فکرو خیال ۔…آبادی میں بے تحاشہ اضافہ تشویشناک ۔..فرہاد خان

ملک میں تازہ مردم شماری کے بعد ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی کل آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار ہوگئی ہے جو کہ ایک ترقی پذیر ملک کے لئے باعث تشویش ہے ۔
ادارہ شماریات کا یہ تازہ خبر ملک کے لئے اچھا شگون نہیں بلکہ تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ اگر اس رفتار سے آبادی میں اضافہ ہوتا رہا اور اگر اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو وسائل کی شدید کمی ملک کے اکثریتی مڈل کلاس طبقے کو غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور کردے گا اور یوں ملک میں بیروزگاری ،غربت اور تنگدستی کا دور دورہ ہوگا۔ ملک کی حالت زار سب کے سامنے ہے ۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ،کرپشن کی بھرمار اور لوٹ کھسوٹ کا بازار پہلے سے ہی گرم ہے، تعلیم و صحت کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے اور تعلیم و صحت کے سہولیات کا فقدان آبادی میں بے تحاشہ اضافے کا اصل زمہ دار ہے۔ حکومت وقت کی جانب سے بڑھتی آبادی پر کنٹرول کا کوئی اچھا سسٹم نہ ہونے اور ابادی کے ایک بڑے طبقے کا منصوبہ بندی کی مخالفت اور اسے غیر اسلامی قرار دے کر برسر عام اس کی مخالفت آبادی میں بے تحاشہ اضافے کا موجب بن رہا ہے جس پر ایک نئی حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی آبادی میں اب بھی ہر سال آٹھ کروڑ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے ۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق پورے دنیا کی تقریبا سات ارب آبادی میں زیادہ تر اضافی ترقی پذیر ملکوں میں ہوا۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم ریسرچ گروپ پاپولیشن ریفرنس بیورو ہر سال ایک ڈیٹا شیٹ تیار کرتا ہے ۔اس گروپ کے صدر کے مطابق ترقی پذیر ملکوں میں آبادی میں اضافے کی مسلسل اونچی شرح مسئلہ بنی ہوئی ہے اور اسی وجہ سے آنے والے نسلوں کے لیے بھی مزید مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، دنیا میں ہر سال آٹھ کروڑ افراد کا اضافہ ہوتا ہے اور اس میں سے دو کروڑ افراد کی آبادی غریب ترین ترقی پذیر ملکوں میں بڑھتی ہے۔ چونکہ پاکستان بھی انہی ترقی پذیر ملکوں کی فہرست میں صف اول میں ہے اس لئے آبادی کے اس بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے ہر آنے والا سال اس ملک کے لئے مسائل میں اضافے کا سبب بن رہا ہے جس پر اگر وقت پر کنٹرول کا کوئی لائحہ عمل نہ بنایا گیا تو ملک کی معاشی و مالی مشکلات بڑھ جائیں گے بیروزگاری میں اضافہ اپنے ساتھ مسائل کا انبار لائے گا اور یہ مسائل ایک غریب ملک کے لئے ایٹم بم کی تباہی سے کم نہیں ۔
ملک میں تعیلم کے سہولیات کا فقدان اور آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے جہالت کا عالم یہ ہے کہ اب بھی ملک کا ایک کثیر طبقہ پولیو ویکسین کو بھی حرام و سازش قرار دے کر اپنے بچوں کو زندگی بھر معذور بنارہے ہیں۔ معلومات کی کمی ، ابادی کو کنٹرول کرنے کے جدید طریقوں سے ناواقفیت اور اسقاط حمل کو گناہ قرار دے کر آبادی میں بے تحاشہ اضافے کرنے کا رجحان مذید مشکلات پیدا کررہا ہے جس سے ایمرجنسی بنیادوں پر نمٹنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو مذید مسائل کے دلدل سے نکالا جاسکے۔ ملک میں آبادی کے اضافے کا یہ دباؤ سخت سے سخت تر ہوتا جارہا جبکہ اسے کنٹرول کرنے کا جامع پالیسی آزادی سے لیکر اب تک نہیں بن سکا ۔اس کے علاؤہ دیہی علاقوں کی بڑھتی آبادی کا شہروں پر انحصار بڑھنے کی وجہ سے شہری ابادی میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے جس سے شہری نئے مسائل سے دوچار ہورہے ہیں ۔بڑھتی آبادی ماحول کے لئے بھی زہر قاتل ہے جبکہ وسائل کا زیادہ استعمال وسائل کی کمی کا بھی موجب ہے اگر آبادی میں جلد کنٹرول کرنے کے اقدامات نہ کئے گئے تو وسائل کی شدید کمی ملک کو مذید نئے بحرانوں میں دھکیل دے گا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔