دادبیداد..آپ کا قیمتی ووٹ…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

ووٹ کا اردو تر جمہ رائے دہی کیا جا تا ہے لیکن روزہ مرہ گفتگو میں رائے دہی کسی اجنبی اور انجان سی زبان کی تر کیب معلوم ہو تی ہے اس کے مقابلے میں انگریزی کا لفظ ووٹ ہمیں مادری زبان کا لفظ لگتا ہے یہ تعلیم، سکول، کا لج اور ذرائع ابلا غ کا جادو ہے جس نے ہماری اپنی زبان کو بیگا نہ کر دیا ہے اور سات سمندر پار سے لائی گئی زبان کو ہمارے دل کے قریب کر دیا ہے، جب بھی انتخا بات کا وقت قریب آتا ہے آپ کا قیمتی ووٹ یا د آجا تا ہے اور جب انتخا بات کا نظا م الاوقات یعنی غیروں کی ما نوس جیسی زبان میں شیڈول آجا تا ہے تو ہمارے درو دیوار ”آپ کا قیمتی ووٹ“ والے پوسٹروں اور بینروں کی بہار دکھا تے ہیں پھر آپ کا قیمتی ووٹ ایک مقبول جملہ بن جا تا ہے جو انتخا بات کے دن تک ہر ایک کی زبان پر ہو تا ہے مائی چندانہ ایک دیہا تی خا تون گاوں میں اپنی خد مت کے لئے شہرت رکھتی ہے سما جی خد مت کے ساتھ سیا سی تحریکوں میں بھی دلچسپی لیتی ہے مائی چندانہ نے سوال اٹھا یا ہے کہ آپ کا قیمتی ووٹ کے بدلے میں ایک پلیٹ چاول کے سوا کبھی کچھ نہیں ملا میرا ووٹ کیسا قیمتی ہے؟ کیا میرے ووٹ کی قیمت ایک پلیٹ چاول ہے؟ جو چیز ایک پلیٹ چاول کے عوض فروخت ہوتی ہو اس کو قیمتی کیوں کر کہا جاسکتا ہے؟ مائی چندانہ نہ کبھی گاوں سے با ہر نہیں نکلی اس کو اب تک شہر کی ہوا نہیں لگی وہ ایوان اقتدار کی راہداریوں سے یکسر نا بلد اور نا واقف ہے اُسے پو لنگ سٹیشن سے اُس پار کا کوئی علم نہیں، اس لئے ہم نے منا سب جا نا کہ مائی چندانہ اور اُس جیسے دوسرے ووٹروں کو ووٹ کی اصل قیمت سے آگاہ کیا جا ئے ہم نے ایک نشست میں ان کے سامنے انکشاف کیا کہ آپ کا ووٹ قیمتی ہے مگر آپ کے لئے نہیں جس کو آپ ووٹ دیتے ہیں اُس کے لئے قیمتی ہے وہ آپ سے ووٹ لینے کے لئے 5کروڑ روپے خر چ کر تا ہے اس میں سے آپ کو پھوٹی کوڑی نہیں ملتی وہ آپ کا ووٹ لیکر اسمبلی میں جاتا ہے تو قائد ایوان کے انتخا ب کی جنگ میں آپ کا ووٹ 10کروڑ روپے میں فروخت کر کے اپنا سرمایہ سود اور منا فع کے ساتھ حا صل کر تا ہے اس کے بعد سینٹ کے انتخا بات کا مر حلہ آجا ئے تو آپ کا ووٹ ایک بار پھر 20کروڑروپے میں بِک جا تا ہے اس لئے سیا نے لو گوں نے یہ آپ کو پیغام بھیجا ہے کہ آپ کا قیمتی ووٹ قوم کی امانت ہے اور ووٹ مانگنے والوں میں ہر ایک اپنی تصویر چھپوا کر لکھتا ہے کہ آپ کے قیمتی ووٹ کا حقدار میں ہوں کوئی اور نہیں، میں نے کا غذ پر آپ کے قیمتی ووٹ کا لکھ کر کا غذوہیں رکھ دیا اور با ہر نکل گیا تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو شاہ صاحب نے جملے کو یوں مکمل کیا تھا ”آپ کے قیمتی ووٹ کا اچار ڈالنا ہے“ میں کہا یہ غلط ہے شاہ صاحب بولے 2021میں بلدیا تی انتخا بات پر 18ارب روپے خر چ ہوئے ضمنی انتخا بات پر مزید 5ارب روپے خر چ ہوئے، منتخب نمائیندوں کو نہ مرا عات ملے نہ اختیارات ملے اس لئے آپ کے قیمتی ووٹ کا اچار ہی ڈالنا ہوگا میں نے کہا ہمارے سب حکمران جب اقتدار سے محروم ہو تے ہیں تو قوم کو بتا تے ہیں کہ میرے پاس اختیارات نہیں تھے، شاہ صاحب بولے ”اچار ہی ڈالنا ہے“ میں نے کہا مائی چندانہ کو اب یہی بتاونگا کہ آپ کا قیمتی ووٹ اسمبلی کے ممبر کو ارب پتی بنا تا ہے مگرآپ کے لئے اس کا مصرف اچار ڈالنا ہی رہ گیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔