فکر وخیال۔۔آج کی بات۔ قومی ترانہ ،دعا اور ہم۔۔۔فرہاد خان ۔

ہمارے تقریبا تمام سکولوں میں صبح کا آغاز اسمبلی سے ہوا کرتا ہے جہاں قران کی تلاوت کے بعد قومی ترانہ اور پھر علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم “لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” روزانہ کی بنیاد پر پڑھی جاتی ہے مگر ، صد افسوس قومی ترانے میں لکھے ہوئے کسی ایک معیار پر ہمارا ملک پورا اترتا ہے اور نہ ہمارے قومی شاعر کے دعائیہ نظم پر ہم ابھی تک عمل کرنے اور اس سے سیکھنے میں کامیاب ہوسکے۔ ہم اور ہمارے ہر نئے سکول آنے والے بچے پورے دس سال یہی ترانے یہی دعا روزانہ کی بنیاد پر پڑھتے رہے مگر ان کے ایک لفظ کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے سے قاصر رہے۔ ہم مشترکہ طور پر عمل سے خالی رٹے لگا لگا کر پڑھنے والے لوگ ہیں ایک کان سے سنتے ہیں رٹا لگاتے ہیں اور پھر دوسری کان سے نکال دیتے ہیں ۔ ملک کو بنانے والے ہمارے رہنماؤں نے ملک کا جو نقشہ کھینچا تھا اس کو ایک ترانے میں ڈھال کر حفیظ جالندھری صاحب نے ہمیں پیش کیا ،مگر ملک بننے کے بعد ہمارے نمائندوں اور ہمارے لیڈروں نے اس کا جو حال کیا ہے اس کے بعد ہمیں اپنا قومی ترانہ بدل دینی چاہیئے ۔ یہ نہ اب شاد باد رہا ہےاور نہ کشور حسین ، یہ نہ اب عزم عالیشان والا ریاست ہے اور نہ یہ یقین کا مرکز ، اس کا نظام کیا سے کیا بنا ہے سبھی کو معلوم ہے۔ اس کے مکینوں میں نہ اخوت اور نہ بھائی چارے کا رشتہ بلکہ ہم قوم قبیلوں، فرقوں ، گروپوں،پارٹیوں اور ان گنت نسلی، لسانی ،مذھبی ،معاشرتی و سماجی گروہوں میں تقسیم در تقسیم ہیں۔ نہ ہم اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہ سکے اور نہ کبھی ایک قوم بن سکے ۔ ہم نے پرچم و ستارہ و ہلال کا پاس رکھا، اپنے ماضی سے کچھ سیکھا اور نہ حال سے اس لئے ہمارے اوپر خدائے زوالجلال کا سایہ رہا اور نہ ہم پر ان کی رحمتوں کی بارش ہوئی کیونکہ ہمارے اعمال ہی ایسے تھے کہ جن کے بعد رحم و کرم نوازش کی توقع کرنا بیکار ہے ۔ اب آتے ہیں شاعر مشرق کے دعائیہ نظم کی جانب ،یہ دعا بھی روزانہ کی بنیاد پر ہم تقریبا ہر سکول میں پڑھتے ہیں مگر ہم نے اپنی زندگی کو شمع کی صورت بنانے میں اب تک کامیاب نہ ہوسکے۔ نہ ہم نے دنیا کے اندھیروں کو مٹا کر بنی نوع انسان کے لئے روشنی کا ساماں مہیا کیا اور نہ ہم ایسے چمکے، ایسے ترقی کی منزلوں کو چھوا کہ جس سے سب کی زندگیوں میں اجالے آئے۔ نہ ہم نے برائیوں سے بچنے کی کوشش کی اور نہ نیک راہ پر چلنے کی سعی کی ۔نہ ہم نے اپنی زندگی کو پروانے کی صورت دی اور نہ ہم نے علم و تحقیق و جستجو سے محبت کی بلکہ ہمارے سارے کام اور قول و فعل میں تضاد ہی رہا۔ہم نے نہ دردمندوں کی مدد کی اور نہ ضعیفوں سے، کمزور و نحیف اللہ کے بندوں سے محبت کی ۔ یون ہم پورے دس سال اعمال سے خالی رٹے لگاتے رہے اور ہماری عملی زندگی اسی سانچے میں ڈھلتی گئی اور صد افسوس کہ ہم کسی ایک حرف اور جملے پر عمل نہ کرسکے ۔ یہی حال ہمارے تمام امور کا ہے، دیانت ۔ایمانداری ،محبت اور اتحاد و اتفاق سے خالی لوگ رٹے لگا کر ثواب کی توقع میں پڑے رہنے والے لوگ اور عمل سے عاری ،عقل سے عاری، اپنے اپنے مطلب کے حساب سے زندگی گزارنے والے لوگ ،ملاوٹ کے مشہور کاریگر ، جھوٹ بولنے کے ماہر ،قانوں شکن اور زخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری میں سب سے آگے ۔یہی سب کچھ ہمارا خاصہ ہے اور کچھ نہیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔