دھڑکنوں کی زبان ۔۔”کھوار ادب کی چھتری ۔۔انجمن ترقی کھوار۔۔“۔۔۔محمد جاوید حیات

چترالی زبان کھوار اور کھو تہذیب کی احیا میں جو بے مثال کردار ”انجمن ترقی کھوار “ کا رہا ہے اس کی جتنی تعریف کی جاۓ کم ہے ۔چترال میں بولی جانے والی زبان کھوار جس کی وسعت اب چترال سے نکل کر پاکستان افعانستان اور دنیا کے کٸ ممالک تک ہے۔ کھوار بولنے والے دنیا میں جہان جہاں ہیں وہاں وہاں اس شرین زبان کا استعمال ہوتا ہے ۔اس کی ترقی اور تحفظ کے لیے جس تنظیم نے منظم کوشش کی اور کر رہی ہے وہ انجمن ترقی کھوار ہے ۔۔اس کی تاریخ بہت پیچھے جاتی ہے چترال میں کٹور حکمرانوں اور خاندان کی ایک خصوصیت اور مہا کام یہ ہے کہ انہوں نے سنجیدہ طور پر اس زبان کی خدمت کی ہے اور اس کی حفاظت کی ہے اس کا ایک ثبوت شہزادہ حسام الملک کی کھوار کے لیے خدمات ہیں اور دوسری مثال آج بھی کٹور خاندانوں میں خالص کھوار شوق ،دلچسپی اور عقیدت سے بولی جاتی ہے ۔انجمن ترقی کھوار نے شروع میں” ترقی چترال“ کے نام سے کام شروع کیا اس وقت کھوار زبان کی ترقی اس تنظیم کا ایک حصہ تھا یہ تنظیم صرف کھوار کے لیے کام نہیں کر رہی تھی لیکن بعد میں شہزادہ صاحب کے لگاۓ ہوۓ پودے کی ابیاری کی ذمہ داری جن باغبانوں کے حصے میں آٸی وہ کمال کے تھے ۔غلام عمر مرحوم اور ان کے شاگرد خاص ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کھوار زبان کے لیے تخفہ بن کے آۓ بیڑھا اٹھایا اور ان کو ایک تہذیبی اور ادبی زبان بنانے میں کوٸی کسر نہیں چھوڑی یہ کھوار زبان و ادب کا زرین دور کہلاتا ہے ۔۔انہوں نے ایسے اہل قلم اہل علم اور مخلص ساتھیوں کو جمع کیا کہ انہوں نے اپنا وقت جان مال تک کھوار زبان و ادب کی ترقی کے لیے تج دی ۔۔ ہم اس کے چشم دید گواہ ہیں انہوں نے صرف شاعری نہیں کی بلکہ سنجیدہ خدمت کی آج اگر کھوار زبان و ادب کا کوئی محسن ہے تو وہ وہی ہستیاں ہیں جنہوں نے اس کھوار کی بے لوث خدمت کی ہے ۔۔مجھے یاد ہے کہ کھوار زبان کے لیے سمینار کا آغاز میرے سامنے ہوا ان کے لیے جو تگ و دو ہوتی تھی جو محنت ہوتی تھی وہ ان تھک تھی۔۔دور پسماندہ تھا سارا کام دوڑدھوپ اور ہاتھ سےکرنا پڑتا تھا ۔ڈاکٹر فیضی صاحب ہمیں کام سونپتے لیکن دوسرے دن خود فاٸل بھر بھر کے لاتے اس مشین نما انسان نے صدیوں کا کام سالوں میں کیا ۔انٹرنشنل کلچرل کانفرنسیں، سمپوزیم ،سیمینار،ملک اور ملک سے باہر کانفرنسوں میں کھوار کی نماٸندگی کھوار زبان و ادب کو اخباروں رسالوں اور میڈیا کی زینت بنانا یہ فیضی صاحب اور ان کی ٹیم کی محنت تھی۔آج کھوار زبان کا تعارف ساری دنیا میں ہے ۔کھوار میں شاعر ادیب اور لکھاری پیدا ہوۓ کھوار پر تحقیق ہونے لگی ادب تخلیق ہونے لگا ۔انجمن ترقی کھوار کھوار ادب کا امبریلا ہے اسی کے ساۓ میں یہ سب کچھ ممکن ہوا ہے ہر لکھاری ہر ادیب شاعر ہر قلم کار کو اس کا احسان مند ہونا چاہیۓ ۔انجمن ترقی کھوار کے موجودہ صدر شہزادہ تنویر الملک کی خدمات بے لوث ہیں انہوں نے اپنا وقت اس بے ہنگم دور میں اپنے لیے اوراپنے خاندان کے لیے وقف کرنے کی بجاۓ انجمن کے لیے وقف کی ہے یہ وہ فرد محسوس کر سکتا ہے جس نے انجمن کے لیے کام کیا ہے ۔آج افراتفری کا دور ہے لوگوں کے پاس کسی کو دینے کے لیے سب کچھ ہے ایک وقت نہیں ہے اور شہزادہ تنویر اپنے اس قیمتی چیز کو انجمن کے لیے وقف کیا ہے ۔شہزادہ تنویر بھولے بھالے اور بے مثال شخصیت ہیں ان میں خاکساری، صبر برداشت، استقلال سب کے لیے احترام ہے وہ بے لوث خدمت کر رہے ہیں ان پہ رشک آتا ہے ۔۔موجودہ دور میں اگر کھوار زبان کسی پہ فخر کرے گی تو وہ شہزادہ تنویر ہوں گے یہ ان بزرگوں اور خاص کر ڈاکٹر فیضی اور ان کی ٹیم کے بقاجات میں شامل ہیں ۔انہوں نے ادیبوں شاعروں اور فن و ادب کی خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزاٸی اور ان کی خدمات کو سراہنے کے لیے ایوارڈ کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس کے لیے ہم ان کے اور تورکھو کے محترم محمد نبی خان کے بہت شکر گزار ہیں انہوں نےہماری پہچان کھوار زبان کی خدمت کرکے اپنے آپ کو امر کر دیا ہے ۔۔اس سال جن کوایوارڈ دیا گیا بقول ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب بہترین انتخاب تھا ۔۔ہمارے لوک فنکاروں ہمارے مرحومیں جنہوں نےکھوار زبان و ادب کی خدمت کی اور پھر سینیر قلم کاروں کی حوصلہ افزاٸی ہوٸی ۔۔پروفیسر ظہور الحق دانش اور ہیڈ ماسٹر عالمگیر بخاری نوجوان باصلاحیت اور کھوار زبان و ادب کی خوبصورتی ہیں ۔۔اس محفل میں کھوار زبان و ادب کے تارے جمع تھے محفل بڑی پیاری لگی ۔۔ خیر الدین اور قربان زار کی شرین آوازیں گونجیں ۔۔انعام حاصل کرنے والوں میں ہر علاقے اور ہر طبقے کی نماٸندگی تھی ۔مہمان خصوصی شہزادہ حشام الملک کاآخری جملہ تھا کہ اللہ کھوار اور چترال دونوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔۔۔۔انجمن ترقی کھوار ایک چھتری ہے جس کے نیچے کھوار زبان کے ادیب و شاعر سانس لے رہے ہیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔