دادبیداد….مغرب اورمسلمان… ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں یہ بحث چل رہی ہے کہ مغر بی اقوام کتوں، بلیوں، طوطوں اورکبوتروں سے محبت کر تے ہیں کسی جانور کو زخم آئے کسی جانور کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو نم دیدہ اور رنجیدہ ہو جاتے ہیں یہ ان کی بڑی خو بی ہے دوسری طرف فلسطین کے شہر غزہ میں ہزاروں عورتوں، بوڑھوں، بیماروں، معصوم بچوں اور بچیوں کا خون بہانے کے لئے اسرائیل کو دھڑا دھڑ امداد دے رہے ہیں ان پر مغربی اقوام کو ذرا بھی ترس نہیں آتا ذرہ برابر رحم نہیں آتا سوال اُٹھایا جاتا ہے کیا فلسطینی بچوں اور بچیوں کی حیثیت مغربی اقوام کی نظر میں کتے، طوطے اور بلی کے برابر بھی نہیں؟ غزہ کے 16تباہ شدہ ہسپتالوں میں کتوں، بلیوں کی جگہ انسانوں کا علا ج ہوتا تھا کیا مغربی اقوام نہیں چا ہتے کہ دکھی انسانیت کی خدمت ہو، بیماروں کا علاج ہو غم زدہ انسانوں کی جان بچائی جا ئے؟ اس بحث کو سمیٹنے کے لئے پو چھے گئے سوالات کا جواب روسی مصنف اور محقق گریگوری باندریو سکی (Grigori Bandarevsky) نے نصف صدی پہلے دیا تھا ان کی کتاب ”مسلمز اینڈ دی ویسٹ“ کو پا کستان میں پیپلز پبلشنگ ہاوس نے 1985میں شائع کیا روسی مصنف نے تاریخی حوالوں سے ثا بت کیا ہے کہ مغربی اقوام کی نظر میں مسلمان کی حیثیت کتے اور بلی سے بد تر ہے ان کو جا نوروں پر رحم آتا ہے مسلمانوں پر رحم نہیں آتا مغرب نے مسلمانوں کو کبھی قبول نہیں کیا مغربی اقوام نے مسلمانوں کے خلا ف 9صلیبی جنگیں لڑی ہیں قارئین کو یاد ہو گا کہ 11ستمبر 2001کو نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کے دو دن بعد اپنی نشری تقریر میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش نے ایک بار پھر صلیبی جنگ کا عندیہ دیا تھا یہ دسویں صلیبی جنگ افغانستان میں لڑی گئی صلیبی جنگوں میں دشمن نے جو علا قے مسلمانوں سے چھین لئے ان میں فلسطین بھی تھا 1187میں سلطان صلا ح الدین ایو بی کی قیا دت میں مسلمانوں نے اپنے جو علا قے آزاد کرائے ان میں فلسطین بھی ہے مصنف لکھتا ہے کہ 1096ء سے 1099ء تک لڑی گئی پہلی صلیبی جنگ میں مغر بی طا قتوں نے اردن، مصر، شام، عراق اور فلسطین میں ایک لا کھ مسلمانوں کا قتل عام کیا یہ سلسلہ 1291ء تک جا ری رہا، آٹھویں صلیبی جنگ 1187ء میں اور نویں صلیبی جنگ 1291ء میں لڑی گئی بانڈر یو سکی نے ثبوتوں کے ساتھ لکھا ہے کہ برطانوی حکومت نے خلا فت اسلا میہ کے خلا ف عرب شیوخ کو دھوکہ دہی سے اکسا نے اور شیشے میں اتار نے کے بعد 1916ء میں ایک منصوبہ تیار کیا کہ فلسطین میں یہو دیوں کو ایک خو د مختار ملک دینے کے لئے فلسطین کی آبادی کا تنا سب بگاڑ دیا جا ئے 1916ء میں فلسطین کی آبادی کا 6فیصد یہو دیوں پر مشتمل تھا اس منصوبے کے تحت باہر سے یہو دیوں کو لا کر یہاں بسا نے کا کا م شروع ہوا 2نو مبر 1917ء کووزیر خار جہ با لفور نے برطانوی یہو دیوں کے لیڈر لارڈ روتھ شیلڈ کو لکھے گئے سر کاری خط میں یقین دلا یا کہ فلسطین کو بہت جلد یہو دیوں کا عالمی مر کز بنا یا جا ئے گا اور اس مقصد کے لئے بر طانوی حکومت ہر ایک حر بہ آزما ئے گی اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے گی دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے ہیرو شیما اور ناگا سا کی میں 7لا کھ بے گنا ہ انسا نوں کا قتل عام کر کے خود کو ایٹمی طاقت کے طور پر منوا یا امریکہ کی صورت میں یہو دیوں کو ایک نیا سر پرست مل گیا 1948ء تک فلسطین کی آبا دی میں یہو دیوں کا تناسب 32فیصدکے قریب ہوا تو مغربی اقوام نے فلسطین سے عرب مسلما نوں کو نکال کر صہیونی ریاست کے قیام کا اعلان کیا غزہ کی حالیہ جنگ مغرب کے اس تاریخی موقف کے تسلسل میں مسلمانوں پر مسلط کی گئی ہے یہ نئی بات نہیں تاریخ کا مطالعہ ہمیں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ مغربی اقوام کے نزدیک کتے یا بلی کی جان پہلے بھی مسلمان کی جان سے زیادہ وقعت رکھتی تھی آج بھی وہ جانور کو مسلمان سے بہتر سمجھتے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔