میری ڈائری کے اوراق سے (گل جی ، پرائمری سے ائی ایس آئی/ انفارمیشن افیسر سے دنیا کے اُس پار تک)۔۔۔تحریر : شمس الحق قمر ( دوسری قسط)

ہم نے پہلی قسط میں یہ بتایا تھا کہ میٹرک میں گل جی کے نمبر کم آئے تھے۔ کالج میں داخلے کا امکان مفقود نظر آنے لگا تھا لیکن اس شخص کی زندگی کی لغت میں لفظ’’ ہار ‘‘ نہیں تھا اپنا حوصلہ ہمیشہ بلند رکھا۔ ڈگری کالج چترال میں داخلہ مل تو گیا ۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ قسمت کی دیوی کبھی کبھار بھی روٹھا کرتی ہے اور یہی ہوا ایف۔ اے میں گل جی کے دو مضامین رہ گئے ، گل جی کو دکھ ضرور ہوا لیکن بے دل نہ ہوئے کیوں کہ اب تک اُنہوں نے مشکلات سے نبرد آزمائی کا فن خوب سیکھا ہوا تھا ۔ ہارنا مواقق صورت حال کو سیکھنے کےلیے ایک اچھا موقع گردان کر حالات کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹے رہنا اُس کی عادت تھی ۔ والدین کی طرف سے تعلیم حاصل کرنے کےلیے ہر طرح کی مدد میسر تھی لیکن جب دو مضامین رہ گئے تو گل جی نے اپنے اندر کے گل جی سے کہا کہ اب والدین کو کیا منہ دکھاؤ گے لہذا اس خطے کو چھوڑ کر ایسی جگہے کا انتخاب کروجہاں علم کی تشنگی بھی بجھائی جاسکےاور والدین کی اُمیدیں بھی بر آئیں ۔ اپنے دھن کا پکا یہ پرُ عزم نو جوان زندگی میں آر یا پار کے فلسفے پر یقین رکھتے تھے ۔ اُمید کی واحد کرن قربان جو کہ اُن کے چچا زاد بھائی تھے اُس وقت کراچی میں سوپ کا ہوٹل چلاتے تھے اور وہیں مقیم تھے ۔ اُن سے خط و کتابت تھی لہذا گل جی نے اپنے بھائی صوبیدار بشیر (مرحوم) ،چترال سکاوٹس میں لانس نائک تھے ، سے کراچی جانے کی سوچ کاذکر کیااور ساتھ کراچی تک کرایے کےلیے پیسوں کا بھی تقاضا کیا ۔ انہوں نے مبلع 500 روپے کرایہ دیا اور بھائی کے ماتھے کو چوم کر آبدیدہ ہوئے اور کہا کہ تعلیم کےلئے سفر اختیار کرنا اچھی بات ضرور ہے لیکن آپ نے والدین کو بتائے بغیر اتنی طویل مسافت طے کرنے کا ارادہ کیا ہے۔گل جی نے جواب دیا کہ میں نے اپنے مستقبل کا تعین کیا ہوا ہے تین چار دنوں کے بعد میں کراچی پہنچ جاؤں گا تب آپ والد اور والدہ کو بتادینا کہ گل جی تعلیم حاصل کرنے کےلیے یہاں سے فرار ہوئے ہیں ۔یہ وہ وقت تھا جب کالج کے تمام طلبہ سالانہ تنائج کے بعد چھٹیوں پر اپنے اپنے گھروں میں ماں باپ کے پاس پہنچ چکے تھے۔گل جی اس بار گھر نہیں آیا معلوم نہیں ہو سکا کہ کہاں گئے۔اُن کے والد صاحب مزید انتظار نہیں کر سکتے تھے لہذا گھر ہستی کے تمام کام چھوڑ کر نشیبی چترال کی طرف روانہ ہوئے تاکہ گل جی کا پتاڈھونڈ سکے۔گل جی اُس وقت چترال میں اسماعیلی ہاسٹل میں رہتے تھے ۔گل جی کے والد ( مرحوم ) کشاں کشاں ہاسٹل پہنچے لیکن ہاسٹل بند ہو چکا تھا اور تمام طلبہ چھٹیوں پر گئے ہوئے تھے ۔ اتفاقاً گل جی کے بڑے بھائی بشیر( مرحوم ) دروش سے چترال آئے ہوئے تھے، والد سے ملاقات ہوئی اور یوں گل جی کے چترال چھوڑنے کی خبر اُن کے والد کو ہوئی۔
گل جی کراچی کے سفر کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اُس زمانے میں سرکاری بس سروس چترال سے پشاور چلتی تھی( GTS ) کہلاتی تھی۔ ۔پشاور سے ریل میں بیٹھ کر بھائی کے پاس کراچی پہنچے ۔ بھائی نے دو پتے کی باتیں کیں ،انہوں نے کہا ’’ تم چترال سے اتنی لمبی مسافت طے کر کے کراچی آئے ہو۔ اب آپ کے سامنے صرف دو راستے ہیں جن میں سے ایک انتخاب کرنا ہوگا!
نمبر 1 : اگر آپ نے محنت مزدوری کرنی ہے تو میں تمہارے لیے کہیں کام تلاش کروں گا لیکن کام کرنے کی صورت میں آپ میرے پاس نہیں رہو گے بلکہ جہاں کام کروگے وہیں رہوگے اور درست معنوں میں محنت مشقت کر کے اپنی معاشی حالت سدھارو گے ۔
نمبر2: اگر آپ نے تعلیم حاصل کرنی ہے اور اچھی پڑھائی کرنی ہے تو آپ میرے پاس رہائش اختیار کرو گے ۔ پہلے اپنے وہی دو مضامین پاس کرو گے جن میں آپ رہ چکے ہواور میرے ساتھ رہ کر صرف پڑھائی پر دھیاں دو گےاور یہی تمہارا کام ہوگا ۔
گل جی نے آخر الذکر مشورے پر اثبات میں سر ہلایا ۔ یہ اُن کی زندگی میں سب سے پہلا اور بہترین مشورہ تھا۔ اُس کے بعد بھائی قربان نےاُنہیں بتایا کہ یہاں ایک بہت اچھا طالب علم قانوں کی تعلیم حاصل کر رہا ہے اور وہ اپنے کالج میں طلبہ کا لیڈر بھی ہے ، بڑا اثر و رسوخ ہے ،تعلق ریشن سے ہے اورنام اُس کا خواجہ نظام الدین ہے ۔کراچی میں گل جی کی علمی زندگی میں دوسرا اہم کردار خواجہ نظام الدین کا رہااُنہوں نے گل جی کو سندھ مسلم کالج میں بیچلرز میں ایک حلفیہ بیان جمع کرکے باقاعدہ طالب علم کےطور پر داخلہ دلوایا۔اُن کی طرف سے کالج کو دیے جانے والے تحریری حلفیہ بیان کامتن یہ تھا کہ گل جی چھ مہینوں کے اندراندر ایف۔ اے میں جو مضامین رہ گئے تھے اُنہیں پاس کریگا بصورت دیگر بی۔ اے میں اُن کاداخلہ منسوخ ہوگا ۔ یہ گل جیکےلیے کرو یا مرو کے مصداق عمل تھا۔ گل جی نے اپنی تمام کشتیاں جلا ڈالیں ۔ادھر بھائی قربان نے ہدف مقرر کیا کہ وہ ہر روز کالج سے آنے کے بعد سات گھنٹہ مطالعہ کرے گا ۔ گل جی بتاتے ہیں کہ یہ اُس کے لئے زندگی کا ایک مشکل مگر بےحد فائدہ مند اور خوبصورت موڑ تھا ۔کالج سے واپسی کے بعد سیدھا قائد اعظم کے مزار کے آس پاس جھاڑیوں میں چھپ جاتا اور گہرے مطالعےمیں محو ہوجاتا ۔ نوٹ لکھتا پھر پھاڑ دیتا پھر لکھتا پھر پھاڑ دیتا اور آخر میں کوئی نوٹ بہتر بنتا تو مطمئن ہو جاتے ۔ مطالعے کے دوران وہ ہر تحریر پر دقیق نظر سے تنقیدی نگاہ ڈالتے رہے اور یوں کسی نظریے کو نچوڑ کر اُس کی شہ رگ تک پہنچے بغیر کتاب نہیں چھوڑی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ریاضی اور انگریزی میں اب کی بار سو میں سے ننانوے نمبر لیکر باقی تمام طلبہ سے سبقت لے گئے۔ اس کے بعد بی۔ اے کےلیے ایس ایم کالج میں مزید دو سالوں تک باقاعدہ طالب علم ر ہے۔ 1984 میں( بی۔ اے) پاس ہوا ۔ یہاں یہ بتانا بھی مناسب ہے کہ کراچی میں گل جی کی تمام علمی اخراجات کی زمہ داری قربان نے اٹھائی تھی ۔یوں کراچی یونیورسٹی میں ایم۔ اے اسلامیات میں گل جی کا داخلہ مکمل ہوا ۔ یونیورسٹی کا باقاعدہ طالب علم بننا گل جی لیے معنی خیز بات تھی ۔ اُسی دن یونیورسٹی کمپس میں چلتے چلتے ایک چترالی طالب علم سے ملاقات ہوئی جس نے اُن کی زندگی کے دھارے کو یکسر بدل کے رکھدیا ۔ گل جی کہتے ہیں کہ میری تمام کامیابیوں کا سہرا مختلف لوگوں کے سر سجتا ہے ۔ یہاں ایک طالب علم سے صرف ایک ملاقات نے گل جی کی زندگی کا رخ بدل دیا ۔ ہم اُس طالب علم کے بارے میں اگلی قسط میں گفتگو کریں گے
( تیسری قسط کا انتظار کیجیے ۔)

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔