فکروخیال…عالم ارواح سے قائداعظم کا خط۔.. فرہاد خان ۔

میرے عزیز ہم وطنو ۔ مجھے معلوم ہے کہ ہر سال کی اس سال بھی میری برسی کے موقع پر آپ کو میرے تقاریر اور اس وطن عزیز کی آزادی کے لئے جہدوجہد کی داستانیں سنائی اور دکھائی جائیں گی ۔وطن کے نام بنے کچھ ترانوں کے ساتھ آپ کے لہو گرمانے کا اہتمام بھی کیا جائیگا، ملک پر مسلط حکمرانوں اور ان کے اردگرد ٹولوں میں سے کچھ میرے مزار میں حاضری دیں گے۔سلامی کا اہتمام کیا جائیگا اور ایک دو گھنٹے کی عقیدت و احترام کا بندوبست ہوگا،میرے نام تعریفی کلمات لکھے اور نشر کردئیے جائیں گے اور پھر نشستیں برخاست ہونگی اور سب اپنے اپنے حساب سے آئی ایم ایف کے زیر تسلط اس ملک کو لوٹنے میں مصروف ہو جائنگے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے ملک کی حالت زار کیا ہے اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ملک کی اس حالت زار کے اصل زمہ دار کون ہیں۔ تمہیں کیا معلوم کہ میری روح کو ہر کتنی ازیت پہنچتی ہے۔ جب میں دیکھتا ہوں کہ ملک کے تمام سرکاری دفاتر میں کرسی کے پیچھے دیوار پر میری قد آور تصویر لٹکی ہوتی ہے اور کرسی پر براجمان ہر شخص فرعون بنا ہوا ہے اور ملک کو غرق کرنے میں مصروف ہے ۔ میری روح شدید اذیت میں ہے جب میں یہ سنتا ہوں کہ میرے ملک کے باسی کس مشکل میں ہیں اور جمہوریت کے نام پر ان کے ساتھ کیسے کیسے دھوکے ہورہے ہیں، یہان کی سیاسی رسہ کشی مجھے یہ کہنے پر مجبور کررہا ہے کہ کہیں میں نے اور میرے اس وقت کے ساتھیوں نے متحدہ ہندوستان توڑ کر غلطی تو نہیں کی۔ پچھلے دنوں اقبال سے ملاقات ہوئی ،کہتے ہیں کہ جناح کیا میں نے اس ملک کا خواب دیکھا تھا۔؟ جہان جمہور کی حالت غیر ہے اور پانچ فیصد کے چند لوگ ملک کا کباڑا کرکے عیش و عشرت میں مصروف ہیں۔اقبال نے شکوہ کیا کہ مجھے کیا معلوم تھا کہ میرے افکار ،میری شاعری و میرے بلند و بالا خیالات اور میرا فلسفہ حیات مسلم کا ان لوگون نے کیا حال بنا رکھا ہے۔ میں نے جن کو پوری دنیا پر حکمرانی کا درس دیا تھا آج وہ آئی ایم ایف کے محکوم بن گئے ہیں ۔ محمد علی جناح میں نے سنا ہے کہ پڑوسی ملک چاند پر پہنچ گیا ہے جبکہ ہمارے شاہیں چاند کے نظر آنے یا نہ آنے پر اب تک ایک نہ ہوسکے۔ اقبال کے ان چند دل شکن کلمات سننے کے بعد میں میرے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔ چند منٹ کی مکمل خاموشی چھائی رہی اور پھر میں نے بھی اثبات میں سر ہلایا اور جوابا کہا کہ جی اقبال ، ہمارے شاہیں تو اس قدر بے بس ہیں کہ سن اکہتر میں ہم سے جدا ہونے والا بنگلادیش آج ہم سے معاشی ،تعلیمی ،سماجی و اقتصادی طور پر بہت آگے نکل چکا اور ہم فرقہ در فرقہ ،نسل درنسل و قوم قبیلوں میں بھٹکے ہوئے اغیار کے غلام ہیں ۔ میں نے اقبال سے یہ بھی کہا کہ جن لوگوں کے لئے ہم نے اغیار سے لڑا ،جہدوجہد کی ،نہرو سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ،تخت برطانیہ سے لڑا ، ان کے حقوق اور انہیں ایک آزاد اسلامی مملکت دلوانے کی ہر سعی کی آج ان کی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ واقعی میں ہم سے بہت بھول ہوئی ہے ۔ اقبال کیا ہم نے ان چوہدریوں،نوابوں،وڈیروں اور خانوں ،سیاست دانوں اور ان کے اولادوں کے لئے یہ ملک بنایا تھا کہ جنہوں نے ملک بنتے ہی اس ملک کے زرخیز میدانی علاقوں کے زمینوں سے لیکر ملک کے ہر وسائل پر اپنا قبضہ جما کر ملک کے پچانوے فیصد عوام کو مفلوک الحال بنا دیا ہے اور یہی پانچ فیصد لوگ ملک کے حکمران ہیں ۔ اقبال، ہم نے سر سلطان محمد شاہ آغاخان کی سربراہی میں مسلم لیگ بنا کر اور پھر ان لوگوں کو اور ان کی نسلوں کے بہتر تعلیم و تربیت کے لئے چندہ مانگ مانگ کر تعلیمی ادارے بنائے اور ملک کی آزادی کے لئے اپنی نیندیں حرام کی تھیں افسوس آج ملک جس دھانے پر کھڑا ہے اسے دیکھ کر دل خون کے انسو رو رہا ہے اور ہم بے بس ہیں ۔ملک کی حالت یہ ہے کہ انصاف و قانون کا نام و نشان تک نہیں ،عدالتیں انہی پانچ فیصد لوگوں کے حقوق کے تابع اور غریب کا کوئی پرسان حال نہیں۔قرض میں ڈوبے ملک پر کسی کو ترس نہیں آرہا بلکہ اسے اب بھی دو ہاتھوں سے لوٹا جارہا ۔یہی کہنا تھا کہ اقبال نے کہا کہ بس جناح بس، بہت ہوگیا ،اس دل کو اس سے زیادہ دکھ درد و غم سہنے کی سکت نہیں ہے اللہ انہیں ہدایت دے۔ اور ساتھ ہی اپنے چند اشعار پڑھ کر محفل برخاست کرنے کی اجازت مانگی ۔
وہ کل کے غم و عیش پہ کچھ حق نہیں رکھتا
جو آج خود افروز و جگر سوز نہیں ہے
وہ قوم نہیں لائق ھنگامہ فردا ۔
جس قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔