**صحابہ کرام کےتربیت کا مرحل* * ۔ (21)…*تحریر۔ شہزادہ مبشرالملک*

سورہ فاتحہ پہلی مکمل سورہ کے طور پر نازل ہوئی تھی۔اس میں تربیتی عمل کے لیے حمد اور دعاکاطریقہ بتایا گیا ہے۔ نیک کام کا صلہ اور برے کام کے نقائص بتائے گئے تھے۔ حضرت جبریل امین دوسری وحی سورہ مدثر میں ۔۔۔ نماز۔۔۔ کا حکم لے کر آچکے تھے ۔گھر میں حضور اقدس ﷺ اور حضرت خدیجہ ؓ کو نماز پڑھتے دیکھ کر حضرت علی ؓ بھی ایمان لے إٓے تھے۔ سورہ مدثر میں وضو کا طریقہ سیکھا کر۔۔۔۔ دو دو رکعات۔۔۔ نماز صبح شام پڑھنے کی تاکید کی گئی تھی ۔(کچھ گروہ آج بھی دو دو رکعات صبح و شام کے اس ابتدائی نفلی نمازسے زید پڑھنے کو تیار نہیں ہو رہے) یوں ابتدا ہی میں ۔۔۔ طہارت۔۔۔ ایمان کی علا مت بنی وضو نماز کا جز بنا۔حمد۔تسبح۔وظائف نماز کا حصہ بنے ۔۔۔ نماز ۔۔۔ ہی۔۔۔ ہل ایمان۔۔۔ کی پیچان بنی ۔
اصحاب رسول ﷺ مشرکوں سے چھپ چھپاتے پہاڑوں ۔وادیوں ۔گھاٹیوں میں وقت سحر اور شام ڈھلے ایک ایک ہوکے نکل جاتےاور نماز ادا کرتے۔
وحی ۔۔۔۔جب بھی آتی ۔۔۔۔ توحید۔۔۔کے گوشوں کو منور کرتی رہتی۔ تذکیہ نفس ، مکارم اخلاق،سزاو جزا،جنت و جہنم کے حالات ،،،نصیحت،،، کے دل فریب انداز لیے اتے رہے اور دلوں کے زنگ اترتے گئے ۔۔ روح ۔۔۔ کو ترو تازگی ملتی گئی۔
رسول خدا۔ ﷺ ۔۔۔ خود کتاب حکمت کی تعلیم کے زریعے اصحاب کو دلوں کی صفائی،،، ،اخلاق کی پاکیزگی،،، ،معاملات کی سچائی،،،،عفت کی تربیت دے کر  جہالت کی تاریکیوں سے  اسلام  کی رعنائیوں میں لاتے رہے۔
ان تین سالوں میں افراد کی حد تک دعوت کا کام خفیہ اور انفرادی طور پر جاری رہا۔ حضور ﷺ نے کہیں بھی لوگوں کے مجمعے میں کسی کو دعوت نہ دی ۔
قر یش مکہ کو مسلمانوں کے خیالات اور عقاید میں تبدیلی اور خفیہ عبادت کے لیے پہاڑوں میں نکل جانے کا پتہ چل ہی گیا اور وہ شغل میلے کے طور پر غریب اہل ایمان کو مذاق اور ستم کا نشانہ بنانے میں مزا لیتے رہے۔
مکہ قریش بلکہ پورا خطہ عرب کا مذہبی مرکز تھا یہاں صدیوں سے ان کے مشرکانہ عقاید اتنے مضبوط تھے کہ وہ اس نئے ابھرتے دین کو  کمزور تاتواں لوگوں کی بے راہ روی کا طعنہ دے کر کوئی اہمیت نہیں دے رہے تھے بلکہ قریش کے لڑکوں اور زوراورں کےلیےاہل ایمان کو ستانا ایک مشغلہ سا بن گیا تھا۔
حضور انور ﷺ نےخود بھی ان تین سالوں میں بت برستوں اور ان کے معبدوں کے بارے میں کوٸی سخت بات نہ کی کہ انتشار کے دروازے کھل جاتے۔ یوں تین سالوں تک خاموشی اور حکمت سے  جادہ حق کے نقیبوں کا تربیتی مرحلہ جاری رہا۔ اور وہ آنے والے سخت مراحل کے لئےتیار ہوتے گئے۔
۔۔۔۔بحوالہ۔ محمد رسول اللہ۔ الرحیق المختوم ۔تفہیم القرآن ۔ تجلیات نبوت ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔