* *سرور کونین کی شادی حضرت خدیجہ الکبرا ؓ سے***تحریر۔۔۔ شہزادہ مبشرالملک*

# *تقریب نکاح*

سفر شام۔۔۔ کے دو مہینے بعد
595ء آپ ﷺ کی عمر مبارک25 سال اور بی بی خدیجہ کی عمر40 سال تھی۔ ایک پرتکلف تقریب میں بی بی خدیجہ سے نکاح کی۔ بی بی خدیجہ بینت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی نہایت دانشمند ،مستول مزاج ،شریف انفس متمول اور حسین و جمیل خاتون تھیں ۔زمانہ جاہلیت میں ہی طاہرہ اور سیدہ قریش کے لقب سے پہچانی جاتی تھیں۔ اس تقریب میں قبیلہ مضر کے روءسا اور ابوبکر ؓ بھی دوست کی حیثیت سےشریک ہوئےحضور کے ساتھ ان کے چچائیں موجود تھے ۔چچا ابوطالب نے مختصر خطبہ دیا جس میں ال ابراہہیم کے فضایل بیاں کیے رشتے پر خوشی اور شکریہ کا اظہار کیا جواب میں دلہن کی طرف سے بی بی خدیجہ کے چچا ذاد بھائی ورقہ بن نوفل نے جوابی کلمات میں قریش اور بنو ہاشم کے فضیلت بیاں کیے ۔ جناب ابو طالب کی خواہش پر حضرت خدیجہ کے چچا عمرو بن اسد نے بھی خطبہ دیا ۔ بی بی کا حق مہر ساڑھے بارہ اوقیہ سونا طے پایا جو حضور نے اسی وقت ادا کیے۔ دعوت ولیمہ میں دو اونٹ ذبح کیے گئے ۔خدیجہ کی کینزوں نے دف بجا کر گیت گایے۔ بی بی خدیجہ کی پہلی شادی ۔۔۔ عتیق مخزومی سے ہوئی تھی اس کے انتقال کے بعد ابو ہالہ سے شادی کی اور ایک بچہ بھی ہوا مگر جلد ہی ابو ہالہ بھی انتقال کر گیے ۔اس کے بعد عرب کے بڑے بڑے سرداران نے رشتے بھیجے مگر بی بی خدیجہ نے انکار کیں اللہ تعالی نے اپنے حبیب کے لیے بی بی کا انتخاب کر رکھا تھا اور قرش کے مالدار حضور کے اس رشتے پر رشک کرتے تھے۔وقت کے ساتھ ساتھ حضور انور کے ساتھ 25 سالہ رفاقت میں بی بی خدیجہ کی باطن سے آپ ﷺ کے دو بیٹے ابراہیم اور عبداللہ اور بیٹیاں زینب ۔رقیہ ۔ام کلثوم اور فاطمہ ؓ پیدا ہوئیں۔ بیٹے بچپن میں ہی وفات پا گئے۔ حضور اقدس کی خدیجہ ؓ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ کی زندگی میں حضور نے دوسری شادی نہیں کی اور حضرت خدیجہ کی حضور اقدس سے محبت اس قدر تھی کہ اپنا مال متاع حضور اور دین اسلام پر قربان کر دی اور مسلمانوں پر خواتین میں سب سے زیادہ احسان حضرت خدیجہ الکبرا ؓ کا ہی ہے۔

بحوالہ۔ دلایل نبوت۔ محمد رسول اللہ ۔الرحیق المختوم ۔تجلیات نبوت۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔