میری ڈائری کے اوراق سے (گل جی ،پرائمری سے ائی ایس ائی / انفارمیشن افیسر سے دنیا کے اُس پار تک )۔۔۔تحریر: شمس الحق قمرؔ ( تیسری قسط)

ہم نے دوسری قسط میں گل جی کے بارے میں یہ بتایا تھا کہ یونیورسٹی میں ایم ۔اے اسلامیات میں داخلہ لینے کے بعد ایک چترالی طالب علم سے ملاقات ہوئی جس نے گل جی کی زندگی کا دھارا بدل دیا ۔ اُس طالب علم کا نام خوش محمد خان تھا جن کا تعلق اپر چترال کے گاؤں گازین سے تھا ۔ وہ کراچی یونیورسٹی میں لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس میں سال آخر کا طالب علم تھا ۔ ا ُن کے ہاتھ میں کچھ کتابیں اور کچھ نوٹس تھے ۔ میری اُن سے یاد اللہ تو تھی لیکن زیادہ قریبی تعلق نہیں تھا ۔ کراچی یونیورسٹی کے لان میں مجھے ملتے ہی پہلا سوال یہ پوچھاکہ کیا میں آپ کی کوئی خدمت کر سکتا ہوں؟ داخلہ واخلہ کا چکر ہے تو مجھے بتاؤ۔ گل جی نے اُن کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میرا شعبہ اسلامیات میں داخلہ ہو چکا ہے ۔ اس بات پر خوش محمد نے معنی خیز نظروں سے گل جی کی طرف دیکھا پھر اس سے بھی زیادہ بامعنی انداز سے مسکراتے سوال جھاڑ دیا ، اسلامیات میں داخلہ لیا ہے ؟ ‘‘ میں مخمصے کا شکار ہوا وہ میرے چہرے کے تاثرات سے سب کچھ بھانپ کر بڑے مشفقانہ لہجے میں کہا کہ اسلامیات میں داخلہ لینا بڑی اچھی بات ہے کیوں کہ اس کا تعلق ہمارے دین سے ہے لیکن میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ آپ کو یونیورسٹی سے فارغ ہوتے ہی کوئی نوکری کا شوق ہے یا اعزازی طور پر کسی مسجد میں امامت یا خطابت کا ؟‘‘ گل جی کا جواب اُس وقت بھی مختصر تھا ، کہا’’ میں تو فارغ ہوتے ہی کوئی اچھی ملازمت کرنا چاہتا ہوں ‘‘ خوش محمد نے دوبارہ مسکرا کر کہا ’’ میں آپ کو ایک ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ دلواؤں گا فی الحال اُس میں داخلہ لے لو اور پھر اسلامیات میں اپنا شوق پورا کرو‘‘ جس ڈپارٹمنٹ کے بارے میں خوش محمد نے مشورہ دیا تھا وہ لائبیری اینڈ انفارمیشن سائنس تھا ۔ گل جی حیران تھے کہ ایک عام طالب علم کی اتنی کیا وقعت ہے کہ یونیورسٹی کے ایک اچھے شعبے میں کسی اور طالب علم کو داخلہ دلوا سکے ۔ خوش محمد آگے آگے گل جی پیچھے پیچھےسیدھا شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس کے کے چئیرمن کے آفس میں داخل ہوئے ۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ایم ایل آئی ایس کا چیرمن اپنی کرسی سے تعظیماً اُٹھ کھڑے ہوئے اس پر گل جی اور بھی پریشان ہوئے اُس نے سوچا کہ ایک طالب علم کی اتنی عزت ؟ اگرچہ خوش محمد اُن کے بھائی قربان کے پاس آتا جا تا رہتا تھا لیکن اُنہوں نے کبھی بھی نہیں بتایا تھا کہ وہ اپنے یونیورسٹی میں اتنے مشہور طالب علم ہیں ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ شخص واقعی خاص طالب علم تھے کیوں کہ بیچلر اف لائبیری اینڈ انفارمیشن سائنس میں گولڈ مڈلسٹ تھے اور اس وقت سال آخر کا طالب علم تھے ۔ مضمون پر گرفت اتنی مضبوط تھی کہ پروفیسروں کی غیر موجودگی میں طلبہ کو پڑھاتے تھے یہی وجہ تھی کہ ڈپارٹمنٹ میں سب آپ کی عزت کرتے تھے ۔ مختصر یہ کہ خوش محمد کے ایما پر چیر من صاحب نے فوری طور پر گل جی کا داخلہ اسلامیات سے لائبریری اینڈ سائنس تبدیل کروانے کا حکم صادر فرمایا اور گل جی کو کل سے بیچلر اف لائبیری اینڈ انفارمیشن سائنس کی کلاس میں بیٹھنے کی اجازت مل گئی ۔ گل جی کہتے ہیں کہ طالب علم خوش محمد خان کی یہ کاوش گل جی کی زندگی میں پیراڈائم شفٹ تھا جو کہ شاید اُن کی قسمت کی تقویم میں کہیں نہ کہیں پہلے سے رقم تھا ۔ گل جی نے پہلے یہ مضمون پڑھا نہیں تھا لیکن چترال سے کراچی آنے کے بعد پڑھنے کا گر ضرورسیکھا تھا ۔ کتابوں سے شعف پیدا ہوا تھا اور خوش محمد نے بھی یہی بتایا تھا کہ اس شعبے میں پڑھنے کا مطلب کتابوں سے کھیلنے کا دوسرا نام ہے ۔ گل جی نے خوب پڑھنا شروع کیا 1986 کو یہ ڈگری بھی مکمل ہوئی ۔ٹھیک ایک سال بعد یعنی 1987 کو ایم ایل آئی ایس کی ڈگری بھی مکمل ہوئی ۔
ساری ڈگریاں پالاسٹک میں کوڈنگ کرنے کے بعد گل جی نے چترال کےلیے رخت سفر باندھا ۔ دوستوں نے کہا کہ گل جی پاگل ہوا ہے اتنی محنت کے بعد بجائے ملازمت تلاش کرنے کے سڑنے کےلیے واپس گھر جا رہے ۔ گل جی نے دوستوں کو بتایا کہ آب اُس کی آخری ڈگری اور سب سے مشکل ڈگری کا حصول باقی ہے ۔اُس مشکل ڈگری کو حاصل کرنے کےلیے ان تمام ڈگریوں کی تصدیق ضروری ہے جو کالجوں اور جامعات نے دی ہیں ۔ اُس خاص ادارے کی تصدیق کے بغیر ان اسناد کی وقعت کاغذ پر لکھے محض چند حروف کے اور کچھ بھی نہیں ۔
اپنی اسناد پر کائینات کی سب سے معتبر تصدیق کا مہر ثبت کرنے گل جی ایک شام اپنے آبائی گاؤں چرون اویر میں ۵ سال کے بعد اپنے ولدین سے ملے ۔ گل جی کے ماں باپ کی ایک ہی خواہش تھی کہ اُن کا بیٹا ۱۶ جماعت پاس کہلائے ۔ اُس زمانے میں سولہ جماعت پاس ( جوش چھوئے پاس ) کسی خاندان میں خال خال ہوا کرتے تھے ۔ ۱۶ جماعتیں پاس کرنے کے بعد والدین سے ملنا اُن کی زندگی کا خوبصورت لمحہ تھا اور اُن کی خوشنودی، دُعاؤں اور کامیابی کا مہر اپنی اسناد پر لگتے دیکھنا اُن کے لیے دو جہانوں کی دو لت سے کہیں کم نہ تھا جو کہ اب اُسے حاصل ہو چکا تھا ۔ گل جی نصف عشرے کے بعد والدین کی اُمیدوں پر پورا اترنے کے بعد گھر آیا تھا ۔ اِس وقت جب وہ اپنے والدین سے گلے ملے تو اُن کا گھر خوشیوں کے آنسوؤں کے اُمڈتے سمندر کا ایک سنگم بنا ہوا تھا ۔ گل جی نے اپنا بیگ کھولا اور تمام ڈگریاں نکال کر لالٹین کی روشنی میں ایک ایک کر کے والدین کو دکھا دیا کہ یہ آپ کی دعاؤں کے نتائج ہیں اور اب عملی زندگی میں قدم رکھنے کے لئے آپ کی دُعاؤں کا محتاج ہوں۔ والد صاحب اٹھے اور طاق سے قرآن شریف اٹھا کر بیٹے کے سر پر رکھا اور کہا کہ بیٹا ہم تمہیں اللہ تعالی کے اس پاک کلام کے سپرد کرتے ہیں۔ والدین کی یہ محبت اور دعائیں گل کے مستقبل کی تمام کٹھن مسافتوں کے لئے بہترین زاد راہ تھیں ۔ ایک دو دن گھر میں گزارنے کے بعد اُن کے والد نے اُنہیں لیکر نشیبی چترال جاکر ایک مشہور و معرف سیاسی رہنما سے ملنے اور اور ملازمت کی سفارش کرنے کا مشورہ دیا تو گل جی نے زندگی میں پہلی بار اپنے والد کا کوئی مشورہ دل پر پتھر رکھ کر رد کیا اور کہا کہ میں نے آپ کی تربیت ، آپ کی محنت اور آپ ہی کی دعاوں کی کے طفیل تعلیم حاصل کی ہے اور اب میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہوں لہذا اگر آپ چاہتے ہیں تو میں آپ کے ساتھ چترال ضرور آؤں گا لیکن ملازمت کےلیے کسی سیاسی شخصیت کا ہر گز سہارا نہیں لوں گا بلکہ اپنی قابلیت کے بل بوتے پر کوشش کروں گا ۔ والد کے ساتھ چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں بیرے نے ایک اخبار پر روٹیاں رکھ کے لایا ۔ کھانہ کھانے کے بعد گل جی نے از راہ شوق اخبار ا اٹھا کے پڑھنے لگا تو اُس کی نظر ایک اشتہار پر پڑی جس میں لکھا ہوا تھا کہ الیکش کمیشن میں افیسر پوسٹ پر ایک اسامی خالی ہے جس کےلیے اہلیت لائبریری اینڈ سائنس انفارمیشن میں سند یافتہ ہونا اولین شرط ہے ۔ اب درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ کے لیے صرف دو دن باقی تھے جس کےلیے امیدواروں نے مہینہ پہلے درخواستیں دی تھیں ۔اُس زمانے میں دو دنوں میں درخواست اسلام آباد پہنچانا آسان کام نہیں تھا ۔ گل جی کا راستہ کیسے اسان ہوا اور اُس کے بعد کن امتحانات سے گزرے ؟
( اگلی قسط میں آپ کو بتائیں گے )

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔