انقلاب اور گالیاں… شمس الرحمن تاجک

فیس بک پر موجود ہر پوسٹ شیئر کرنے کیلیے نہیں ہوتا اور نہ ہی اپنی ہر ذاتی رائے کو قول سید سمجھ کر فیس بک کے وال پر انڈیلنا چاہیے۔ کچھ پوسٹس شیئر کرکے آپ اپنی ذہنی کم مائیگی اور سوچ کی پستی کا اعلان کررہے ہوتے ہیں۔
اختلاف دلیل کا متقاضی ہوتا ہے۔ جس اختلاف کے اظہار کے لیے گالی کا سہارا لینا پڑے۔ آپ سے اختلاف رکھنے والے کی ذات اس کا نشانہ بنے اور آپ اس کو جائز سمجھنے لگیں تو ۔۔۔۔۔ سمجھ لینا چاہیے کہ فی الحال انسانی تاریخ، بنی نوع اِنسان کے عروج و زوال پر لکھی گئی کوئی ایک کتاب یہاں تک کہ ڈگری کے لئے رٹا گیا ہر لفظ دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔
کسی بھی لفظ کا استعمال کرنے سے پہلے اپنے آپ کو مخالف یا مقابل کے جگے پر براجمان کرکے وہ گالی اپنے لیے استعمال کرکے سوچنے والے لوگ دنیا میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں اگر کوئی اور جھوٹ یا سچ، یہی الفاظ آپ کے لئے استعمال کرے تو آپ کو تکلیف ہوگی یا ڈھیر ساری خوشیاں ملیں گی ۔اس کا سامنے والے پر بھی وہی اثر ہوتا ہے۔
انسانی تاریخ کے وہ کردار جو کسی تبدیلی کا موجب بنے ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو ذہنی پسماندگی کا اتنا زیادہ شکار رہا ہو کہ اس کے فالوورز کی گالیاں اس کے لئے ہتھیار کا متبادل رہے ہوں۔ دنیا بدلنے والے ہمیشہ سے ایک بہترین کردار کے مالک رہے ہیں۔ مخالفین کی تذلیل کرنے والے کبھی امر نہیں ہوا کرتے بلکہ دلیل کے سہارے انہیں راہ راست پر لانے والے تاریخ کے مقدس ترین شخصیات کے طور پر ہر زمانے میں زندہ رہتے ہیں۔
یاد رہے اختلاف اور آزادی اظہار رائے ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ مگر گالی دینا اور لوگوں کی تذلیل کے پہلو عیاں کرکے خوش ہونا کسی بھی شخص کا کسی صورت حق نہیں ہو سکتا۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔