ا نجمن ترقی کھوار اوربا با ئے کھوار کمال فن ایوارڈ…شہزادہ تنویرالملک .مرکزی صدرانجمن ترقی کھوارچترال

گزشتہ دنوں انجمن ترقی کھوارکے پلیٹ فارم سے چوتھے بابائے کھوار(شہزادہ محمدحسام الملک)کمال فن ایوارڈکی تقریب کے انعقاد کے بعد سوشل میڈیاپر سوال اٹھایا گیاکہ کیاانجمن رجسٹرڈ تنظیم ہے اورایوارڈ دینے کی مجازہے۔جس شخصیت کے نام پرایوارڈدیاجارہاہے کیاوہ واقعی بابائے کھوارکہلانے کے مستحق ہیں۔ان باتوں کی وضاحت کے لیے اس مضمون کی ضرورت محسوس ہوئی۔چونکہ انجمن ترقی کھوارکی بنیاد1957ء میں گورنر دروش شہزادہ محمدحسام الملک کے ہاتھوں پڑی تھی اوروہ تادم حیات اس تنظیم کے صدررہے۔انجمن ترقی کھوارپرکچھ لکھنے سے پہلے مختصراََ شہزادہ حسام الملک کی ادبی وتحقیقی خدمات کاجائزہ پیش کرتے ہیں تاکہ قارئیں کومعلوم ہوکہ اس ایوارڈکو شہزادہ حسام الملک سے منسوب کرنابے سبب نہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتاہے کہ شہزادہ موصوف بچپن ہی سے کھوارزبان واَدب سے دلچسپی اورمحبت رکھتے تھے اور نوجوانی کے دِنوں سے ہی حسام ؔ کے تخلص سے کھوارمیں شاعری کیاکرتے تھے۔فارسی تاریخ چترال کے مصنف مرزامحمدغفران کے کتب خانے میں موجودبعض دستاویزات کے مطابق 1921ء میں کھوار کے مخصوص حروف تہجی کی تشکیل کے وقت مرزاموصوف اورہزہائینس محمدناصرالملک کے ساتھ مشاورت اورصلاح مشورے میں شہزادہ محمدحسام الملک بھی شریک تھے۔ 1946ء میں لورالائی بلوچستان میں اسیری کے دِنوں میں شہزادہ موصوف جب کھوار نثر لکھنے کی طرف متوجہ ہوئے توسب سے پہلے نماز پڑھنے کے طریقوں اورمختصر آیتوں پرمشتمل ایک کتابچہ ”نمیژ“ (نماز)کے نام سے تحریر کیا۔ انہوں نے چترال، چترال کی تہذیب وتمدن اور تاریخ کے موضوعات پر26سے زیادہ مسودے لکھے ہیں جن میں سے 12کتابیں اُردومیں اورباقی کھوار اورانگریزی زبان میں ہیں۔ان کتب کے علاوہ کچھ مضامین اور مقالے بھی چترالیات کے موضوع پرانگریزی میں تحریرکیے تھے جن میں سے کچھ 1970ء میں ڈنمارک کے شہر موسگارڈ میں منعقدہ پہلی انٹرنیشنل ہندو کش کلچرل کانفرنس میں پیش کیے گیے۔ 1974ء میں ان مقالوں اور مضامین کوکتابی شکل میں شائع کیاگیاتو چترالیات کے موضوع پران کے تین مقالے اس کتاب میں شامل کیے گیے اور اس موضوع پرآپ کے بعض مضامین یورپ کے مختلف رسائل وجرائد میں بھی شائع ہوئے۔
شہزادہ محمدحسام الملک نے جن موضوعات پرکام کیاان میں سب سے اہم اورنمایاں کام قرآن پاک کی کھوارتفسیرہے۔جسے انہوں نے نہایت عرق ریزی اورمحنت سے دس برسوں کی طویل مدت میں مکمل کیاتھاجوزیورطبع سے آراستہ نہ ہوسکی۔ جسے ا ُس وقت کے معروف علماء نے سلاست بیان،شستگی زبان اوردوسری خوبیوں کی بناء پر مستندقراردیا تھا۔ شہزادہ محمدحسام الملک نے لسا نیات کے موضوع پرکام کرتے ہوئے انگریزی زبان میں کھوار گرامرتحریرکیاتھا۔اس گرامرمیں کھوارحروف ِ تہجی،اسماء،افعال،صیغے اوردیگر لوازماتِ گرامرسے بحث کی گئی تھی۔گرامرکے آخر میں کھوارکاذخیرہ الفاظ بھی دیاگیاتھا۔جس میں کھوار لفظ”سور“کے ساتھ متعلقات یالفظ ”سور“ سے مشتقات کی تعداد 360تک ہیں یعنی سورموڑی،سورپست، سورا کورَک،سور چوپک،سوردریک،سوروچھامیک،سورچھومِک،سوردِک،سورودِک،سورکورِک وغیرہ شامل تھے۔ اپنے خودنوشت ڈائری کی بنیادپر تجربات زندگی کے عنوان سے ا ُردومیں ایک کتاب کامسودہ لکھاتھا جوان کے ذاتی تجربات کانچوڑہے۔اس کتاب میں انہوں نے اپنے مشاہدات وتجربات کی روشنی میں زندگی کے وہ اصول اورگر ُ بتائے تھے جن پرعمل کرکے انسان اپنے زندگی کوبہتربناسکتاہے اوریہ کہ کس طرح اپنے ماتحتوں سے کام لیاجاسکتاہے،کس طرح اپنے افسروں یابڑوں کوراضی رکھاجاسکتاہے۔کھوارلغت پر شہزادہ محمدحسام الملک نے بنیادی کام مکمل کیاہواتھاجس میں کھوارالفاظ کوانگریزی زبان میں معانی کے ساتھ جمع کیاتھالیکن دوسری علمی وتحقیقی مصروفیات کی وجہ سے اس کام پر توجہ نہ دے سکے یوں کھوارلغت کاکام ادھورارہ گیا۔ کھوار انگریزی بول چال کے موضوع پر ایک کتاب غیرملکی سیاحوں کے واسطے انگریزی میں لکھی تھی۔اس کتاب میں کھوارسیکھنے کے لیے آسان طریقے سے روزمرہ کی بول چال کے طریقے بتائے ہیں۔ ضرب الامثال اور قصوں کے موضوع پرکام کرتے ہوئے شہزادہ حسام الملک نے کھوار ضرب الامثال کویکجاکرنے کے ساتھ ساتھ ہر ضرب المثل کے ساتھ وابستہ قصہ بھی انگریزی زبان میں تحریرکیا تھا۔ اس طرح کھوارضرب الامثال کی ایک مفصل تاریخ مرتب ہوگئی تھی لیکن توسن ِ اجل نے شہزادہ محمدحسام الملک کواتنی مہلت نہ دی کہ اس دلچسپ تصنیف کوزیورِ طبع سے آراستہ کراتے۔ شہزادہ محمدحسام الملک نے انگریزی زبان میں
د یسی طریقہ علاج کے موضوع پر بھی کتاب تحریرکی تھی۔اس کتاب میں مختلف بیماریوں کے دیسی طریقہ علاج پربحث کی گئی تھی۔اس نسخے کوپڑھنے سے اندازہ ہوتاہے کہ قدیم چترال میں طب کوکس زاویہ سے دیکھاجاتاتھااورچترال کے اس وقت کے باشندوں نے قدرتی جڑی بوٹیوں سے مختلف بیماریوں کی علاج معالجے کے کیسے کیسے طریقے ازخوددریافت کیے تھے۔یہ کتاب قدیم چترال میں دیسی طریقہ علاج اورمقامی ادویاتی جڑی بوٹیوں کے حوالے سے مستند دستاویزہے۔تاریخ چترال کے موضوع پرشہزادہ محمدحسام الملک نے کام کاآغازکیاتھالیکن ابھی ابتدائی موادہی جمع کر پائے تھے کہ داعی اجل کاپیام آگیا۔اگرآپ کایہ گرانقدرکام پایہ تکمیل کوپہنچ کر منظر عام پرآجاتاتوچترال کی تاریخ پرتحقیق کے کئی نئے پہلوسامنے آتے۔دستورِ حکومت وآئین جہانبانی کے عنوان سے اس کتاب میں شہزادہ محمد حسام الملک نے رعایاکوخوش رکھتے ہوئے ان کی مدداورتعان سے کامیابی سے حکومت کرنے کے گر ُ بتائے ہیں۔آئین جہانبانی کے حوالے سے تاریخ چترال کے مختلف ادوار سے مثالیں پیش کرکے مختلف اصولوں اورطریقوں پر بحث کی گئی ہے گویایہ کتاب نظام الملک طوسی کے ”سیاست نامے“ یاپھرنکولومیکاویلی کی شہرہ آفاق تصنیف”The Prince“ کے طرزکی کتاب ہے جو چترال کے معروضی حالات کوسامنے رکھ کرمرتب کی گی ہے۔رسالہ محاسن ِ کلام وفصاحب ِ تقریر نامی اس رسالے میں شہزادہ محمدحسام الملک نے ہندی،سنسکرت اورفارسی حوالوں کے ساتھ طرزکلام کے محاسن پربحث کے علاوہ نظم ونثرمیں تحریروتقریرکے اوصاف ومحاسن پرروشنی ڈالی ہے۔۔ صنعت وحرفت کے موضوع پر اس قلمی نسخے میں شہزادہ محمدحسام الملک نے چترال کے مخصوص حالات کے تناظرمیں چترال کے اندرائج مختلف صنعتوں کے فروغ کے امکانات اورحکومت ِ وقت کے لیے ان صنعتوں میں دلچسپی کے فوائدپربحث کی ہے۔تمدنِ چترال کے عنوان سے اپنی اس کتاب میں شہزادہ محمدحسام الملک نے چترال کی تمدن اورکھوقوم کی تہذیب وثقافت پربحث کی ہے۔یہ کتاب رسالہ جمہور اسلام میں قسط وارشائع ہو چکاہے۔ کھوار لوک کہانیوں اور کالاش دیومالائی داستانوں پرمشتمل ایک کتاب کاکچھ حصہ جرمنی میں کتابی صورت میں شائع ہوچکا ہے جسے شہزادہ محمدحسام الملک نے 1970ء میں ڈنمارک کے شہر موسگارڈ میں منعقدہ پہلی ہندوکش کلچرل کانفرنس میں پیش کرنے کے لیے تحریر کیاتھا۔ آپ کی شائع شدہ کتابوں میں سے ”خوانِ چترال“چترال کے قدیم روایتی کھانوں کے بارے میں ہے جس میں چترال کے مختلف علاقوں کے قدیم کھانوں کی تفصیل اورپکانے کی تراکیب درج ہیں جبکہ دوسری کتاب ”گلشن ِچترال“ چترال میں پائے جانے والے پھو لوں کے بارے میں ہے یہ دونوں کتابیں انجمن ترقی کھوارچترال نے شائع کی ہیں۔سکولوں میں ابتدائی جماعتوں کے بچوں کوپڑھانے کے لیے شہزادہ محمدحسام الملک نے پہلی سے چوتھی جماعت تک پڑھانے کے لیے کھوار نصاب کی کتابیں بھی لکھی تھیں۔ان کتابوں کی تیاری کے وقت مختلف کلاسوں کے بچوں کی عمروں اوران کی نفسیات واستعداد کو مدنظرر کھا گیا تھا۔ شہزادہ محمدحسام الملک نے Chitral Glimpse of Aکے عنوان سے ایک مختصر کتابچہ تحریرکیاتھا۔20 صفحات پرمشتمل یہ کتابچہ آپ نے غیرملکی سیاحوں کی رہنمائی کے لیے انگریزی زبان میں تحریرکیاتھا۔اس کتابچے میں چترال کے اہم تاریخی وسیاحتی مقامات کے بارے میں سیاحوں کو مفیدمعلومات فراہم کی گئی ہیں۔ شہزادہ محمدحسام الملک نے علامہ اقبال ؒ کی شہرہ آفاق کتاب زبورعجم کاکھوارمیں منظوم ترجمہ کیاتھا۔شہزادہ محمدحسام الملک کھوار کے شاعر اورحسام ؔ تخلص کرتے تھے۔ان کامجموعہ کلام زیادہ ترطبع زادکلام پرمشتمل ہے۔ 2021ء میں راقم الحروف نے شہزادہ محمدحسام الملک کے قلمی مسودات میں سے پانچ کتابوں تجربات زندگی،دستورجہانبانی،تمدن ِ چترال،گلشن چترال اورخوان چترال کوان کی حالات زندگی کے ساتھ یکجاکرکے ”با با ئے کھوار شہزادہ محمد حسا م الملک (حالات زندگی اورتخلیقی کام کے نام سے کتابی صورت میں شائع کیاہے۔
شہزادہ محمدحسام الملک نے کھوتہذیب وتمدن اورکھوار شعرواَدب کی ترقی وتحفظ کے لیے Team Workکی ضرورت واہمیت کومحسوس کرتے ہوئے اگست 1957ء میں ایک تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔ ابتدامیں اس تنظیم کے لیے جونام تجویزکیے گیے ان میں بزم کھواراورانجمن ترقی چترال شامل تھے لیکن انجمن ترقی چترال پراتفاق کیاگیا۔اس انجمن کے بانی اراکین میں شہزادہ محمدحسام الملک،حاکم امیرشریف خان دروش، بابا ایوب ایوب ؔ چمرکن، میتار ژاؤ رحمن دیارخان دنین،باچہ خان ھماؔ کیسو، مرزافردوس فردوسی ؔجغور، قاضی صاحب نظام نظام ؔ آیون،لیفٹیننٹ غلام مرتضیٰ موڑدہ چترال،وزیر علی شاہ زرگراندہ اور شہزادہ صمصام الملک شامل تھے۔فروری 1957ء میں چترال پبلک لایبر یری میں شہزادہ محمدحسام الملک کی صدارت میں پہلاکھوار مشاعرہ منعقد کیاگیاجس میں کل سترہ شعرائے کرام نے کلام سنایا۔
شہزادہ محمدحسام الملک 1957ء میں اس تنظیم کے قیام سے اگست1977ء میں اپنی وفات تک صدر کے عہدے پرفائزرہے۔آپ کے دور صدارت میں شیراحمد کابلی کافارسی شاہنامہ چترال،کھوارکتاب ”نمیژ“یعنی نمازاورقرآن شریف کا پہلاپار ہ ترجمے کے ساتھ شائع ہوا۔اس دوران شہزادہ صمصام الملک کی تالیف ”کھوارگرامر“ پشتواکیڈمی پشاورکے تعاون سے شائع کی گئی۔شہزادہ محمدحسام الملک مرحوم کی کوششوں کے نتیجے میں 1965ء میں ریڈیو پاکستان پشاور سے کھوارپروگرام شروع کیاگیااور1967 ء میں شہزادہ موصوف کی کوششوں کے طفیل پشتورسالہ جمہور اسلام میں کھوارزبان کے لیے صفحے مختص کیے گیے اور جناب اقبال حیات اس رسالے کے کھوارسیکشن کے پہلے مدیرمقررہوئے۔ اس انجمن کے قیام کے بعدشعرا اوراَدیبوں کوایک پلیٹ فارم میسر آیا تو یہاں کے اَدیبوں اورشاعروں نے منظم اورمربوط طریقے سے کھوارزبان واَدب اوریہاں کی ثقافت کے تحفظ کے لیے گرانقدرخدمات انجام دیں۔ شہزادہ محمد حسام الملک کی وفات کے بعداسی انجمن ترقی چترال نے انجمن ترقی کھوارکاروپ دھارلیاجوآج چترال کی سب سے بڑی نمائندہ اَدبی تنظیم ہے۔ شہزادہ محمدحسام الملک کی ملی واَدبی خدمات کے حوالے سے چترال کے ممتازادیب اوردانشور جناب پروفیسراسرار الدین لکھتے ہیں کہ ”شہزادہ صاحب جب نظربندی سے واپس آئے تونئی تنظیم (1954ء)تک گورنردروش کے عہدے پربحال رہے۔اس کے بعداپنی وفات تک اپنے فارغ اوقات کوکھوکلچرپرتحقیق اور کھوارزبان واَدب کے فروغ کے لیے وقف کیا۔انجمن ترقی کھوار آپ کی یادگارہے جو1957ء سے کھوارزبان واَدب کی ترقی کے لیے کوشاں ہے اس وجہ سے آپ کو بابائے کھوارکالقب دیاگیاہے اوراسی نام سے ہمیشہ یادرکھے جائیں گے۔“
1978ء جب اس انجمن کی تنظیم نو کی گئی تو جناب غلام عمرمرحوم اس تنظیم کے صدراور ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی ؔ جنرل سیکرٹری مقرر کیے گیے۔ نئی تنظیم کے بعد انجمن ترقی کھوار اپنی ترقی وعروج کے ایک نئے عوامی دور میں داخل ہوا۔اس زمانے میں چترال اورکھوارزبان واَدب سے متعلق کئی کتابیں منظرعام پرآئیں۔ جن میں غلام عمرکی تصنیف ”باباسیئرؔ“ اور چترال کی لوک کہانیاں،وزیرعلی شاہ،پروفیسر اسرار الدین اورڈاکٹرعنایت اللہ فیضی ؔ کی مشترکہ تصنیف ”چترال ایک تعارف“ قابل ذکر ہیں۔اس دوران لوک ورثہ اسلام آبادکے اِدارے نے انجمن ترقی کھوارچترال کے تعاون سے چترال کے رسوم ورواج،کلچراوراَدب کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم بھی بنائی جوآج بھی بیحدمقبول ہے۔
1984ء میں غلام عمر کے انتقال کے بعدڈاکٹرعنایت اللہ فیضیؔ انجمن ترقی کھوارکے صدرمقررہوئے تو انجمن ترقی کھوار چترال کے طول وعرض میں متعارف ہوا۔اس زمانے میں انجمن ترقی کھوارچترال نے کئی بڑے مشاعرے، سیمینار،دوبار 1990ء اور 1995ء میں ا نٹرنیشنل ہندوکش کلچرل کانفرنس منعقد کیں۔ جن میں یورپ اور امریکہ کے نامورمحققین اورلکھاریوں نے شریک ہوکر ہندو کش ریجن کے حوالے سے تحقیقی مقالے پیش کیے جنھیں بعدازان اکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے کتابی شکل میں شائع کیا۔ انجمن ترقی کھوارکے طفیل چترالی ادیبوں اورشاعروں کومختلف وفودکے ہمراہ چترال سے باہراَدبی دوروں پر جانے کاموقع ملا جس سے یہاں کے شعراء وادباء کودوسری زبانوں کے شعراء سے روابط اورتبادلہ خیال کے مواقع میسرآئے، انجمن ترقی کھوار چترال اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے مابین روابط کے نتیجے میں یہاں کے اَدیبوں کو دعوۃ اکیڈمی اسلام آبادمیں مختلف ورکشاپ میں شرکت کے مواقع ملے۔اس دوران کئی کتابیں شائع ہوئیں جن میں پھوپھوکن شلوغ،کھوارمتال، چترال ایک تعارف، خوان ِ چترال،گلشن ِچترال وغیرہ شامل ہیں۔اسی زمانے میں ڈاکٹرفیضی صاحب اکیڈمی ادبیات کے اعزازیہ کمیٹی کے رکن منتخب کیے گیے جن کی کوششوں سے اکیڈمی اَدبیات پاکستان کی طرف سے چترالی ادیبوں اوربعض ادیبوں کی بیواؤں کے اعزازیے مقررہوئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔