# *(تاریخ اور تجدید کعبہ۔(14*تحریر۔ شہزادہ مبشرالملک*

 کعبہ شریف* ۔

تفسیر قرطبی ۔۔۔ کے مطابق زمین پر الہی خدمات پر مامور فرشتوں نے آرزو کی کہ عرش کے سامنے ۔۔۔ بیت المعمور۔۔۔ کی طرز کا کوئی ۔۔۔ مرکز ہمارے لیے زمین پر بھی ہو جس کی ہم طواف کر سکیں ۔اللہ تبارک و تعالی نے مکہ میں ۔۔۔۔ بیت المعمور کے نیچے ۔۔۔ کعبہ یعنی بیت اللہ ۔۔۔ تعمیر کرنے کی اجازت دی تو آدم علیہ سلام سے دو بزار سال قبل فرشتوں نے اسے پہلی بار تعمیر کیا۔بعد کے ادوار میں جنات کی سرکشی اور موسمی تغیر کے ساتھ اس کے نام نشان مٹ گیے۔

*حضرت آدم*۔

اور حضرت حوا علیہ السلام جب زمین پر تشریف لایے تو بے آب گیا عرب میں جنت کی رعنائی ۔وہاں کی ۔تسبیح تہلیل۔ طواف جیسے پرکیف عبادات سے دوری اور محرومی محسوس کی تو اللہ سے التجاء کی کہ ہمارے لیے ایک مرکز عبادت مقرر کیا جائے ۔اللہ نے حضرت جبرایل علیہ السلام   کے ذریعے اس جگہ کی نشاندہی کی اور جنت سے پانچ پھتر لاکر جار کونوں میں اور ایک حجر اسود کے نام سے لگادی گئی۔چھت کے لیے ایک تیار گنبد جنت سے لاکر لگا دی گئی جو سفد رنگ کی تھی اور ہرے کی طرح چمک رہی تھی اور تیز شعاعیں اس گنبد سے نکل کر جہاں جہاں پڑھیں اس ایرے کو ۔۔۔حدود حرم ۔۔۔ قرار دیا گیا جو آج تک جاری ہے۔ اور یہ دوسری بار کی تعمیر تھی ۔

*حضرت شیث علیہ السلام*۔

نے جو کے آدم علیہ السلام کے بیٹے اور دوسرے پیغمبر تھے۔ اس کی مرمت کی ۔
*طوفان نوح* ۔۔۔ نے کعبہ سمیت سب کچھ بہا لے گیا۔ تو سنیگڑوں سالوں تک اس کا وجود ہی نہ رہا۔

*دور ابراہیمی* ۔۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام  کی قربانی کے واقعے کے بعد جب حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ تشریف لائے تو اللہ کے حکم سے بیٹے اور حضرت جبرایل  علیہ السلام کی مدد سے اسی ابتدائی بنیادوں پر کعبہ کی تعمیر کی اور حجر اسود جو طوفان نوح کے بعد ایک پہاڑی میں حضرت جبرایل علیہ السلام نے محفوظ رکھا تھا نکال کر پانچ پہاڑوں ۔کوہ جودی ۔کوہ حرا کوہ سنیا ۔کوہ ابو قبیس کوہ لبنان سے پھتر لاکر اسے تعمیر ۔اور اللہ نے ابراہیم کے ذریعے ندا دی جہاں جہاں اس وقت انسانی آبادی موجود تھی اس تک اسے کے عظمت اوربڑھائی اور اس کی طواف کی خبر ہہنچانے کی ذمہ داری خود لی۔ اس گھر کو پوری انسانیت کے لیے امن ۔یکجہتی اور یگانگت کا مرکز قرار دیا۔

*بنی جرہم* ۔

نے اپنے دور میں دو مرتبہ اس کی مرمت کا شرف حاصل کیا۔
*قضی بن کلاب* ۔ کا شمار قریش کے بانیوں میں ہوتا ہے اس نے بھی اس کی مرمت کی اور اس کے اندر ایک غار بنا کر اس میں تبراکات ۔نذرانے اور تحائف جو دیگر امرا کی جانب سے آتے تھے اس کنواں نما غار میں جمع کرتے گئےاور۔۔۔ یہ سرکاری ۔۔۔توشہ خانہ۔۔۔ غار کعبہ کے نام سے مشہور ہوا۔

*قریش مکہ۔*

حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی شادی کو دس سال گزرے تھے۔ تجارتی کامیابیاں اور خوش گوار اذدواجی زندگی کا سفر جاری تھا۔
605ء کو 35 سال کی عمر میں مکہ میں ایک زور دار سیلاب آیا اور خانہ کعبہ کی دیواریں گر گءیں جو پہلے ہی ایک عورت کی خوشبوں کی دھونی کے دوران ۔۔۔ اگ۔۔۔ لگنے کی وجہ سے جل کر بوسیدہ ہوچکے تھے ۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے وقت سے ہی کعبہ کی بلندی 9 ہاتھ رہتی آرہی تھی ۔اور بغیر چھت کے تھی اس سے فایدہ اٹھا کر چوروں نے مقدس تبرکات ۔تحایف ۔نوادرات اور خزانہ چرا کر لے گیے ۔آگ لگنے کے واقع کے بعد اس کی حالت اور بھی خستہ ہوچکی تھی اس سلاب کے بعد قریش ۔۔۔ کعبہ کی حرمت عزمت مقام و مرتبے کے مطابق اسےگرا کر دوبارہ تعمیر کرنے پر رضامند ہوءے۔۔ اور باہمی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ۔۔۔ حلال ۔۔۔ مال و دولت اس پر خرچ کی جاءے گی۔ شراب ۔جوا۔ قمار خانے ۔ یا ظلم سے حاصل کیے گیے رقم قبول نہیں کی جاءے گی ۔کعبہ کی عمارت کو ڈھانے کاوقت ایا تو کسی کو ہمت نہ ہوی مبادا کوی آسمانی آفت یا عذاب نازل نہ ہو جاے۔ آخر ۔۔۔ ولید بن مغیرہ مخزومی ولد خالد بن ولید نے جرت کرکے کام کا آغاز کیا تو خیرت دیکھ کر لوگوں نے کام کا آغاز کیا۔ ایک رومی تاجر باقوم جو بہت بڑے بین القوامی تاجر مانے جاتے تھے اور معمار بھی تھے کی نگرانی میں قریش نے کام کا آغاز کیا ۔۔۔ جدہ پور ت۔۔ اس وقت بھی سمندری جہاز رانی اور بڑی منڈی مانی جاتی تھی ۔انی دنوں ایک سمندری جہاز کے ٹکڑے جدہ ساحل میں پڑے ہوے تھے قریش کے مشورے سے باقوم نے سمندری جہاز کی لکڑیان لاکر پہلی مرتبہ ۔۔۔ بیت اللہ۔۔۔ کی چھت تعمیر کی۔ قریش کے ہر قبیلے نے الگ الگ پھتر کے ڈھیر جمع کرتے گیے۔ جب کعبہ کی دیواریں اونچی ہوءیں اور ۔۔۔حجر اسود۔۔۔ کو اس کی جگہ پر رکھنے کا وقت ایا تو قریش کا اتفاق جواب دے گیا۔ ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ ۔۔۔ حجر اسود۔۔۔ کو اٹھانے کی سعادت اسے حاصل ہو یہاں تک بات اگے بڑی کہ تلواریں بے نیام ہوءیں۔ اور پانچ دنوں تک کام رکا رہا اور قضیہ حل نہ ہوسکا۔ آخر ایک بزرک سردار ابو امیہ مخزومی نے مشورہ دیا کل صبح جو شخص پہلے حرم کے دروازے سے داخل ہوگا وہی اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے مجاز ہوگا ۔اللہ کی مشیت سےصبح حضور اقدس وارد ہوءے اور قریش خوش ہوکے پکار کر کہنے لگے۔۔۔ ھذا امین رضیاہ ھذا محمد۔۔۔ یہ امین ہیں اور ہم محمد کے فیصلے پر راضی ہیں۔ آپ ﷺ کی حسن تدبر کے نتیجے میں ایک بھڑکتی ہوئی جنگ کے
شعلے بج گئے اور اہل عرب میں آپ کی قدرومنزلت میں اور اضافہ ہوا۔ آپ ﷺ نے باہمی رضامندی سے حجر اسود اتھا کر ایک چادر میں رکھواکر تمام قبائل کے منثخب کردہ لوگوں کو مل کر اسے اٹھانے کادرس دیا اور خود اسے اٹھاکر مقررہ جگہ نصب کیا اور سب لوگ اپ کی حسن تدبر سے بہت متاثر ہوے۔
قریش کے پاس اتنی حلال دولت نہ جمع ہوسکی کہ پورا کعبہ اٹھا سکیں ۔۔۔ حطیم۔۔۔ والا حصہ تعمیر نہ ہوسکا اور باہر رہ گیا۔ اس بار قریش نے کعبہ کا دروازہ خاصا بلند رکھ دیا تاکہ ان کی مرضی کے بغیر کوءی داخل نہ ہو سکے۔جھت کے نیچے چھ ستون لگا کر اے مضبوط کیا گیا ۔
بعد میں حضور اکرم کی خواہش رہیں کہ حطیم والا حصہ بھی کعبہ میں شامل کیا جاسکے لیکن قریش اور مسلمانوں میں ایک نیا تنازعہ یا فتنے کے خوف سے یہ ارادہ ملتوی کیا۔ بعد میں اس فیصلے میں یہ الہی مصلحت نظر ایی کہ ۔۔۔ شاہوں اور امراء کے لیے کعبہ کے دروازے کھولے جاتے تھے اور جاتے ہیں جو وہاں جاکے عبادت کر سکیں لیکن عام انسانوں کے لیے یہ ناممکن بات تھی ۔اب ۔۔۔حطیم ۔۔۔ میں جاکے ہر غریب وہی انعام واکرام اور لطف بار بار اٹھا سکتا ہے جو کعبہ کے اندر والے کے حصے میں اتا ہے۔

نوٹ۔ قریش کا بیت اللہ کی تعمیر کے لیے کافر ہوتے ہوے حلال مال و دولت کی شرط ہمارے حرام مال سے مساجد۔مدرسے حج عمرہ جیسے اسلامی شعار میں مسلمان ہوتے ہوے پیوند کاری اور مفتیوں کے لیے چندے میں احتیاط کی راہںیں کھول دیتا ہے۔ اللہ عمل کی توفیق دے۔

بحوالہ۔ تاریخ بیت اللہ۔ تاریخ مکہ ۔۔ تفہیم القرآن ۔تاریخ عالم۔ الرحیق المختوم ۔سرور کونین ۔رسول عربی
طالب دعا ۔حقیر و فقیر

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔