داد بیداد…قرض کی پیتے تھے مئے…ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ایک خبر اخبارات میں لگی ہے کہ عالمی ما لیا تی ادارے کی تازہ ترین رپورٹ کی رو سے روان ما لی سال کے دوران پا کستان کے قرضوں میں 118کھرب کا اضا فہ ہو کر قرضوں کی کل ما لیت 820کھرب روپے ہو جائیگی 30جون 2024تک پا کستان کا ما لیا تی خسارہ 82ارب روپے ہو جا ئے گا جو مجمو عی قومی پیداوار کے 78فیصد کے برابر ہوگا مرزا غالب نے اپنی مالی حا لت کا ذکر کر تے ہوئے کہا تھا قرض کی پیتے تھے مئے اور کہتے تھے ہاں رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن، ہماری ملکی حا لت اور قوم کے اجتماعی رویے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ غالب کی طرح ہماری فاقہ مستی کے رنگ لا نے کا وقت بھی آگیا ہے اگر ابھی وقت نہیں آیا تو کم از کم یہ خد شہ تو ہے کہ وہ وقت زیا دہ دور نہیں ہے یہاں پا کستان پر چڑ ھنے والے قرضوں کی تاریخ کو دہرا نا چند اں ضروری نہیں یہ وقت رونے دھونے کی جگہ آگے بڑھ کر مستقبل کے لئے کام کا وقت ہے اور مستقبل کے لئے ہماری سامنے تین اہم کام ہیں خسا رے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری،وی آئی پی کے پروٹو کول میں چلنے والی گاڑیوں کا خا تمہ اور کھرب پتی شخصیات کو ملنے والی سرکاری مرا عات کی واپسی، ان تین اقدامات سے اگلے 10سالوں میں نہ صرف پا کستان پر قرضوں کا بو جھ ختم ہو گا بلکہ آنے والے سالوں میں ہمارا ملک معا شی استحکام حا صل کرے گا، صنعتی اور زرعی شعبے کی پیداوار میں بھی اضا فہ ہو گا اگر تینوں تجاویز کا الگ الگ جا ئزہ لیا جا ئے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ پا کستان سٹیل ملز اور پی آئی اے ہر سال قومی خزا نے کو کھر بوں روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں لیکن حکومت ان کی نجکاری میں سنجیدگی نہیں دکھا تی ان قومی اداروں سے فائدہ اٹھا نے والے گرو ہوں کی طرف سے کبھی جلو س نکال کر کبھی عدالتوں میں جا کر نجکاری کے عمل میں بار بار رکا وٹ ڈالنے کی کو شش کی جا تی ہے اس طرح قومی خزانے پر سالانہ بوجھ بڑھتا جا تا ہے 2003ء میں اگر پا کستان سٹیل کو فروخت کر دیا جا تا تو 400ارب روپے حکومت کو یکمشت وصول ہوتے اور 2003سے اب تک 20سالوں میں سٹیل ملز کو دی جا نے والی امداد کی مد میں 200ارب روپے بھی بچ جا تے یہی حا ل ریلوے اور پی آئی اے اور دیگر قومی اداروں کا ہے جو اپنا خسارہ قومی خزا نے سے لیکر پورا کر تے ہیں اگر اس طرح کے 10قومی اداروں کو فروخت کیا گیا تو قومی خزا نے میں 820کھر ب روپے سے زیا دہ آمدنی جمع ہو گی آنے والے سالوں کے خسا رے سے قومی خزانے کو نجا ت مل جا ئیگی ہم خر ما ہم ثواب والا معا ملہ ہو گا اسی طرح وی آئی پی یعنی اہم شخصیات کے پرو ٹو کول میں 42ہزار گاڑیاں تیل جلا تی اور ٹائر گھساتی پھر تی ہیں ان گاڑیوں میں 80ہزار سرکاری ملا زمین بھی دن رات چند لوگوں کی خد مت میں مگن رہتے ہیں ان گاڑیوں پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ سالا نہ 420ارب روپے لگا یا گیا ہے، ملا زمین کی تنخوا ہوں پر اٹھنے والا خر چہ 180ارب روپے کے برابر ہے گویا قومی خزانے کا 600ارب روپیہ پروٹو کول اور سیکیورٹی پر خر چ ہو تا ہے، اگر حکومت ملک کو قرضوں کے بو جھ سے آزاد کر نے میں مخلص ہو تو اس نا منا سب رسم کو ختم کر کے سالانہ 600ارب روپے کی بچت کی جا سکتی ہے بے شک ملک پر مو جو دہ ما لی سال کے دوران 820کھر ب روپے قرضوں کا بوجھ پڑنا تشویش نا ک بات ہے مگر اس سے زیا دہ تشویشنا ک بات یہ ہے کہ حکومت کے پاس قرضوں سے نجات کا کوئی منصو بہ نہیں وفاق میں وزا ر توں کی تعداد کم کر کے 7وزیر وں تک محدود کر نے کی کوئی تجویز نہیں صو بوں میں کا بینہ کی تعداد میں کمی کر کے 12وزیر وں تک محدود کرنے کی کوئی معقول تجویز نہیں آئیندہ بھی کوئی منتخب سیا سی حکومت یہ کا م نہیں کرسکیگی اس وجہ سے مو جودہ حا لات میں نگران حکومت کو ان اہم کا موں کا بیڑا اٹھانا ہو گا تا کہ منتخب حکومت آنے سے پہلے ملکی معیشت کے حوالے سے مثبت اور با مقصد پیش رفت ہو سکے ورنہ فر مودہ غا لب ہماری قومی زند گی پر صادق آتا رہے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔