بچھڑےتین سال گزرگئے،غم آج بھی والدکی جدائی میں تازہ ہے۔۔۔۔۔تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

اس دن کی حدت میرے دل سے نہیں جاتی
جس دن تیرا سایہ میرے سر سے اٹھا تھا۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں ایک نعمت والد کا سایہ شفقت ہے۔میرےوالدمحترم کوہم سے رخصت ہوئے تین سال ہو گئے مگر آج بھی اُن کی جدائی کا یقین نہیں ہورہا، لگتا یوں ہےکہ وہ آئینگے مگر یہ ہمارے خیالات و تصورات ہی ہو سکتے ہیں ۔موت کا ذائقہ ہر ایک انسان کو چکھنا ہے، چاہے وہ بادشاہ ہو یا فقیر، امیر ہو یا غریب، بیمار ہو یا تندرست ہر کسی کو ایک نہایک دن اللہ تبارک وتعالیٰ کے دربارمیں حاضر ہوناہے اور اپنے اعمال کاحساب دینا ہے۔ جب والد محترم کے جدائی کی گھڑی قریب آگئی میرے پاؤں تلے زمین نکل رہی تھی میرے آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہی اندھیرا ہورہاتھا میری بے بسی اْس لمحے عروج پر تھی جب مجھے معلوم ہوا کہ والدمحترم کی آخری سانسیں چل رہی ہیں اور میں اس کے سرہانے کھڑا بہتے اشکوں کے ساتھ آسمان کی طرف نگاہیں اٹھاکربڑی بے صبری سے دعا کررہا تھا۔یاغفوررحیم اللہ تعالیٰ مجھے ہمت دیں ۔
3برس قبل آج ہی کے دن10دسمبر2020ء بروزجمعرات بوقت 3بجکر10منٹ بمقام ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرہسپتال چترال کے پرائیویٹ روم نمبر3میں ایک ایسی عظیم شخصیت اس عارضی زندگی کی بہاروں سے منہ موڑ کراپنے علاقے کے درجنوں دلوں میں ایک مقام رکھنے والے انسان اپنے حبیب کے حضورحاضرہوگیا۔وہ لمحہ جب یاد آتا ہے تو آنکھ نم ہو جاتی ہیں،روح کانپ اُٹھتی ہے۔ والدمحترم کے دل کی دھڑکن نے بندہو کر سینکڑوں دلوں کوجدائی کاایک ایسااحساس دلایا اُن لوگوں کی زبانی سنی میں بیان نہیں کرسکتاہوں۔ اگرحقیقت کی نگاہ سے دیکھاجائےتو زندگی چیزوں اورسہولتوں کانام نہیں بلکہ زندگی احساسات،جذبات اوراْلجھنوں کانام ہے۔ والدصاحب اپنے ہرتعلق رکھنے والوں کے دل میں اپنی بے پناہ یادیں اورمحبتیں چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی کے ہاں حاضرہوگئے ہیں۔
کئی دنوں سے ہسپتال میں زیرعلاج تھے مگر10دسمبر2020ءکوپچھلے دس دنوں کی نسبت طبیعت میں خاصاسکون تھا ۔ چہرے پر کمزوری کے باوجودرونق بھی لوٹ آئی تھی۔ کچھ اپنے عیادت کے لئے آکرپاس بیٹھے تھے۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ آخری نظریں اُٹھاکرمیری طرف دیکھاتومیں نےفوراً اپنامنہ کھڑکی کی طرف کرلیااُس وقت میرا برداشت کاصلاحیت لب ریزہوچکا تھا۔
والدمحترم نے اپنی محنت،لگن،شوق،دیانتداری اور وفاداری کیساتھ ساتھ اپنے قائم کردہ اصولوں،خیالوں،پاکیزہ سوچ اور اخلاقی معیار کوبرقرار رکھتے ہوئے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے اس بات کا اعتراف ہمارے علاقہ کے بچے،بوڑھے اور جوان کرتے ہیں۔ دن رات محنت کرکے ہم سب کی تعلیم وتربیت میں کوئی کسرنہیں چھوڑی تمام آسائشیں مہیاکردیے۔ میرے والد مرحوم 13 مارچ 1952ء کواپنے آبائی گاؤں شیچ یارخون میں پیدا ہوئے اور 10دسمبر2020 بروز جمعرات کو ڈی ایچ کیوہسپتال لوئر چترال میں اپنی زندگی کی 72 بہاریں گزار کر دنیائی فانی سے عالم برزخ میں منتقل ہو گئے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون
اس وقت میں اپنے آپ کو تنہا اور اداس محسوس کرتا ہوں مگر میں زندگی میں ذاتی طور پر آج جو کچھ ہوں جو عزت کمائی، شہرت ملی اس میں اللہ تعالی کے فضل و کرم کے بعد میرے والدین کی محنت اور دعاؤں کا نتیجہ ہے میرا سر فخر سے بلند ہوتا ہے جب لوگ شاندار الفاظ میں میرے والد محترم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔گاؤں کے لوگ اُن کوبڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔کسی کی انفرادی مسائل ہویاعلاقے کی اجتماعی اپنوں کے علاوہ گاؤں والے بھی والدمحترم سے مشورے کے بغیر کام نہیں کرتے تھے ۔وہ ہمیشہ علاقے کی بنیادی مسائل حل کرنے اورمستحق افرادکوجائزحق دینے کی ہرممکن کوشش کرتے تھے۔آپ ایک درویش صفت ،خوش اخلاق ،نرم مزاج انسان تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں میرے والدمحترم کواپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔آمین۔

اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعاہے کہ میری والدہ محترمہ کا سایہ شفقت ہمیشہ ہمارے سروں پر ہمیشہ قائم ودائم رکھیں آمین ،ثم آمین۔
میں جب ماحول میں تیری کمی محسوس کرتا ہوں
تھکی آنکھوں کے پردے میں نمی محسوس کرتا ہوں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔