لوئر چترال: پریت میں دوہرے قتل کا واقعہ

چترال ( محکم الدین ) چترال لوئر کے گاوں پرئیت میں مبینہ طور پر پندرہ سالہ بچی ( ج) دختر جلیل الرحمن کی خود پر پستول سے فائر کرنے کے نتیجے میں گولی خود اس کے جسم کوپار کرنے کے بعد دوسرے شخص عبدالحق کو لگی ۔ جس سے دنوں کی موت واقع ہوگئی ۔ تفصیلات کے مطابق پرئیت سے تعلق رکھنے والی پندرہ سالہ بچی ( ج) گذشتہ روز اپنے گھر سے نامعلوم وجوہات کی بنا پراکیلی چترال شہر آئی ۔ اور چیوو ڈوک میں اپنے ایک رشتے دار کے ہاں پناہ لی ۔ اگلے روز پرئیت سے چند افراد آکر انہیں واپس گھر لے گئے ۔ لیکن مبینہ طور پر پرئیت کے قریب پہنچ کر مذکورہ بچی نے پستول سے خود پر فائر کی ۔جس پر گولی لڑکی کو چیر کر پچھلی سیٹ پر بیٹھے عبدالحق کو لگی ۔ جس سے دونوں ہلاک ہو گئے ۔ عبد الحق چھ بچوں کا باپ تھا ۔اور چترال سکاوٹس کا پنشنر تھا ۔ بچی مسماتہ ( ج ) اور عبدالحق کو جمعرات کی شام پوسٹ مارٹم کے بعدآبائی گاوں پرئیت میں سپرد خاک کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق حالیہ واقعے میں بچی کے والد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔

چترال میں کئی واقعات کو خود کشی کا رنگ دیا جاتا ہے ۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خاندان کی طرف سے ایسے واقعات کو خودکشی کا رنگ دینے کے بعد پولیس مزید تفتیش میں سر کھپانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی ۔ اور خود کشی کی رپورٹ کے ساتھ فائل بند کر دیا جاتا ہے ۔ چترال لوئر میں قتل و غارت گری کے حوالے سے علاقہ پرئیت اچھے نام کا حامل نہیں ہے ۔ جبکہ اپر چترال کے اویر کے علاقے میں بھی خواتین کے قتل کے کئی واقعات ہوئے ہیں ۔ لیکن مقامی پولیس کی ناقص تفتیش کے باعث قاتل اب تک بچنے میں کامیاب رہےہیں ۔

جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس افیسر لویر چترال قمر حیات نے میڈیا کو بتایاکہ ذہنی ڈپریشن میں مبتلا لڑکی گھر والوں سے ناراض ہوکر چترال شہر پہنچ گئی تھی جہاں سے انہیں گھر واپس لے جانے کے دوران یہ واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے کہاکہ پولیس نے ضابطہ فوجداری کے دفعہ 174کے تحت انکوائری شروع کردی ہے اور لاشوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی واقعہ کی اصلیت سے پردہ اٹھ جائے گا۔

 

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔