پاکستان کا بیڑہ غرق کرنے کے بعد بلاول قوم کو سیاسی پھکی دینے کی نا کام کوشش کر رہے ہیں۔عبدالطیف

چترال(چترال ایکسپریس)سولہ ماہ تک پی۔ڈی۔ایم حکومت کے مزے لوٹ کر پاکستان کا بیڑہ غرق کرنے کے بعد بلاول قوم کو سیاسی پھکی دینے کی نا کام کوشش کر رہے ہیں۔سندھ میں پندرہ سال سے مسلسل حکومت کر رہے ہیں لیکن تھر کے لوگ اج بھی علاج اور خوراک نہ ہونے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار تحریک انصاف کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری عبداللطیف نےبلاول بھٹو  زرداری کے چترال میں خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کیا۔اانہون نے کہنا کہ بلاول جن بابون کو سیاست چھوڑنے کا اج مشورہ دے رہے ہیں  انھی کی امامت میں ان کے والد اصف زرداری نے سندھ ھاوس منڈی لگا کر لو ٹے خرید کر رجیم چینج میں ایک غلیظ کر دار ادا کیا اور 6 فیصد ترقی کر تے پاکستان کو ایسی سیاسی اور معاشی دلدل میں پھنسا دیا جس سے نکلنے میں شاید کئ سال لگ جائیں ۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے چترال کو ترقی دینے کیلئے جو منصوبے شروع کۓ تھے وہ بلاول کی اتحادی حکومت میں فنڈنگ کی عدم فراہمی کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گئے جن میں چترال بونی شندور روڈ۔کیلاش ویلی روڈ اور گرم چشمہ روڈ شامل ہیں لیکن بلاول نے اس حوالے سے ایک لفظ بولنا بھی گوارا نہ کیا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے عوام کو علاج کی مفت سہولت کے لۓ صحت کارڈ کا اجرا کیا لیکن مریم صفدر کی فرمائش پر جب یہ پروگرام ختم کیاگیا اس وقت بھی عوام کے حق کے بولنے کی توفیق نہ ہوئی۔ موصوف نے یہ لولی پاپ دینے کی بھی کوششں کی کہ میں گندم کی سبسڈی بحال کروں گا لیکن موصوف کو یہ تک پتہ نہیں کہ گندم سبسڈی تھی ہی نہیں تو موصوف کس چیز کو بحال کرینگے ؟ بلکہ گندم کی قیمتیں ان کی اتحادی حکومت کی تباہ کن پالیسیوں کی وجہ سے غریب عوام کی پہنچ سے دور ھو چکی ھے۔ موصوف سولہ مہینے عوام کے پیسوں سے پوری دنیا گھومتے رہے لیکن چترالی عوام ان کو یاد نہ اۓ لیکن اب جب الیکشن قریب ہیں تو چترالی عوام کو لولی پاپ دینے تشریف لاے۔ انہوں نے کہا کہ کتنی افسوس کی بات ہے کہ اج پاکستان میں ان کے نانا کے دور میں بنائے گئے ائین کے ساتھ جو نا روا سلوک کیا جا رہا ہے اور ملک میں ائینی اور شخصی ازادیوں کو پاون تلے روندا جا رہا ہے لیکن موصوف ستو بی کر سو رھے ہیں۔اج پاکستانی عوام اور خصوصاً چترال کے لوگ شعور کے اس سطح پر ہیں ان کو اس طرح کی سیاسی پھکیون سے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔