ریچ کے چند خود ساختہ نمائندگان کی پریس کانفرنس عوام ریچ اور ضلعی انتظامیہ کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔عمائدین خوشناندوری و بالائی ریچ کی پریس کانفرنس

چترال (چترال ایکسپریس)خوشناندوری اوربالائی ریچ کے عمائدین سجادزرین ،سید سردارعلی شاہ ،مراددرست،سیدسجادحسین شاہ ،ساجدولی خان ،شیرفرازاوردوسروں نے جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ گزشتہ روز علاقہ ریچ کے چند خود ساختہ نمائندگان نے پریس کانفرنس کرکے عوام ریچ کو بالخصوص اور ضلعی انتظامیہ کو بالعموم گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی اور عدالتی فیصلوں کا بھی سرعام مزاق اڑایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ مذکورہ پریس کانفرنس میں تاریخی حقائق کو بھی مسخ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔جبکہ تاریخی حقائق کچھ یوں ہیں کہ علاقہ ریچ قوم خوشے، رضاخیل، بائکے، قوم سادات اور قوم یوفت پر مشتمل تقریباً 800 گھرانوں پر مشتمل ہے۔ سال 1989ء میں شاہجنالی/مغلنگ کے اوپر قوم رضائے خیل اور عوام ریچ کے درمیان مقدمہ بازی سول کورٹ سے ہو کر سپریم کورٹ تک فیصلہ شدہ ہے۔ان فیصلوں میں بھی عوام ریچ کو مذکورہ زمینات میں کسی قسم کا استفادہ نہیں دیا گیا تھا، مگر علاقہ ریچ کے چند شرپسند عناصرنے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دوبارہ ایک کیس سول کورٹ میں داخل کردیا تھا جو ان کے خلاف فیصلہ شدہ ہے اور سیشن کورٹ نے بھی سول جج کا فیصلہ برقرار رکھا۔اس کے بعد 2018 تک علاقے کا امن امان برقرار رہا۔ مگر 2018ء میں علاقے میں انہی شر پسندوں نے چند سیاسی لوگوں کی ایماء پر دوبارہ ڈپٹی کمشنر چترال کو درخواست دی ان کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چترال نے علاقہ رونگ اور ملحقہ علاقے کے اوپر دفعہ 145 کا نفاذ کردیا اور باقاعدہ مقدمہ بازی کا آغاز ہوا۔پانچ سال مسلسل مقدمہ بازی کے بعد مذکورہ شرپسند عناصر/ملزمان اپنے الزامات اور مقدمہ بازی سے بر طرح شکست کھا گئے اور ہم نے اپنا مقدمہ عوام ریچ ہی کے شہادتوں کے ذدیعے ثابت کردیا اور کیس سول کورٹ سے جیت گئے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ فیصلہ شدہ رونگ جو کہ موغولونگ اور شاہ جنالی کے شمال مغربی سائڈ پہ واقع الگ درہ ہے نہ ہی پہلے کیس سے اس کا تعلق تھا اور نہ ہی ہم اس میں فریق تھے۔ علاقہ رونگ پہ 1988 میں اہلیان خوشناندوری قوم خوشے اور اہلیان بولاشٹ، پرگرام اور روا کے درمیان صلح نامہ ہوا اور اسی صلح نامے کی رو سے عدالتی فیصلے ہو گئے۔انہوں نے کہاکہ ان لوگوں نے عدالتی فیصلوں کی کھلے عام خلاف ورزی کرتے ہوئے تصفیہ شدہ زمین رونگ اور ملحقہ زمینات کے اوپر قبضہ جمانے کی ناکام کوششیں کیں ہیں ۔ان کے اس غیر قانونی فعل پر کارروائی کرتے ہوئے مقامی ایس ایچ او اور اسسٹنٹ کمشنر نے ملوث ملزمان کو جیل بھیج دیا۔اب یہی لوگ نہ صرف توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں بلکہ اپر چترال کے ضلعی انتظامیہ کو بھی گمراہ کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں اور علاقے کے امن امان کو سبوتاژ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ ملزمان خود کو پورے علاقے کا نمائندہ گردانتے ہیں حالانکہ آج کے پریس کانفرس میں سادات خاندان اور یوفت خاندان سے تعلق رکھنے والے نمائندے جو کہ علاقہ روا، پرگرام اور بولاشٹ کی نمائندگی کررہے ہیں وہ بھی ملزمان کے اس خود ساختہ پریس کانفرنس اور الزامات کومستردکرتے ہیں ۔ یہ کچھ شرپسند عناصر/ملزمان جو خود کو علاقے کے نمائندہ بتلاتے ہیں مگر علاقے کے ذیادہ تر لوگ نہ ان کے ساتھ شامل ہیں اور نہ ہی کیس کے دوران ان کے پاس پورے علاقے کے لوگوں کا مختار نامہ تھا۔انہوں نے مزیدکہاکہ اگر اپر چترال کے عدلیہ،پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے مذکورہ ملزمان کے اوپر اپنی رٹ منوانے میں سستی دکھائی تو ہم بھی قانون اپنے ہاتھوں میں لینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اور اس کی زمہ داری مزکورہ لوگوں اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین پر الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں ان کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ مذکور سرکاری ملازمین نہ ضلع اپر چترال میں تعینات ہیں اور نہ ہی عدالتی اور انتظامی معاملات میں مداخلت کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے قانونی چارہ جوئی کے تمام فیصلہ جات اپنے اوربالائی ریچ کے عوام کے نام کردی ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔