دادبیداد…امن کی تلاش…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

غزہ کی جنگ 7نومبر 2023ء کو شروع ہوئی تھی 7جنوری کو اس ہولنا ک جنگ کے دومہینے ہو جا ئینگے یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان چھیڑی گئی اس جنگ میں اب تک 40ہزار مسلمان شہید ہوئے 60ہزار زخمی اور معذور ہوئے 10ارب ڈالر کی جا ئدادیں ہسپتال، سکول اور دیگر عما رتیں تباہ ہو گئیں یہو دیوں کی جنگی حکمت عملی ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو قتل کر نے کے بجا ئے زخمی اور معذور کرنا زیا دہ مفید ہے کیونکہ زخمی اور معذور عمر بھر کے لئے خا ندان اور معا شرے پر بو جھ ہو تا ہے نیز یہو دی مسلمانوں کی اہم عمارتوں پر مشتمل بنیا دی ڈھا نچے کی تبا ہی کو قتل و غا رت سے زیا دہ اہمیت دیتے ہیں اس طرح مسلمانوں کی کمر ٹوٹ جا تی ہے وہ جیتے جی مر تے ہیں یہو دیوں کے محتاج ہو تے ہیں خبروں میں دلچسپی رکھنے والے مسلمان دنیا بھر سے یہ سوال اٹھا تے ہیں کہ جنگ بندی کیوں نہیں ہو تی؟ پا کستان کے مختلف شہروں سے نو جوان اور بزرگ شہری پو چھتے ہیں کہ سلا متی کونسل جنگ بندی کیوں نہیں کراتی؟ یونیورسٹی کے چند طالب علموں نے پوچھا ہے کہ سلا متی کونسل میں ”ویٹو پاور“ (Veto Power) کا پس منظر کیا ہے یہ باتیں اس لئے اہمیت اختیار کر گئی ہیں کہ جنگ کے 6ہفتوں میں 4بارسلا متی کونسل میں جنگ بندی کی قرار داد پیش ہوئی 10غیر مستقل اور 4مستقل ارکان نے جنگ بندی کے حق میں ووٹ دیا مگر امریکہ نے قرار داد کو ویٹو کر دیا یو نیور سٹی کے مسلمان طلبہ اس پر حیر ت کا اظہار کر تے ہیں کہ دنیا بھر کو جمہوریت کا سبق دینے والا امریکہ سلا متی کونسل میں جمہوریت کا مخالف کیوں کر ہوا؟ حقیقت یہ ہے کہ یو نیورسٹی کے نو جوان مسلمانوں کو اس پر ضرور تعجب ہونا چاہئیے نو جوانوں کو اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ ویٹو پاور کا آمرانہ، جا برانہ اور ظا لمانہ قانون سلا متی کونسل میں کیوں استعمال ہوتا ہے؟ اس معمے کو حل کرنے کے لئے ہمیں تاریخ کی طرف رجوع کرنا ہوگا جر منی کے مشہور فلسفی، ادیب، دانشور، سفارت کار اور چانسلراٹو وان بسمارک (Otto Von Bismarck)1871سے 1891تک مختلف اہم عہدوں پر رہے انہوں نے 1876ء میں کہا تھا ”وہ قوم آنے والی ہے جس کی تاریخ نہیں“ 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے خا تمے پر اتحا د یوں کو فتح حا صل ہوئی اتحا دیوں میں روس، برطانیہ، فرانس، اٹلی اورامریکہ شامل تھے اتحا دیوں کی قیادت امریکہ کے ہاتھوں میں آئی اور امریکہ نے اقوام متحدہ بنا ئی اس کی سلا متی کونسل میں ویٹو پاور کا غیر جمہوری قانون اپنی سہولت کے لئے رکھ دیا اپنے قیام کے 78سالوں میں اقوام متحدہ نے بچوں کی صحت، عالمی ثقافت، عالمی خوراک، عالمی محنت اور دیگر سما جی مسائل کے حل میں نما یاں کامیا بیاں حا صل کیں مگر امن کے قیا م میں اقوام متحدہ کو نا کامی کا سامنا کرنا پڑا، وجہ سلا متی کونسل اور ویٹو پاور بنی، امریکہ نے 1945ء میں ہی عالمی سطح پر اپنی جنگوں کا خا کہ تیار کیا تھا 1948ء میں امریکہ نے فلسطین میں بیت المقدس کو آگ لگا کر لمبی جنگ کا آغاز کیا جو آج تک جاری ہے 1951سے 1953تک امریکہ نے کوریا کی جنگ لڑی، 1955میں امریکہ نے ویت نا م پر حملہ کیا یہ جنگ 1975تک جا ری رہی 1991میں عراق پر حملہ کیا، 2001ء میں امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا 2014میں امریکہ نے شام پر حملہ کیا ان بڑی جنگوں کے علا وہ امریکہ نے دنیا کے مختلف مما لک میں 73دیگر مقامات پر تباہ کن حملے کئے 2014میں لیبیا پر امریکی حملہ بھی ان میں شمار کیا جاتا ہے 1979ء میں ایران پر امریکی حملے کو انقلا بی حکومت نے پسپا کیا تھا اس کے بعد ایران پر دو بار ہ حملے کی جرات نہیں ہوئی اگر 1945ء میں امریکہ ویٹو پاور اپنے ہاتھ میں نہ لیتا تو اتنی جنگیں کیسے لڑتا؟ اگر چہ امریکہ کے ساتھ چین، روس، فرانس اور برطانیہ کو بھی ویٹو کا اختیار حا صل ہے لیکن ان مہذب قوموں نے کسی کمزور قوم کے خلا ف ویٹو کا اختیار کبھی استعمال نہیں کیا آج امن کی تلا ش میں ویٹو پر پا بندی لگا نی چاہئیے اس کے بغیر امن قائم نہیں ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔