داد بیداد۔۔۔اکسائز اینڈ ٹیکسیشن۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صو بائی حکومت کے محکموں میں اکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو بیحد اہم مقام حا صل ہے یہ محکمہ صوبائی محا صل کا بڑا حصہ جمع کر تا ہے اور سالا نہ بجٹ میں صو بائی آمدنی کے حوالے سے اس محکمے پر بھی انحصار کیا جاتا ہے اس وجہ سے تو قع یہ ہو تی ہے کہ اکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا کوئی کا م 24گھنٹے سے زیا دہ تعطل کا شکار نہیں رہے گا گذشتہ روز نگران وزیر اعلیٰ جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے صو بائی محکموں پر زور دیا ہے کہ اپنے اہداف وقت پر پورا کریں صو بے کی انتظا می مشنیری میں کوئی کام لٹکا ہوا نہیں رہنا چاہئیے اس طرح وسائل کا ضیاع ہو تا ہے عوام کو کئی مسائل اور دقتوں کا سامنا کرنا پڑ تا ہے ویسے اگر دیکھا جائے تو کئی محکموں میں کئی کام تعطل سے دو چار ہیں اکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے محکمے نے دو سال پہلے تما م گاڑیوں کے لئے یکساں نمر پلیٹوں کی منظوری دی تھی، منظوری کے بعد نمبر پلیٹس بنا نے کا م مارکیٹ میں تما م کوائف پر پورا اترنے نے والے کنٹریکٹر کو دیا گیا تھا، کنٹریکٹر نے موبلائزیشن بل دکھا کر ایڈوانس پے منٹ بھی حا صل کیا تھا مگر دوسال گذر نے کے باوجود کسی بھی ضلع میں کوئی نمبر پلیٹ فراہم نہیں کیا گیا، لو گ دفتروں کے چکر لگا لگا کر تنگ آچکے ہیں یہ ایسا کام تھا جسے دو مہینے سے کم مدت میں مکمل ہونا چاہئیے تھا مگر لگتا ہے گاڑیوں کے لئے یکساں نمبر پلیٹ بنانا بادشاہوں والا کام ہے اور باد شاہوں کے کا موں کی اپنی ایک تاریخ ہو تی ہے واقعہ مشہور ہے ایک ملک میں باد شاہ ہوا کر تا تھا اُس کی رعایا پروری مشہور تھی غریبوں کے ساتھ اس کو بیحد لگاؤ تھا وہ کہا کر تا تھا کہ میری بادشاہت میں غریبوں کا کا م سورج طلوع ہونے سے سورج غروب ہونے تک رکنا نہیں چاہئیے کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ دریا پار غریبوں کو کچی جھونپڑیاں تھیں جھونپڑیوں میں رہنے والے لو گ لکڑیوں کے کچے پُل پر سے گذر کر مزدوری کے لئے شہر آتے تھے غریبوں کی اس بستی میں رہنے والے غریبوں نے باد شاہ کے دربار میں آکر فریاد کی کہ لکڑیوں کا پل ٹو ٹا ہوا ہے اگر پل کی مر مت کروائی جائے تو بندہ پروری ہو گی، باد شاہ نے وزیر کو حکم دیا، وزیر نے تعمیرات کے ذمہ دار حا کم کو حکم دیا تعمیرات کے ذمہ دار حا کم نے اپنے ما تحت افیسر کو حکم بھیجا، اُس نے مزید نیچے حکم بھیجا نیچے سے اوپر تک حکم آتے جا تے رہے ایک دن باد شاہ کو خیال آیا کہ دریا کے پار جھونپڑیوں میں رہنے والے غریبوں کے فریاد کی تھی کہ پل کی مر مت کی جا ئے اُس پل کی مرمت ہو گئی یا نہیں، بادشاہ کا سوال وزیر اور حا کم تعمیرات سے ہوتے ہوئے نیچے گیا تو نیچے سے جواب آیا کہ عالی جاہ! یہ 10سال پہلے کا واقعہ تھا ہم پل کی مرمت کے لئے موقع پر گئے تو معلوم ہوا کہ پل کو دریا بہا کر لے گیا تھا ہم نے دریا کے اُس پار دیکھا تو جھونپٹریاں بھی نہیں تھیں مزید تفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ 3سال پہلے جھونپڑیوں میں آگ لگی جھونپڑیاں جل گئیں جھونپڑیوں کے اندر رہنے والے سب لو گ مر گئے کوئی زندہ نہیں بچا باد شاہ کو بڑا دکھ اور افسوس ہوا کیونکہ وہ رعا یا پرور تھا ہمارے زما نے کے ایک باد شاہ کا نیا نیا قصہ کتاب میں آیاہے عکسی مفتی اسلا م اباد میں وزارت ثقا فت کے جائینٹ سکر ٹری تھے شاہی قلعہ لا ہور سے رپورٹ آئی کہ چھت میں سوراخ کی وجہ سے پا نی اندر آرہا ہے تاریخی نواردات ضا ئع ہورہی ہیں، عکسی مفتی لا ہور میں مو جود تھا چھت پر جا کر دیکھا تو معمولی کام تھا دو گھنٹے تک ایک کاریگر کام کیا ایک ہزار روپے خر چ ہوئے اور چھت کی مرمت ہو گئی پا نی ٹپکنا بند ہوا اس واقعے کے 6مہینے بعد معلوم ہوا کہ اُس چھت کی مرمت کے لئے 25لا کھ روپے منظور ہو چکے تھے اس نظام کو سُر خ فیتہ کہا جا تا ہے اکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے محکمے میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں کا کام سرخ فیتے کی نذر ہو گیا ہے نگران وزریر اعلیٰ اور چیف سکرٹری کی تھوڑی سی تو جہ سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔