داد بیداد..آنے والا وقت..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

آنے والا وقت پا کستان کے لئے کیا تحفہ لیکر آئے گا؟ 8فروری 2024ء کے انتخابات کے بعد ملک کا منظرنامہ کیا ہو گا؟ اس پر پا کستانی عوام سے زیا دہ فکر غیر ملکیوں کو ہے غیر ملکیوں میں وہ چار ممالک نمایاں ہیں جن کو پا کستان کی جو ہری طاقت اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت پسند نہیں ایسے ممالک نے اپنے خفیہ اداروں کا سارا زور پاکستان پر فو کس کیا ہوا ہے بعض ممالک نے سرمایہ بھی مختص کیا ہوا ہے تاکہ انتخا بات کے دوران اور انتخابات کے بعد سارے نتائج ان کے حق میں بہتر ہوں اس کے مقا بلے میں ہماری سوچ اور فکر انفرادی مفادات کے گرد گھومتی ہے ہمارے سامنے ملک کا اجتماعی مفاد بھی نہیں ملک کے دشمنوں کی حکمت عملی بھی نہیں دشمن ملکوں کے خفیہ اداروں کی سر گر میوں سے آگاہی بھی نہیں ہم آنکھیں بند کر کے نا معلوم کھائی کی طرف بڑھ رہے ہیں کھا ئی میں گر نے تک ہماری آنکھیں نہیں کھلینگی کاغذات نامزدگی جمع کرنے کی آخری تاریخ گذرنے کے بعد جو منظر نامہ دکھایا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک پارٹی پر پا بندی کی وجہ سے 60فیصد آزاد امیدواروں نے کا غذات نا مزدگی جمع کرائے، دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی اختلافات کی بنا ء پرآزاد امیدواروں میں اضافہ ہوا 8فروری تک اگر یہی صورت حال رہی تو نتائج آنے کے بعد کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملے گی حکومت بنا نے کے لئے 2018ء کی طرح آزاد امید واروں کی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت ہو گی مخا لف پارٹیوں سے بھی لو گوں کو ادھر اُدھر کیا جا ئے گا غیر فطری اور غیر سیاسی اتحاد بنوائے جا ئینگے اس میں کم ازکم 50ارب روپے کی سرما یہ کاری ہو گی اس سرمایہ کا ایک چوتھائی ملک کے اندر بلیک منی یا کالے دھن سے آئیگا اور تین چو تھائی دشمن ملکوں کی ایجنسیاں فراہم کرینگی گویا پاکستان ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی مچھلی منڈی بن جائیگی یہ کسی کی بدعا نہیں، کسی کی بد شگو نی نہیں بلکہ سامنے آنے والے حا لات کا منطقی نتیجہ ہے اب تک جو کچھ ہوا ہے یا ہو رہا ہے اس کی روشنی میں منصفانہ اور غیر جانبد ارانہ انتخا بات ہو تے ہوئے نظر نہیں آرہے 8فروری تک انتظار کیا گیا تو وقت ہاتھ سے نکل جائے گا اس لئے ابھی سے حالات کو درست کرنے پر تو جہ دینے کی ضرورت ہے انگریزی کی ایک ترکیب ”لیول پلے انگ فیلڈ“ باربار استعمال ہورہی ہے سیاسی جماعتیں بھی استعمال کر رہی ہیں حکومت بھی استعمال کر رہی ہے لیکن عدالتوں میں جو مقدمات چل رہے ہیں ان کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ تمام پارٹیوں کو یکساں مواقع دیئے جا رہے ہیں اور سب کے لئے کھلا میدان مو جود ہے کیونکہ لیول پلے انگ فیلڈ کا مطلب کھلا میدان ہے کسی پا بندی کے بغیر سب کو یکساں مواقع دیئے گئے تو اس کو کھلا میدان کہا جا ئے گا یہ بات یا د رکھنی چاہئیے کہ فافن، ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل، ہیو من رائٹس کمیشن اور دیگر بین ا لاقوامی تنظیمیں انتخا بات کی نگرانی کرینگی اگر سیا سی قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو پوری دنیا اس پر انگلی اٹھا ئیگی ملک بھر میں احتجاج ہو گا سوشل میڈیا پر واویلا ہو گا، ازاد ذرائع ابلاغ پر بھی شور شرابہ ہو گا یہ فیلڈ مارشل ایوب خان کا زمانہ نہیں کہ محترمہ فاطمہ جناح جیتی ہوء سیٹیں ہار جا ئے ملک کا صدر ہاری ہوئی بازی کو پلٹ دے اور اپنے آپ کو کامیاب قرار دے، 1964ء سے 2024ء تک 62سال کا عرصہ گذر گیا اُس زما نے میں صرف ریڈیو پا کستان تھا دو شہروں میں اکیلے پی ٹی وی کی نشریات شروع ہوئی تھیں ابادی کے 80فیصد حصے کو ٹیلیفون کی سہولت بھی میسر نہیں تھی 1964کے صدارتی انتخابات کا ”ایکشن رے پلے“ اب نہیں چلے گا 2018ء میں جو غلط فیصلے کئے گئے ان فیصلوں کی وجہ سے ملکی اداروں کی حد سے زیادہ بدنامی ہوئی اب ان غلطیوں کو دہرانا مناسب نہیں ہو گا مرحوم طارق عزیز نیلا م گھر میں آخری سوال پر کہتے تھے ”غلطی کی گنجا ئش نہیں“ 2024ء کے ملکی انتخابات میں غلطی کی گنجائش نہیں آنے والا وقت بہت ظالم ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔