دادبیداد…انتظامی اصلاحات کی نئی تجویز…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

ذرائع ابلاغ میں با خبر ذرائع کے حوالے سے خبریں آرہی ہیں کہ حکومت ملک میں انتظامی اصلاحات کی نئی تجویز پر غور کررہی ہے اس تجویز کے بے شمار پہلووں پر قیاس ارائیاں ہور ہی ہیں جن میں اہم امور کو زیر بحث لایا جارہا ہے یہ ہوائی جس نے بھی اڑائی ہے اچھی ہوائی اڑائی ہے اس کے مثبت نتائج برآمد ہو نگے ان میں تین امورکو خصوصی اہمیت حاصل ہے یہ بات کہی جارہی ہے کہ صوبوں کی تعداد میں اضافہ کرکے ملک کے 20صوبے بنائے جائینگے، یہبھی کہاجارہا ہے کہ صو بائی اسمبلیوں کی جگہ ضلع کونسلیں قائم کی جا ئینگی صو بہ کا انتظامیہ سربراہ منتخب گورنر ہو گا اس کی کوئی کا بینہ نہیں ہو گی، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انتظامی اور مالی اختیارات ضلع، تحصیل اور مقامی کونسلوں کو منتقل کئے جائینگے، ایک اور بات گردش کر رہی ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبروں کو ذاتی مراعات کے سوا کوئی دوسرا فنڈ نہیں ملے گا اگر اس طرح کے دور رس اصلا حا ت کا بیڑا اٹھا یا گیا تو یہ ملک اور قوم کے حق میں بہت بہتر ہوگا ہمارے پڑوس میں افغانستان کے 27صوبے ہیں کوئی صوبائی اسمبلی اور کا بینہ نہیں ایران میں ایسا ہی انتظامی ڈھانچہ قائم ہے اور کامیاب ہے ہمارے موجودہ صو بوں کی تاریخ متحدہ ہندوستان میں برطانوی حکومت کے دور سے شروع ہوتی ہے آزادی کے بعد اس انتظا می ڈھا نچے میں اصلاحا ت کی کوئی کوشش نہیں کی گئی 1988ءمیں ایک تجویز آئی تھی کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹ قائم کرکے ایک عمرانی معاہدہ سامنے لایا جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا حالیہ دنوں میں انتظامی اصلاحا ت کی جو نئی تجویز آئی ہے اس کی رو سے بلوچستان میں 3صو بے بنینگے، سندھ میں 5صوبے اور خیبرپختونخوا میں 4صو بے ہونگے، پنجاب کے انتظامی یونٹوں کی تعداد 8ہو گی نئے صوبوں کی تشکیل میں تاریخی حقائق، ثقا فتی پس منظر اورانتظامی سہولت کو پیش نظر رکھا جائے گا برٹش انڈیا میں جو آزاد اورخودمختار ریا ستیں تھیں ان کی حدود کو بھی مد نظر رکھا جائیگا اگر اس تجویز کو سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھا یاگیا تو آنے والے سالوں میں ملکی معیشت، سیاست اور معاشرت پراس کے مثبت اثرات مرتب ہونگے امریکہ کے 52صو بے ہیں کسی بھی صوبے میں اسمبلی اور کابینہ نہیں ہے وہاں کا نگریس کے ممبروں کو ذاتی مراعات کے سوا کوئی فنڈ نہیں ملتا، انتظامی اور ترقیاتی اختیارات مقامی کونسلوں کے پا س ہیں چین، روس،جنوبی کوریا اور جاپان میں صوبائی اسمبلی اور کابینہ نہیں ہوتی ان ملکوں کی معیشت کو اس کا کوئی نقصان نہیں ہوا افغانستان کا رقبہ پا کستان سے کم ہے اس کی ابادی بھی پا کستان کے آبادی کے آٹھویں حصے کے برابر ہے مگر اس ملک میں صوبوں کی تعداد پاکستان کے مقابلے میں 7گنا زیادہ ہے وطن عزیز کے اندر انتظامی اصلاحات کی نئی تجویزاس لئے بھی قابل غور ہے کہ ہمارا پرانا انتظامی ڈھانچہ نا کامی سے دو چارہوا ہے شہروں سے لیکر دیہات تک احساس محرومی بڑھ رہا ہے، اور مایو سی پھیل رہی ہے کوئی منتخب حکومت اس طرح کے دور رس اقدامات نہیں اٹھائے گی اس لئے مو جودہ حکومت ہی اس قسم کے اصلاحات لا سکتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ”اب نہیں تو کب“ کے اصول پر عمل کر کے اس تجویز کو عملی جامہ پہنایا جائے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔