**بیت اللہ کے اہم مقامات اور واقعات* (15)…*تحر یر۔۔ شہزادہ مبشر الملک**

*ابن زبیر* ۔

شہادت حسین رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔ کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ حجاز کے خلیفہ بنے تو ۔۔۔کعبہ کی تعمیر حضورعلیہ سلام  کی خواہش کے مطابق کی دو دروازے زمین کے برابر لگا دیے۔ حطیم کو بیت اللہ میں شامل کیا۔

*مروانی عہد خلافت* ۔

خلیفہ عبدالمالک بن مروان کے حکم پران کے گورنر حجاج بن یوسف جیسے ظالم کی سنگ باری نے ۔۔۔ مسجد الحرام کے ساتھ بیت اللہ کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ کامیابی اور ابن زبیر کی شہادت کے بعد خلیفہ مروان نے ۔۔ بیت اللہ ۔۔ کی دوبارہ تعمیر کرائی اور قریش والی حالت میں بحال کیا اسی وقت سے تعمیر اور مرمت میں وہی نقشہ چلا آرہا ہے۔

*غلاف کعبہ* ۔

کعبہ یعنی بیت اللہ پر پہلی بار یمن کے بادشاہ ۔۔۔ اسد حمیری ۔۔ نے چمڑے کا غلاف چڑھایا۔دوسری بار خواب دیکھ کر کپڑے کا غلاف چڑھایا۔ فتح مکہ کے بعد حضور اقدس نے بھی غلاف لگایا۔ اب ہر سال رمضان اور حج کے موقع پر یہ تبدیل کی جاتی ہے ۔اور تبرک کے طور پر اس کے ٹکڑے دوسرے مسلم شخصیات کو بھی دیے بھی جاتے رہےہیں ۔

*حطیم* ۔

کو حجر اسماعیل بھی کہا جاتا اس ایرئے میں اسماعیل علیہ سلام کی والدہ ۔بیوی اور خود ان کے رہنے کا کمرہ اور قبریں موجود تھیں۔
اس احاطے میں نماز پڑھنا بیت اللہ کے اندر پڑھنے کے برابر ہے اس لیے یہاں جم غفیر ہر وقت نظر آتا ہے۔

*میزاب رحمت* ۔

یہ بیت اللہ کی چھت سے بارش کے پانی کے لیے پر نالہ ہے اور حجاج اس سے گرتے ہوئے بارش کے پانی حاصل کرنے کے لیے جان کی بازی لگاتے ہیں۔

*ملتزم* ۔

باب کعبہ اور حجر اسود کے درمیانی دیوار ۔دعاوں کی قبولیت کے لیے اہم مانا جاتا ہے۔

*باب کعبہ*

بھی حجاج کے لیے توبہ اور دعاوں کی قبولیت کے لیے بہت خاص مقام مانا جاتا ہے۔

*حجر اسود* ۔

جنت سے حضرت آدم کے لیے اتارہ گیا وہ سفید شفاف پھتر جو مسلمانوں کے گناہوں اور بوسوں کی بدولت ۔۔کالا پڑ چکا ہے۔ اس لیے اسے حجر اسود کہتے ہیں اور طواف والے اس تک پہچنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں ۔
ابو بکر نے جب بنو جرہم کو نکال کر یمن کی طرف جانے پر مجبور کیا تو وہ جاتے جاتے۔۔ ہجر اسود۔۔ کو بھی نکال کر ۔۔۔ زم زم۔۔ کے کنوان میں دیگر سامان اور نوادرات کے ساتھ ڈال دی ایک عورت کےبتانے پر بعد میں اسے نکالا گیا۔
317ہجری۔
شعیوں کے گمراہ فرقہ قرامطی کےعروج میں آنے کے بعد اس کے بانی ابو طاہر نے بحرین سے فوج لے کر حاجوں کے بیھس میں مسجد الحرام میں داخل ہوے کعبہ کی حرمت پامال کیا سات سو سے زاید مسلمانوں کو قتل کیا ان کی لاشوں سے زم زم کا کنواں بھر دیا ۔ ہزاروں افرراد کو قتل کیا ۔غلاف کعبہ۔نوادرات ۔تبرکات پر قبضہ کیا اورجاتے جاتے حجر اسود بھی نکال کر بحرین لے گیے۔ یہ بر بریت عباسی خلیفہ مقتدر با للہ کے دور میں ہوئی ایک سال حج نہ ہوسکا ۔ دس سال تک یہ دہشت گرد گروہ حجاج کو لوٹتے اور قتل کرتے رہے ۔ 22سال بعد خلیفہ مطیع باللہ کے دور میں 30لاکھ دینار تاون دے کر حجر اسود حاصل کی گیی ۔
363ہجری میں ایک رومی شخص ۔۔ حجر اسود۔۔ نکالتے ہوے مارے گیے۔
413ہجری میں اسماعلیہ فرقہ کےفاطمیوں نے مصر سے چھ بندوں کا ایک دہشت گرد دستہ روانہ کیا وہ حجر اسود توڑنے میں کامیاب ہوئے اور اس کے موتی بکھر دییے لیکن سارے قتل کر دیے گیے۔
990ھ میں پھر اسی کوشش میں ایک غیر ملکی مارا گیا۔ شاہ عبدالعزیز کے دور 1353ھ میں ایک افغانی موتی نکالتے ہوئے پکڑے گیے اور مارا گیا اس کے بعد موتی واپس لگاکے اسے پلاسٹک کور میں بند کیا گیا ہے۔
حضور اقدس صل اللہ وسلم نے حضرت عیسی علیہ اسلام ّ کے ظہور کے بعد کے دور کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ۔۔۔ میں کالے ٹانگوں والے حبشی کو دیکھ رہا ہوں جو کعبہ اور حجر اسود کو اکھاڑ رہا ہے۔

*مقام ابراہیم* ۔

یہ وہ پھتر ہے جو حضرت ابراہیم علیہ سلام کے لیے لفٹ کا کام کرتی تھی اور اس پھتر میں سیدنا ابراہیم علیہ سلام کے پاوں کے نشان بھی موجود ہیں پہلے وقتوں میں حجاج اس میں پانی ڈال کر تبارک کے طور پر پیا کرتے تھے اب اس پھتر کو شیشے کے اندر محفوظ کیا گیا۔ فتح مکہ کے دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے مشورے سے حضور علیہ سلام نے اس مقام کے قریب کعبہ کی سمت امامت کرائی۔

حرم کعبہ۔

کعبہ میں پڑھی جانے والی نماز دیگر عبادات اور نیکیوں کے مطالق اللہ کے حبیب نے اک ایک لاکھ اجر کی خوشخبری دی۔ اور یہ بھی فرمایا۔ کہ ہر لمحے بیت اللہ پر اللہ کی ایک سو بیس رحمتیں نازل ہوتی ہیں ۔60 طواف والوں کے لیے۔ 40 دیگر عبادات والوں کے لیے اور 20 خالی دیدار کعبہ والوں کے لیے۔
اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق اور بیت اللہ کی بار بار زیارت نصیب فر مائے۔

*مطاف* ۔

بیت اللہ کے گرد صحن کعبہ جو قریش کے دور میں بھی حدود کے اندر موجود تھی فتح مکہ کے بعد اس میں توسیع ہوئی اور اموی دور میں باقاعدہ اس کے قریبی مکانات گرا کر مسجد الحرام کے نمازیوں کے لیے مسجد کی شکل دی گئی۔

*صفا مروا۔*

صفآ کی پہاڑی سے مروا کی پہاڑی تک حجاج اور معتمریں سعی کے سات چکر لگا کر بی بی حاجرہ کی یاد تازہ کرتے ہیں اب یہ بھی مسجد الحرام کا حصہ بن گیا ہے

بحوالہ۔ تفسیر ظلا القرآن ۔ مسند احمد۔ ترمذی ۔مسلم۔ بخاری تاریخ کعبہ۔ عظمت بیت اللہ۔ الرحیق المختوم۔ محمد رسول اللہ۔تجلیات نبوت۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔