میڈیاکے نمائندوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹوں کے لئے (اکاہ) کے زیر اہتمام دو روزہ تربیتی پروگرام کی احتتامی تقریب

چترال (چترال ایکسپریس ) ڈپٹی کمشنر لویر چترال محمد عمران خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقے بالعموم اور چترال بالخصوص قدرتی آفات سے کے سنگین خطرات سے دوچار ہیں جوکہ موسمیاتی تبدیلی کا شاخسانہ ہیں اوران حالات میں میڈیا کا کردار اہمیت اختیار کرگئی ہے جوکہ عوام کو آگہی دینے کے ساتھ ساتھ بروقت اطلاع بہم پہنچانے اور ڈیزاسٹر سے پہلے، ڈیزاسٹر کے دوران اور اس کے بعد ان کی ذمہ داریوں کا دائرہ بدلتا رہتا ہے۔ ہفتے کے روز چترال پریس کلب میں میڈیاکے نمائندوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹوں کے لئے آغا خان ایجنسی فار ہبیٹاٹ (اکاہ) کے زیر اہتمام دو روزہ تربیتی پروگرام کے احتتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چترال میں قدرتی آفات کے اثرات بد کو کم سے کم کرنے کے لئے عوام کو تیار رکھنے کے لئے ان کی استعداد کارکو بڑہانے اور حفاظتی اقدامات کرنے میں اکاہ کا کردار قابل ذکر ہے جس کے فیلڈ اسٹاف جانفشانی سے کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ ادارہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلق کار رکھتے ہوئے کام کررہی ہے جس کے اچھے نتائج برامد ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز کی تربیت بھی اس سلسلے کی کڑی ہے جوکہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی طرف سے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔

اس سے قبل اکاہ کے ریجنل پروگرام منیجر ولی محمد خان اور چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین نے ڈیزاسٹر رسک منیجمنٹ کی رپورٹنگ کے موضوع پر تربیتی نشست کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اکاہ کی دوسرے سرگرمیوں کو اجاگر کیا۔

اس موقع پر تربیت حاصل کرنے والے شہزادی حسین اور اشرف حسین نے تربیت کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے لئے نہایت مفید قرار دیا۔ انہوں نے تربیتی پروگرام کے ریسورس پرسن اور اکاہ کے منیجر ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ جاوید احمد اور ان کی ٹیم کے ممبران سینئر ٹریننگ افیسر عائشہ بی بی اور ٹریننگ افیسر عیسیٰ خان کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نےجو عملی تربیت فراہم کی وہ فیلڈ رپورٹنگ میں ان کے لئے مفید ثابت ہوگی۔
تربیت میں شرکت کرنے والوں میں ڈپٹی کمشنر لویر چترال محمد عمران خان کے علاوہ پریس کلب کے بانی صدر جہانگیر جگر اور پشاور پریس کلب سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی نادر خواجہ نے بھی سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔