستان میں فعال شرکت کی ، بلکہ عالمی امن کے قیام اور اسے برقرار رکھنے کے لیے سفیر کی حیثیت سے بھی اہم کردار ادا کیا۔ان کی انہی خدمات کے باعث بیکانیر کے مہاراجہ نے ایک بار آغا خان سوم کو  “مشرق اور مغرب کو جوڑنے والا ایک پل” کے طور پر بیان کیا تھا، جو جدید دنیا کی دو بڑی تہذیبوں کو جوڑتا ہے۔
بقول آغا خان سوئم کے،لیگ آف نیشنز نے انہیں “بین الاقوامی امن کے مقصد کو فروغ دینے” کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا  ۔ دنیا میں امن قائم کرنے اور برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے روایتی اور جدید دونوں طریقوں کی تجویز پیش کی، جیسے  کہ غیر ملکی زبانیں سیکھنا، مختلف ادبی روایات کی کھوج  لگانا،  سفر کرنا، تعلیمی معیار کو بڑھانا اور عام لوگوں کی صحت کو بہتر بنانا وغیرہ۔ یہ ایسی سرگرمیاں ہیں جو کہ باہمی افہام و تفہیم اور دوستی کو زیادہ جامع نقطہ نظر کے ساتھ فروغ دیتی ہیں۔
27 ستمبر 1934  کو  لیگ آف نیشنز کے  15 ویں اجلاس کے دوران آغا خان سوم نے عالمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ 29 ستمبر 1936 کو 17 ویں اجلاس کے  دوران ان کی دانشمندی کی بازگشت ایک بار پھر سنائی دی ، جہاں انہوں نے بین الاقوامی افہام و تفہیم اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ لیگ آف نیشنز کے صدر منتخب ہونے کی حیثیت سے ، انہوں نے “جنگ کی بنیادی وجوہات کے پرامن خاتمے” کی پرجوش حمایت کی۔  ان کی قیادت نے ترکی، عراق، افغانستان اور مصر جیسے ممالک کو لیگ آف نیشنز میں شامل کرنے میں سہولت فراہم کی اور امن کے حصول میں اتحاد اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ تاریخی  پس منظر ہمیں احساس  دلاتا ہے کہ  آغا خان سوم کی کاوشوں کی گونج ان کی زندگی سے کہیں زیادہ ہے۔  ایک ہم آہنگ دنیا کے لئے ان کی بصیرت  کا اظہار ترقیاتی اداروں کے قیام کے ذریعے ہوا جو بعد میں آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) میں تبدیل ہوا۔  آج ان کے پوتے پرنس کریم، آغا خان چہارم نے پوری تندہی سے انسانیت اور امن و امان کے حصول کے اس تاریخی ورثے کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری اٹھائی ہوئی  ہے۔ ایشیا سوسائٹی کا گیم چینجر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد ، جو “ایشیا اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانے” میں ان کے کردار کے اعتراف میں پیش کیا گیا  تھا، آغا خان چہارم نے اپنی اور اے کے ڈی این اداروں کی طرف سے اپنائی گئی اقدار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی عالمی برادری کا کوئی بھی رہنما جس واحد  چیز کی امید اور دعا کرتا ہے  وہ امن ہی ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں، ہر کمیونٹی میں امن، تاکہ مرد اور عورت محفوظ رہ سکیں، طاقت، ہمت، امید اور دانشمندی کے ساتھ اپنے مستقبل کی تعمیر کر سکیں۔
اپنے دادا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، موجودہ آغا خان نے عوامی رائے عامہ کو فروغ دینے کے لئے جوش و جذبے سے کام کیا  ہے، اور ہمیشہ اُن تنظیموں کی حمایت کی  ہے جوتکثیریت کی حمایت کرتی ہیں، اور “دوسروں کی ثقافتوں، معاشرتی ڈھانچوں، اقدار اور عقائد کے ساتھ رواداری، کھلے پن اور ہمدردی” کی مثالیں پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے “تکثیریت کے حقیقی احساس” کو “انسانی امن اور ترقی” کی بنیاد کے طور پر بیان کیا ہے۔
20 سے زائد ممالک میں کام کرتے ہوئے ، اے کے ڈی این ایک بہتر دنیا کی تعمیر پر مبنی بصیرت  کا ثبوت ہے ،  جو اجتماعی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ معاشرے کے اندر کمزور اور پسماندہ افراد کے لئے ہمدردی اور فلاح و بہبود  کے لئے ایک بنیادی اتحاد پر مبنی ہے۔ گلوبل سینٹر فار پلورلزم جیسے اداروں اور پیرس پیس فورم جیسے  اسٹریٹجک پارٹنرشپ  کے  ذریعے اے کے ڈی این شمولیت کو فروغ دینے اور فوری عالمی ترقیاتی مسائل  سے نمٹنے کے لیے وقف  ہے، ان مسائل میں آب و ہوا کی تبدیلی، بیماریوں کا پھیلنا، بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور  جغرافیائی سیاسی تنازعات شامل ہیں۔  
اے کے ڈی این کی ایجنسیوں اور اداروں کا  ایک مشترکہ مقصد ہے کہ معاشروں اور لوگوں کو ایک ایسا ماحول پیدا کرنے میں مدد کرنا جس میں پرامن، پیداواری معاشرے پھل پھول سکیں۔ تحقیق، جدید زمانے کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے مسائل کے حل کی تلاش اور شراکت داری میں سرمایہ کاری کے ذریعے اے کے ڈی این، سر سلطان محمد شاہ  آغاخان کی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے عالمی چیلنجز سے نمٹنا جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں ہمدردی، شمولیت، تکثیریت اور انسانی وقار کی بحالی شامل ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔