* *دعوت اسلامی کے تین خفیہ سال**20۔۔۔۔۔*تحریر۔شہزادہ مبشرالملک* ۔

* *سابقین اولین*

۔تین سال تک خفیہ دعوت کا سلسلہ جاری رہا اور دیا سے دیا جلتے رہے۔ حضرت ابوبکر ؓ کی جدوجہد اور کوشیشوں سے بہت سے اشخاص گوشہ اسلام میں داخل ہوٕئے ۔ابوبکر ؓایک نامی گرامی تاجر ایک مدبر اور بااثر شخصیت کے مالک تھے۔ہماری نصابی کتب اور تاریخی کتب میں ابتدإئی مسلمانوں کو معاشرے یعنی شہر مکہ کے غریب ناتواں ۔غلام ۔اور کمزور ترین افراد بنا کر پیش کیا گیا ہے حقیقت میں ایسا نہیں ہے ان ابتداٸی مسلمانوں میں غلام اور باندی چند ہی ہیں باقی قریش کے با اثر خاندان کے نوجوانان ہیں لیکن شہر مکہ میں اختیارات ان کے بڑوں کے ہاتھوں میں تھیں اور وہ اپنے اثرو رسوخ اور اجداد کے میراث یعنی ۔۔۔ بت پرستی ۔۔۔ کو آسانی سے چھوڑنے کو تیار نہیں تھے ۔

حضرت ابوبکر ؓکی کوشیشوں سے حضرت عثمان ؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عبدالرحمان ؓ
، حضرت سعدبن وقاصؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت بلالؓ اس قافلہ سخت جان کا حصہ بننے۔
حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں تجارت کی غرض سے شام میں ایک بزرگ اہل علم ۔۔۔ عشکلان بن ابی العوالم ۔۔۔ کے ہاں ٹھرا ہوا تھا وہ ہربار مکہ میں کسی بڑی تبدیلی کا پوچھتے رہتے اس بار میرے آنے کا مقصد دریافت کیا اور کہا میں تجھے بشارت دیتا ہوں جو تمہاری تجارت سے زیادہ نفع بخش سودا ہے میں نے حیرت سے پوچھا وہ کیا ہے تو کہنے لگے ایک مہینہ ہوگیا ہے تمہارے شہر مکہ میں آخری نبی کا ظہور ہوچکا ہے ۔جلدی یہاں سے نکلو اور ایمان لانے میں بازی لے جاوٕ وہ نبی مکہ سے نکال دیے جإئیگے ان کا ساتھ دینا یہ کہہ کر چند اشعار لکھ کر حضور اقدس ﷺ کو ھدیہ کرنے کو دی۔”
اشھد بااللہ ذی المعالی
وفالق الیل بالصباح
ترجمہ۔ میں گواہی دیتا ہوں بلندیوں والے اللہ کی جو رات کو صبح سے پیدا کرنے والا ہے اور میں رب موسی علیہ سلام کی کہ بے شک آپ ﷺ بطحا والوں کے لیے رسول ہوکر آۓ ہیں ۔تو آپ میرے شفیع بھی اس بادشاہ ﷻ کے سامنے بن جایے جو مخلوق کو اصلاح کی دعوت دیتا ہے۔“
عبدالرحمان ؓ کہتے ہیں میں نے جلدی کام ختم کیے اور شام سے نکلا مکہ پہنچ کر اپنے دوست ابوبکر ؓ سے ملا کہ یقینا اسے اس رسول کے بارے میں پتہ ہوگا اور عشکلان کی بشارت کا حوالہ دیا تو ابوبکر نے مسکرا کر کہا یہ درست ہے ہمارے دوست حضرت محمدﷺ رسول بنا دیے گۓ ہیں ۔مجھے لے کر حضور کے گھر پہنچے۔
حضور نے مجھے دیکھ کر تبسم کیا اور فرمایا ” میں ایک درخشان چہرہ دیکھ رہا ہوں “۔میں نے تجسس سے پوچھا وہ کون ہے جناب۔۔۔ حضور نے فرمایا ۔”جس نے تجھے ہدیہ دیکھ کر میرے پاس روانہ کیا ہے یعنی عشکلان ۔“
حضور کا یہ معجزہ دیکھ کر بے اختیار میں نے ۔اشھد ان لا الہ اللہ و اشھد ان محمد رسول اللہ۔ کہا ۔اور سارہ قصہ حضور کو بتا دیا تو حضور ﷺ فرمانے لگے ۔وہ مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لانے والا میرا زمانہ دیکھے بغیر میری تصدیق کرنے والا ۔میرا حقیقی بھاٸی ہے۔”

ان اصحاب کی کو شیشوں سے قریش اور قریش کے علاوہ بہت سے دوسرے قبائل کے افراد بھی گوشہ اسلام میں داخل ہوئے۔
ان میں سے کچھ اہم افراد یہ ہیں ۔ نامور سالار اسلام ابو عبیدہ بن جراح ۔ ابو سلمہ۔ارقم ۔عثمان بن مظعون۔ ان کے بھاٸی قدامہ اورعبداللہ۔ عبیدہ بن حارثبن مطلب۔ سعید بن زید۔ خباب ۔جعفر طیار۔ عمرو بن سعید۔حاطب بن حارث۔خطاب بن حارث۔ مطلب بن ازہروغیرہ

غیر قریش میں عبداللہ بن مسعود۔ مسعود بن رابعہ۔عبداللہ بن جحش۔احمد بن جحش ۔صہیب بن سنان رومی۔ عمار بن یاسر بمعہ خاندان۔ عامر بن فہیرہ وغیرہ .

حضرت خالد بن سعید نے خواب میں خود کو۔۔۔ جہنم ۔۔۔ میں گرتے اور۔۔۔ حضور انورﷺ ۔۔۔کو خود کو بچاتے ہوئے دیکھا ۔صبح بیدار ہو کے گھر سے خوف کے مارے نکلا اور حضرت ابوبکر ً سے ملاقات کی اور قسم کھا کے کہا جو خواب میں نے دیکھا ہے وہ بلکل درست ہے اور ایسا ہو کر رہے گا لہزا میںں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں حضرت ابوبکر نے حضور ّ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرادی اور خالد اسلام کے ابتدائی جان نثاروں میں  شامل ہوگئے۔

حضرت خدیجہ ؓ کی کوشیشوں سے بہت سی خواتین بھی آغوش اسلام میں آگٕئیں جن میں ام ایمن۔۔۔ ام الفضل لبابہ۔۔۔اسماء بیت ابوبکر ۔ ام سلمہ۔ فاطمہ بن خطاب۔ اسمإ بینت عمیس۔ امینہ بیت خلف۔فاطمہ بینت مجلل۔ فکیھہ بنت یسار۔رملہ بنت ابی عوف۔ خواتین میں شامل تھیں۔
ان ہی عظیم ہستیوں کو جو ان ابتدإئی سالوں میں دین اسلام میں داخل ہونے میں پہل کر گئے۔۔۔ سابقین اولین ۔۔۔۔ کے مبارک نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔اوران کی تعداد ایک سو تیس تک پہنچ جاتی ہے۔
*********

بحوالہ۔ الرحیق المختوم ۔تجلیات نبوت۔شواھد النبوت

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔