پی آئی اے کی فلائٹ 661 کے حادثے میں شہید ہونے والوں کی یاد میں چترال میں تقریبات

چترال (چترال ایکسپریس ) چترال سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے کے پرواز پی کے 661کے حادثے میں شہید ہونے والوں کی یاد میں جمعرات کے روز مختلف تقریبات ہوئے جبکہ مساجد میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ چترال بونی روڈ پر واقع شہید اسامہ وڑائچ پارک میں یادگار شہداء میں منعقدہ خصوصی تقریب میں ڈپٹی کمشنر لویر چترال محمد عمران اور ڈی پی او قمرحیات کے علاوہ شہداء کے فیملی ممبران نے یادگار پر پھول چڑہائے اور فاتحہ خوانی کی جبکہ چترال پولیس اور چترال لیویز کے چاق وچوبند دستوں نے یادگار پر سلامی دی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر چترال محمد عاطف جالب، قاری جمال عبد الناصر،خطیب شاہی مسجد مولانا خلیق الزمان، شہید اسامہ وڑائچ کیریر اکیڈیمی کے ڈائرکٹر فدا ء الرحمن اور دوسرے افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی موجود تھے۔

بعدازاں مقامی ٹاؤن ہال میں اسامہ وڑائچ اکیڈیمی کے انتظام سے تقریب منعقد ہوئی جس سے ڈی سی چترال لویر محمد عمران خان،شہداء کے خاندانوں کی طرف سے شادمان زین، ممتاز عالم دین قاری جمال عبدالناصراورفداء الرحمن نے خطاب کیا جبکہ شہیداسامہ وڑائچ کے ماموں اورممتاز کالم نگار اور سابق پولیس افسر ذولفقار چیمہ اور جنید جمشید کی بیوہ رضیہ جنید نے ٹیلی فون پر خطاب کیا۔ ڈی سی چترال نے اپنے خطاب میں کہاکہ 7دسمبر 2016ء کا سانحہ ایک ناقابل فراموش واقعہ ہے جس میں اسامہ وڑائچ اور جنید جمشید سمیت کئی بہن بھائی ہم سے بچھڑ گئے اور ہر سال یہ دن ہمیں ان شہداء کی یا د دلاتا رہے گا۔ انہوں نے سانحہ میں شہید ہونے والے خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا اور اہالیان چترال کی وفاداری اور محبت کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ یہاں ہر فرد اسامہ وڑائچ شہید کو اب بھی اپنے دل میں بسایا ہوا ہے جس نے دل سے ان کی خدمت کی ہے۔ا نہوں نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ وہ بھی اسامہ شہید کے نقش قدم پر چلنے اور ان کے طرز پر عوام کی خدمت کرنے کی بھر پور کوشش کریں گے اور ان کی کرسی کے فرائض اب انہیں مل گئے ہیں۔ دریں اثناء اپر اور لویر چترال کی مختلف وادیوں میں واقع شہداء کے مقبروں پر پھول چڑہانے اور قرآن خوانی کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔ چترال شہر میں اس سانحہ کی یاد میں فضا سوگوار رہا ا ور سوشل میڈیا میں شہداء اور خصوصی طور پر جنید جمشید اور اسامہ وڑائچ کا ذکر وائرل ہوا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔