میری ڈائری کے اوراق سے..(گل جی، پرائمری سے ائی ایس ائی/ انفارمیشن افیسر سےدنیا کے اُس پارتک)..( قسط نمبر5)۔۔تحریر شمس الحق قمر

گل جی کے بارے میں چوتھی قسط میں ہم نے یہ بتایا تھا کہ اُنہوں نے 1988 سے 1990 تک الیکشن کمیشن میں لائبریری اینڈ انفارمیشن افیسر کے طور پر اپنے فرائض انجام دیے ۔ ایک جستجو تھی خوب سے خوب تر کی ۔ زندگی کو ہر رنگ میں دیکھنا چاہتے تھے اور ہر زاویے سے دیکھنے کا اتفاق ہوا بھی ۔ اب کی بار آئی ایس آئی کے چیف حمید گل کا آمنا سامنا ہوا ۔ پہلی والی ملازمت کیوں چھوڑی اور آئی ایس آئی میں کن مراعات کے ساتھ کام کیا اور پھر یہ ادارہ کیوں چھوڑا ؟ دلچسپی سے خالی نہیں ۔ ایک دن سنا یہ گیا کہ پاکستان میں ایک ادرہ ہے جس کا کام ملک کی سالمیت کےلیے ذہنی کاشوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سخت کوشش سے کام کرنا ہے ۔ اُسی ادارے میں گریڈ 17 کی اسامی خالی ہے ۔ گل جی نے بھی کاغذات داخل کیے ۔ ۔ گل کا کہنا ہے کہ یہ نہیں معلوم کہ پاکستان سے کتنے درخواست گرازوں میں سے وہ برگزیدہ ہوئے تھے ۔ موصوف کے ساتھ اس پوسٹ کےلیے پاکستان سے 28 اُمیدوار اہل ٹھہرے تھے درخواست جمع کرنے کے بعد گل جی کے بارے میں تفتیش کا ایک نہ رکنے ولا سلسلہ شروع ہوا مثال کے طور پر گل جی کہاں سے ہے، آباو اجداد کہاں سے آئے ہیں ، والد کیا کام کرتا ہے ، کہاں کہاں گیے ہیں ، کتنے بہن بھائی ہیں ، علاقےمیں کسی کے ساتھ کوئی ناچاقی ، پولیس میں کوئی کیس حتی کہ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں رہا جس میں ہاتھ نہ ڈالا گیا ۔ یہاں تک کہ گل جی کے گاؤں میں غیر موجودگی کے باوجود گاؤں میں پولیس کی بار بار در اندازیاں ہوتی رہیں ۔ آخر کار انٹر ویو کی تاریخ آن پہنچی ۔ انٹرویو پینل میں تین سولئین تھے جن میں ایک گل جی اور دو اُسی پینل کے ممبرز ۔ باقی سب چاندی اور پتل کے چاند تاروں سے مزئین خاکی وردی میں انجان چہرے تھے اور سا منے گلی جی اپنی آہنی ذہنی قویٰ کے ساتھ ہر سوال کے جواب کےلیے تیار تھے ۔ اُنہوں نے زندگی میں اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے یا اپنی تشریح کرتے ہوئے کبھی بھی یہ نہیں دیکھا کہ سامنے کون بیٹھا ہوا ہے ۔ کسی سوال کاکوئی جواب چاہے غلط ہو یا درست جیسے بھی آتا بہت ہی معنی خیز اور مختصر پیرایئے میں بتا دیتے ۔ انٹرویو سے خوف زدہ ہونا اُن کی ڈکشنری میں نہیں تھا کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ سوال جواب ہی تو ہے مجرم تھوڑا ہوں کہ غلط جواب سے جیل جاؤں ۔ پینل کے سامنے دبنگ انداز سے حاضری دی ۔ جنرل ضیا کے دور کا ابھی ابھی خاتمہ ہوا تھا ۔ 90 کی دہائی افغانستان سے تعلق استوار کرنے کے حوالے سے پاکستان کےلیے خاص اہمت کی حامل تھی ۔ یہ وہ وقت تھا جب افغانستان میں گل بدین حکمت یار مجاہدین کے خلاف محاز آرا تھے اور پاکستان اُس جنگ کی حمایتی تھا۔ روس واپس ہوا تھا اور ادھر سے انڈیا دراندازی کی کوششوں میں مصروف تھا ۔ گل جی چونکہ ایک لائبریرئن تھے لہذا ہر ٹوٹتی خبر اور ہر نئی کتاب اور ہر نیے واقعے سے اپنے آپ کو باخبر رکھتے تھے ۔ گل جی سے حمید گل کا انٹر ویو ان تمام حالات کا احاطہ کیے ہوئے تھا۔گل جی کو جو درست معلوم ہوا وہی جواب دیا یوں حمید گل اور اُس کی ٹیم کی دلچسپی بڑھتی گئی سوال پر سوال دھرتے رہے اور گل جی نپے تلے جواب دیتے رہے ۔ چالیس منٹ کا انٹر یو اور چالیس سوالات ، جو کہ سب حمید گل نے پوچھے۔ اُن چالیس سوالات میں سے مضمون سے متعلق صرف دو عام سوالات پوچھے گئے باقی تمام تعلقات عامہ سے متعلق تھے ۔ آخری سوال کے دوران حمید گل گویا ہوئے ’’ hold on , hold on باقی ممبروں کا کوئی سوال ہے ؟‘‘ ، سب نے بولا کہ کوئی اور سوال نہیں ہے ۔ حمید گل اپنی سیٹ سے اٹھے اور دونوں ہاتھو ں سے گل جی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ٹیم سے مخاطب ہوئے’’ مجھے جس آدمی کی تلاش تھی وہ مل گیا ہے‘‘ پھر گل جی سے مخاطب ہوکر کہا ’’ مسٹر گل آپ کو اوفر لیٹر ملے گا اُس لیٹر میں آپ کے پوزیشن کے کلیدی کردار اور ذمہ داریاں تفصیل سے درج ہیں ۔ آپ کے پاس سات دن کا وقت ہے اگر یہ ملازمت اُس لیٹر میں درج شرائط کے ساتھ آپ کو پسند آئے تو اپنا دستخط کرکے واپس بھیجدیں اور پسند نہ آئے تو بھی سات دنوں کے اندر اندر اطلاع کیجیے ‘‘ حمید گل کے یہ الفاظ آج بھی گل جی کو یاد ہیں ۔ گل جی انفارمیشن آفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ گل جی کا خیال ہے کہ اس سے زیادہ سخت مگر بے حد نظم و ضبط کی نوکری پاکستان میں کسی اور ادارے میں شاید نہیں ہوگی ۔ یہاں سخت ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ آسائشیں بھی بہت تھیں لیکن گل جی کا بریک ہر دو سال کے بعد ایک مرتبہ فیل ہوتا تھا ۔ اسلامک یونیورسٹی میں 17 گریڈ کی ایک اور ملازمت کے اشتہار نے اپنی طرف رغبت دلائی ۔ یوں خفیہ کام چھوڑنا پڑا ۔ گل جی کے مطابق اس ادارے میں آنا جتنا مشکل ہے اِسے چھوڑنا اس سے بھی زیادہ کٹھن ہے ۔ گل جی کو نوکری چھوڑنے کے سلسلے میں دوبارہ حمید گل کے رو برو ہونا پڑا
(ہم یہ ساری کہانی چھٹی قسط میں آپ کو بتا دیں گے انتظار کیجیے گا)

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔