*اشارات و بشاراٹ نبوت* (16)…* *تحریر۔۔۔۔ شہزادہ مبشرالملک*

# **اہل کتاب* ۔۔*

شام کے یہودیوں کے پاس ۔۔۔ سفید صوف۔۔۔ کا بنا حضرت یحی بن زکریا علیہ سلام کا خون الودہ جبہ تھا ان کی کتابوں میں لکھا تھا کہ یہ۔۔ جبہ قطرہ خون۔۔۔ سے اس وقت تک تر رہے گا اور جب یہ خون۔۔۔ سفید۔۔ ہوگا تو وہ وقت اخری نبی کے قریب کادور ہوگا۔بعد میں ۔۔۔عبداللہ۔۔۔ کی خوبصورتی اور اس کے چرچے دیکھ کر وہ یہی بات کرتے رہتے جو۔۔۔ نور۔۔۔ اس کے چہرے پر ہے وہ اسکا نہیں اس کے بیٹے ۔۔۔ محمد ۔۔ کا ہے اور اسے۔۔۔ یتیم۔۔۔ پیدا ہونا ہے۔

*شہرمکہ* ۔

۔۔۔ میں ان دنوں دین حق کی تلاش میں چار اشخاص سرگردان رہتے تھے۔ ان میں ۔۔ *ورقہ بن نوفل،عبید بن جحش،عثمان بن حویرث،**زید بن عمرو* ۔۔۔ شامل تھے

* *ورقہ بن نوفل* ۔

۔۔۔ طلب دین میں مکہ سے موصل گئے اور عیسائی مذہب اختیار کی۔۔ایک راہب سے ملاقات ہوئی اور عیسایت قبول کرنے کا بتایا تو اس بڑے راہیب نے نوفل سے کہا تم واپس مکہ چلے جاو کیونکہ آخری نبی کا ظہور ہونے والا ہے اور وہ تمہارے شہر ہی سے ۔۔۔ اعلان نبوت ۔۔۔ کرے گا ۔

*مغیرہ بن شعبہ*

.. بیان کرتے ہیں میں تجارت کے لیے سکندریہ گیا جہاں ایک پادری سے ملاقات ہوئی وہ ہر وقت مصروف عبادت رہتے دوراں دعا میں ان کے قریب گیا اور سوال کیا حضرت انبیاء میں سے کوئی باقی رہ گیا ہے کہنے لگے ۔۔۔ ایک خاتم الا نبیاء باقی ہیں وہ نہ دراز قامت ہوگا نہ ہی پست قد،زیادہ سفید ہوگا نہ سیاہ۔۔۔ انکھیں سرخ ہونگیں سر کے بال لمبے ،۔۔۔شمشیر بکف۔۔۔ ہونگےجو اس کے سامنے آئے گا۔۔۔ خایف وترساں۔۔۔ ہوگا،اپنے۔۔۔ نفس۔۔۔ سے ۔۔جہاد ۔۔ کرے گا اس کے ۔۔۔اصحاب۔۔۔ اس پر جاں نثار کریں گے،ایک حرم سے دوسرے حرم میں ۔۔۔ ہجرت۔۔۔ کرے گا۔۔۔۔دین ابرہیم ۔۔۔ کی متابعت کرے گا۔

*سفیان بن ہزلی*

۔۔۔ کہتے ہیں میں ایک قافلے میں شام جاتے ہوئےایک جگہ ٹھرا اجانک آسمان کے درمیان کھڑا ایک سوار نظر آیا ہم پر خوف طاری ہوگیا وہ ۔۔۔اعلان ۔۔۔ کر رہا تھا ُُ ُ تمام جن مردود ہوگئے۔۔ نبی حق۔۔ عبدالمطلب کے گھر آگیا ہے۔

*حضرت ابو سفیان* ؓ ۔۔

روایت کرتے ہیں ۔کہ امیہ بن ابی الصلت مجھ سے ہمیشہ عتبہ بن رابعہ کے اخلاق اور حالات کےبارے میں پوچھتے رہتے ایک دن پھر پوچھا تو میں نے کہا وہ بوڑھے ہوچکے ہیں اور آپ بار بار اس کا کیوں پوچھتے ہیں ؟
تو کہنے لگے آج ایک بھید تم میں عیاں کرتا ہوں ۔ہم نے اپنی کتابوں میں آخری نبی کے ظہور کا پڑھتے آیے تھے اور میں سمجھ رہا تھا کہ وہ نبی میں ہی ہوسکتا ہوں ۔۔۔ پھر علماء اہل کتاب نے بتایا وہ نبی ۔۔۔ بنی عبدالمناف میں آے گا ۔۔۔ تو میں نے ان کی شخصیات میں عتبہ بن رابعہ کو سب سے بہتر محسوس کیا اب اگر وہ چالیس سال سے اوپر کے ہوگئے ہیں تو یہ اعزاز کسی اور کے حصے میں آنے والا ہے ۔

# *سیرت اقدس ** ۔

تمام مکہ والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت و امانت پر کامل اعتماد رکھتےہوئے اپنی امانتیں ان کے سپرد کرتے۔اور اپ کو صادق و امین کے لقب سے یاد کرتے۔اپ بچپن سے ہی سلیم العقل،پاک دامن،اور بہترین اخلاق کے مالک ظاہر ہوئے تھے جوانی میں ان صفات میں اوربھی بختگی آئی اور آپ کی صلاحتیں روز بروز نکھر کر سامنے اتیں رہیں۔مثبت سوچ۔۔۔ ،صحیع نظر۔۔۔،اعلی اخلاق،۔۔۔ عمدہ عادات۔۔۔،سچائی۔۔۔،امانت۔۔۔ مردانگی۔۔۔شجاعت ۔۔۔۔۔۔عدل ۔۔۔حکمت۔۔۔زہد۔۔۔۔قناعت،۔۔۔بردباری۔۔۔عفت۔۔۔صبر،۔۔۔۔شکر۔۔۔۔حیا۔۔۔وفا۔۔۔خیر خواہی ۔۔۔تواضع،۔۔۔بھلائی۔۔۔ اور ۔۔۔ احسان ۔۔۔ میں کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ہم پلا نہ تھا۔
لوگوں کی۔۔ تکلیف۔۔ کا بوجھ خود اٹھاتے۔۔۔ تنگ دست ۔۔۔ کی مدد کرتے۔۔۔میزبانی۔۔۔ فرماتے۔۔۔مصیبت۔۔۔ کے ماروں کی مدد کرتے۔ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا خاص اہتمام کیا قوم کے اندر پھیلی ۔۔۔خرافات ۔۔۔ سےہمیشہ دور رہے۔۔ ۔شرک ۔۔۔ استانے۔۔۔بتوں ۔۔۔ کے نام سے ہی نفرت کرتے۔۔۔۔وقت۔۔۔ کی قدر کرتے۔

# *نبوت کی دہلیز پر۔*

آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب چالیس سال کے قریب پہنچے تو قوم کی بدبختی اور بگاڑ پر رنجیدہ رہنے لگے۔الگ تھلگ رہنے کی اور گہری سوچ مں ڈوبنے کی عادت رہنے لگی کہ قوم کو کیسے ہلاکت اور تباہی سے بچایا جائے۔اسی سوچ نے خلوت نیشنی کےلیے۔۔۔ جبل حرا۔۔۔۔ کی راہ دیکھادی جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں ۔۔۔ دین ابراہیمی۔۔۔ کی بچی کھچی تعلیمات کے مطابق عبادات و ریاضت میں گزارتے جب واپس اتے تو کعبہ کا۔۔ طواف ۔۔ کرتے اور گھر کی راہ لیتے اور یہ عمل۔۔۔ تین سالوں۔۔۔ تک جاری رہا۔ جب چالیس سال میں قدم رکھا تو نبوت کی ۔۔۔جھلکیاں۔۔۔ سچے خوابوں ۔۔ اور۔۔۔اشارات۔۔۔ کی صورت چمکنے لگے۔
شجر و ہجر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے لگے اور نبی اللہ کی صدایں آنی شروع ہوئیں

بحوالہ۔ سیرت رسولؐ۔ تجلیات نبوت۔ محمد رسول اللہ ۔شواھد نبوت ۔محسن انسانیت

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔