سیلاب متاثرہ علاقوں میں گرین کلائمیٹ فنڈ ز سے بارہ آرب روپے مختلف منصوبوں پر خرچ کی جارہی ہیں۔رشید خان

چترال (چترال ایکسپریس)چترال اپر کے خوبصورت گاوں ریشون جو گزشتہ ایک دہائی سے سیلاب اور دریائے چترال کی کٹائی کی زد میں ہے جس کے باعث اس خوبصورت گاوں کی تقریبا نصف آبادی متاثر ہےکو سیلاب کی مذید تباہ کاریوں سے روکنے کیلئے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یو۔این۔ڈی ۔پی کے گلاف ٹو پراجیکٹ کے تحت حفاظتی پشتوں، ایریگیشن چینل اور کمیونٹی سنٹر کی تعمیر مکمل کی گئی ہے۔ جس سے متاثرہ علاقے کی عمائدین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔گلاف ٹو پراجیکٹ کے تحت ملاکنڈ کے دیگر تین اضلاع سوات کے کالام ویلی اور اپر دیر کی سیاحتی مقام کمراٹ بھی شامل ہے۔ تینوں وادیوں میں حفاظتی پشتوں کی تعمیر، ابپاشی کے سیلاب بردہ نہروں کی بحالی کے ذریعے ایگریکچر سیکٹر کی بحالی کی ہے۔ اس کے علاوہ خطرے سے دوچار کمیونیٹیز کو مقامی دانش، ضرورت اور حالات کے عین مطابق ڈیزاسٹر پلان بنانے اور اس پر عملدرامد کے لئے کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن بنانے اور ان کو مزید سہولت کاری کے لئے کمیونٹی ہال تعمیر کرنے اور سیلاب کے لمحات میں گاؤں کی کسی اونچی مقام پر محفوظ پناہ گاہ سیف ہیوین بھی تعمیر کردی ہے۔ اس کے علاوہ جگہ جگہ ارلی وارننگ سسٹم اسٹیشن بھی قائم کردی ہے تاکہ سیلاب کی پیشگی اطلاع سے لوگ محفوظ مقام پر بروقت منتقل ہوسکیں۔ ان علاقوں میں سیلاب کے رخ کوروکنے کے لئے کروڑوں روپے مالیت کے بڑے بڑے حفاظتی پشتے ان کمیونیٹیز کو احساس تحفظ دلارہے ہیں۔

گزشتہ دنوں صحافیوں نے ان علاقوں میں زیر تعمیر اور مکمل شدہ پراجیکٹس کمیونٹی ہال، پناہ گاہوں اور حفاظتی پشتوں کا معائنہ کیا اور استفادہ کرنے والی کمیونٹی سے ملاقات کی جن کے چہروں پر یواین ڈی پی کے لئے اظہار تشکر عیاں تھا۔

یواین ڈی پی کے کوارڈنیٹر رشید خان نے اس موقع پر بتایا کہ گلیشئر پھٹنے سے آنے والا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گرین کلائمیٹ فنڈ ز سے بارہ آرب روپے مختلف منصوبوں پر خرچ کی جارہی ہیں۔اب تک کئی منصوبے تکمیل کو پہنچے ہیں جبکہ بعض تکمیل کے اخری مراحل میں ہیں۔ اپر چترال کے ضلعے میں گاؤں ریشن بھی اس پراجیکٹ میں شامل ہے جہاں حفاظتی پشتے،کمیونٹی ہال اور زراعت کی بحالی کے لئے ایریگیشن چینلز کی تعمیر نو کا کام مکمل کی گئی ہے۔ ان تینوں اضلاع میں منتخب بلدیاتی نمائندوں، عمائیدیں اور سی بی ڈی آرایم سی کے نمائندوں نے میڈیا والوں کو بتایاکہ اس پراجیکٹ کے تحت کئے گئے اقدامات کی وجہ سے اب وہ موسم گرما میں کسی بھی وقت گلیشائی جھیل کے ٹو ٹ جانے کے خوف سے آزاد ہوگئے ہیں۔انھوں نے یواین ڈی پی اور گلاف ٹو پراجیکٹ کے تمام حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان منصوبوں کو مذید وسعت دینے اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی شروع کرنے کی استدعاکی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔