دھڑکنوں کی زبان۔۔۔”نئی ڈایریکٹریس تعلیمات ڈاکٹر ثمینہ الطاف صاحبہ کا وژن“۔۔۔محمد جاوید حیات

ہر قوم اور ہر جغرافیہ کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں ۔پنجاب میں ہم گرم چوغہ نہیں پہن سکتے اور نہ چترال میں ہم پینٹ شرٹ پہن کے جنوری میں جی سکتے ہیں حالانکہ ہم ایک پاکستان میں رہتے ہیں اسی طرح ہر قوم ہر معاشرہ اور طبقے کی اپنی تہذیب و ترتیب ہوتی ہے ۔مسلم امہ کے اپنے اقدار ہیں ۔تربیت کے اپنے لوازمات ہیں ۔ویسے بھی اگر تعلیم وتربیت سے عاری ہو تو وہ تعلیم نہیں کہلاتی ۔۔ہم ہنر کو تعلیم سمجھ رکھے ہیں ۔لکھنا پڑھنا ہنر ہے تعلیم نہیں یہ ہنر تعلیم کا ایک لازمی جزو ہے ۔۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر سیکھنے کے عمل میں مشکلات ہوتی ہیں ان میں سے سیکھنے کے عمل میں سختی مشقت اور ان کے ساتھ صبرو برداشت لازمی ہیں ۔۔حضرت امام شافعی رح کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ بچوں کو دھوپ میں کھڑا کرکے خودان کےدرمیان کھڑے ہوکے ان کو پڑھا رہے تھے کسی نے پوچھا کہ امام صاحب بچوں کو دھوپ میں کھڑا کیا ہے فرمایا کہ تعلیم مشقت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی پوچھنے والے نے پوچھا کہ آپ کیوں دھوپ میں کھڑے ہیں فرمایا تعلیم مشقت کے بغیر دی نہیں جاسکتی ۔۔چند سال پہلے یورپ سے متاثر صاحباں اختیار کاجو نعرہ آیا ” مار نہیں پیار “ اس نے پورے سسٹم کو متاثر کیا ۔۔۔اساتذہ کو ایک بہانہ سا مل گیا ۔۔گھوڑا بھیج کر پاٶں پھیلا کر سو گئے کہ مار پر پابندی ہے ۔ایک پیشہ ور اور مخلص معلم کے لیے یہ کوٸی بہانے نہیں تھے ۔۔میں نے بیانیے کے آنے پر ایک آرٹیکل لکھا تھا ” مار سے پیار “ اس آرٹیکل کے چھپنے کے بعد پیشہ ور اساتذہ نے تعریف کی اور بعض نے کہا کہ تو سسٹم کے خلاف جارہا ہے ۔٠ہمارا سسٹم یورپ سے مختلف ہے ہم ننگے معاشرے میں نہیں رہتے ہم مادر پدر آزاد نہیں ہیں ۔۔ہماری تہذیب ہمارالباس ہمارا پردہ ساٸنسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہیں ان یورپی متاثریں کے یہاں تک دلاٸل ہیں کہ مذہب ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔ ہمارے اداروں کے اندر پھر سے اس سسٹم کو لانے کی ضرورت ہے جس میں پیار اور مار کے درمیان کا راستہ تھا خوف اور شاباش دونوں کے مناظر تھے ۔بچہ استاذ سے خوف بھی کھاتا ان کی محبت کو انجاٸی بھی کرتا ۔۔۔تشدد اور مار میں فرق ہے ۔۔اگر کوٸی استاذ کسی بچے کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے تو وہ انسان ہی نہیں کہلاتا اس کو معلمی کا حق نہیں پہنچتا ۔۔ہم نے سزا کو تشددہی سمجھ رکھے ہیں ۔۔۔محترمہ ثمینہ الطاف صاحبہ واقع ماہر تعلیم ہیں ان کو کلاس روم کے اندر کے ماحول کا احساس ہے ۔ ان کو ہماری اور ہمارے بچوں کی تربیت کا احساس ہے ۔۔ہمیں امید قوی ہے کہ آپ اداروں کے تعلیمی ماحول کو پھران روایات پہ ڈالیں گی جو ایڈیل کہلاتی تھیں ۔۔ساٸنس کی تعلیم عملی طور پر دی جاتی اس کو پریکٹیکل کہا جاتا سکولوں کے اندر لیبارٹریز کو اکٹیو کیا جاتا ۔امتحانی ماحول کو نتاٸج کی بنیاد بنایاجاۓ گا خواہ وہ داخلی ہیں یا بورڈ کے ہیں بورڈ کے امتحانات ۔۔اگزیم || کے نام پہ جو کچھ ہو رہا ہے حیرانگی ہے ۔۔۔خود میرے بچے نے جب ایک ہزار سے زیادہ نمبر لیا تو میں حیران و پریشان اور انگشت بدندان رہ گیا ۔۔ہم بورڈ کے ٹاپ ٹن کے پیپر ڈاون لوڈ کرکے چیک کرتے ہیں تو غلطیاں نکلتی ہیں ۔نتاٸج کا معیارایسا نہیں ہوناچاہیۓ ۔۔ہمیں سابق سیکریٹری شاہ صاحب کی کاوشوں کی قدر ہے ۔۔محکمے میں اسی طرح پرخلوص لوگوں کی ضرورت ہے ۔۔لیکن پہلے اساتذہ کے مساٸل بھی کوٸی چیز ہیں ۔۔ہمیں ان شااللہ امید قوی ہے کہ محترمہ ہمارے تعلیمی ماحول کو کسی کی اندھی تقلید کے بغیر بناٸیں گی ۔۔ہمارے اقدار کا تحفظ ہو ۔۔ہمارے بچے ہنرور اور کارآمد بن جاٸیں ۔۔۔سزا کی حمایت کرنے والے کوٸی نہیں لیکن شتر بے مہارہونا نااہلی کی دلیل ہے ۔۔۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔