فکرو خیال ..دور حاضرعلم و آگہی کا بہتریں دور…فرہاد خان

دور حاضر کے طالب علموں سے کہتا ہوں کہ آپ انتہائی خوش قسمت ہیں کہ تعلیم کے لئے سب کچھ آپ کے گھر کے دہلیز پر میسر ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی آمد اور علم و آگہی کی فراوانی کے باوجود طالب علموں کی اکثریت اس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں اور ان کا اکثر وقت فیس بک اور واٹس پر چیٹنگ میں گزر جاتا ہے ۔ یہ 1999 کی بات ہے جب ہم بسلسلہ تعلیم مقامی علاقے میں کالجوں کی عدم دستیابی اور لوئر چترال میں صرف ایک گورنمنٹ کالج ہونے، طالب علموں کی تعداد زیادہ ہونے اور داخلہ لینے میں مشکلات کی وجہ سے کراچی چلے گئے۔ اس وقت موبائل اور تھری جی فور جی کا تصور تک نہ تھا ،کمپیوٹر نامی بلا سے واقفیت وہاں جاکر ہوئی اور کمپیوٹر کا نام سن کراور اسے دیکھ کر حیران بھی ، پی۔ٹی۔سی ایل کا زمانہ تھا ٹیلی فون پر گھر والوں سے ڈائریکٹ رابطہ بھی ناممکن تھا گرم چشمہ بازار میں کال کرتے ،گھر والوں میں سے کسی کو وہاں بلاتے اور ان سے وہیں بات ہوجاتی وہ بھی مختصرا کیونکہ کال کے چارجز بہت زیادہ تھے اس لئے مختصر گفتگو ہوتی ۔اس زمانے میں علم و آگہی کے ایسے جدید زرائع کہاں تھے۔گاوں میں رواج یہ تھا کہ بچے بس کسی بھی طرح میٹرک یا ایف ۔اے کرلیں پھر کوئی سکاؤٹ میں بھرتی ہو جائے ،ملازمت مل جائے یہی کافی سمجھی جاتی تھی ،غربت کا زمانہ تھا سکاؤٹ یا بارڈر کی بھرتی کو نیک بختی سمجھا جاتا تھا۔ اسی ماحول میں پلے بڑھے ہم جیسے اکثر لڑکے سکاؤٹس و دیگر فورس میں سپاہی بھرتی کے لئے تگ و دو میں لگ جاتے۔ یہ کمیشن کے امتحانات، یہ سی۔ایس۔ ایس نامی بلا اور یہ یہ پی
ایم ایس کے نام سے بھی نابلد تھے ۔اس کے علاؤہ کیرئیر کونسلنگ کا بھی نام و نشان نہ ہونے کی وجہ سے ایسے ہی داخلہ لیکر تعلیمی میدان میں گھس گئے۔ اپنے حساب سے جو کچھ پڑھا وہ بھی کالج کے زمانے میں پڑھا کیونکہ سکول کے زمانے میں بھی گاؤن میں تعلیمی ماحول نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس لئے سکول کا زمانہ فرضی خانہ پری میں گزر گیا ۔ یہاں جو کچھ پڑھا اس کے بل بوتے آج زندگی کی معیشت کو دھکا لگا کر چلارہے ہیں ۔ سوچتا ہوں کہ کاش اس زمانے کا طالب علم ہوتا ، گھر کی دہلیز پر کالج و یونیورسٹی، گھر کے دہلیز پر جدید انٹرنیٹ فور جی کی سہولیات ،گھر کے دہلیز پر کیریئر کونسلنگ کے ادارے اور گھر کے دہلیز پر ایک انگلی کے اشارے پر علم و آگہی کے بےشمار زرائع۔آج جدید کمپیوٹر ،لیپ ٹاپ و جدید موبائل کی سہولیات ۔ مگر ، جن خوش قسمت لوگون کو یہ سب کچھ میسر ہے وہ بدقسمتی سے اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اپنا وقت فضول کاموں اور مشاغل میں صرف کررہے ہیں ۔ آج اگر ایک طالب علم چاہے تو بڑے سے بڑے پوسٹ پر ایک دو سال کی محنت سے پہنچ سکتا ہے مگر تمام تر سہولیات کے باوجود آج بھی سب کی نظر فوج میں سپاہی بھرتی ہونے پر ہے یا گورنمنٹ کے کسی ادارے میں معمولی ملازمت پر۔ ان نوجوانوں سے جب بھی موقع ملتا ہے کہتا ہوں کہ سی۔ایس ۔ایس کرنے کا سوچیں، کمیشن کے امتحانات کی تیاری کریں ،لیکچرز شپ کے لئے تگ و دو کریں، اسکالرز بنیں کیونکہ ان سب کی تیاری کے لئے وسائل و ذرائع کی کمی نہیں سب کچھ موجود ہیں ۔ مگر یہ لوگ ہیں کہ محنت سے عاری، شارٹ کٹ پر پیسہ و عزت ملنے کی متمنی اور فضول کاموں میں وقت ضائع کرنے کے عادی ۔ کوشش ہے کہ نوجوان نسل کو ان بڑے بڑے پروٹوکول و عزت والے ملازمتوں کے بارے میں آگاہی دی جائے تاکہ وہ ان بڑے عہدوں پر براجمان ہوکر اپنے علاقے کے لئے کچھ کرسکیں۔ سکول و کالج سطح پر طالب علموں کی ایسی زہن سازی کی ضرورت ہے کہ وہ محنت کو اپنا شعار بناکر کچھ بڑے سوچنے ،بڑے کام کرنے اور ان متذکرہ ملازمتوں کی جانب راغب ہونے کا سوچیں اور جب وہ سکول کالج سے فارغ ہو جائیں تو ان کے ذہن میں چھوٹے ملازمتوں کے بجائے ایک دو سال کی محنت سے ایسے بڑے بڑے ملازمتوں کی طرف راغب ہوں تاکہ اعلی سے اعلی تر ملازمت کے زریعے علاقے کی بہترین خدمت کریں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔